شیخ زید ہسپتال ، غریبوں کے علاج کیلئے وزیر اعلٰی کی ہدایات نظر انداز ، 273ڈائریکتو گم ہو گئے

شیخ زید ہسپتال ، غریبوں کے علاج کیلئے وزیر اعلٰی کی ہدایات نظر انداز ، ...

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے اہم ترین مرکز صحت شیخ زید ہسپتال میں غریب مریضوں کے مفت علاج ومعالجہ کے لئے ایوان وزیراعلی کی طرف سے خادم اعلی کی ہدایت پر جاری کئے گئے ڈائریکٹو میں سے 273غریب مریضوں کے ڈائریکٹوگم کردیئے گئے ہیں جبکہ درجنوں مریضوں کو مفت علاج معالجہ کے لئے جاری کئے گئے ڈائریکٹوپر عمل درآمد کی بجائے انہیں واپس کردیا گیا ہے ،یہ ڈائریکٹولے کر غریب مریض واپس ایوان وزیراعلی پہنچ رہے ہیں اور شدید احتجاج کررہے ہیں ،دوسری طرف ہسپتال کی انتظامیہ من مانی کرتے ہوئے مفت علاج معالجہ کے لئے جاری کئے گئے وزیراعلی کے ڈائریکٹوز پر مفت علاج معالجہ کی سہولت دینے کی بجائے 3سے 5ہزار روپے پر مریض داخلہ فیس کے نام پر بٹور رہی ہے ،یہ پیسے بیڈز کے نام پر اور داخلہ فیس کے نام پروصول کئے جارہے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ شیخ زید ہسپتال میں وزیراعلی پنجاب کی طرف سے مفت علاج معالجہ کے لئے جاری کئے جانے والے ڈائریکٹو ز کو ہسپتال کی انتظامیہ نے ردی کی ٹوکریوں کی نظر کرنا شروع کردیا ہے اور ان کی اہمیت ٹکے ٹوکری کردی ہے ،چالاک انتظامیہ جس دن کے لئے ڈائریکٹو جاری ہوتا ہے اس تاریخ کو ڈائریکٹو وصول نہیں کرتی اور اس پر اگلے دن وصولی ڈالتے ہیں اور اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے 3ہزار سے 5ہزار روپے فیس وصول کرلیتے ہیں ،فیس نہ دینے والے مریضوں کو بیڈز نہ ہونے کابہانہ بنا کر داخلہ نہیں ملتااور انہیں ذلیل وخوار کیاجاتا ہے ،ڈائریکٹو لے کر شیخ زید ہسپتال جانے والے مریضوں کو ایڈمنسٹریٹر اور ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کے دفاتر کے درمیان فٹ بال بنا دیا جاتا ہے ۔ پنجاب حکومت کی طرف سے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں داخلہ فیس ایک روپے جبکہ داخلہ وارڈ میں داخل ہونے کی فیس 20روپے ہے مگر شیخ زید ہسپتال کا بابا آدم ہی نرالا ہے یہاں ایمرجنسی میں 50روپے پرچی فیس جبکہ وارڈز میں داخلہ کے لئے 3،5،10اور20ہزار روپے تک وصول کرلئے جاتے ہیں ۔یہ فیس وزیراعلی پنجاب کی طرف سے مریضوں کے مفت علاج معالجہ کے لئے جاری ہونے والے چیف منسٹرز ڈائریکٹوپر بھی مختلف بہانوں سے وصول کرلی جاتی ہے ۔ڈائریکٹولے کرجانے والے مریضوں کو اس قدر "زچ "کیا جاتا ہے کہ وہ ڈائریکٹو پھینکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔گزشتہ روز ایک درجن سے زائد مریض ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے جاری کئے گئے مفت علاج معالجہ کے ڈائریکٹو واپس لے کرایوان وزیراعلی پہنچ گئے اور انہوں نے مختلف ،سیکرٹریز ،ایڈیشنل سیکرٹریزاورڈپٹی سیکرٹریزکی طرف سے جاری کئے گئے مفت علاج معالجہ کے ڈائریکٹو انہیں واپس کردیئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایڈمنسٹریٹرز بیرون ملک جارہے ہیں ،ان کی جگہ قائم مقام ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر شفیق دفتر میں ملتے ہیں ،اگر ملتے ہیں تو ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر زیدی کے پاس بھیج دیتے ہیں جو واپس ایڈمنسٹریٹر کی پی ایس او کے پاس روانہ کردیتے ہیں جو آگے ریفر کردیتے ہیں اور آخر کار آخری سیکشن کے افراد اس ڈائریکٹو پر مفت علاج معالجہ دینے سے معذرت کرلیتے ہیں ۔اس پر ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر زیدی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ بعض ڈائریکٹو جو مریضوں کی درخواستوں پرجاری ہوتے ہیں ان میں علاج معالجہ مفت فراہم کرنے کا حکم تو موجو د ہوتا ہے تاہم ایسے مریض جن کے علاج معالجہ پرلاکھوں روپے خرچ آتا ہے ہسپتال اتنے پیسے مفت فراہم کرنا برداشت نہیں کرسکتا ،ایسے ڈائریکٹو پر معذرت کی جاتی اور وزراعلی کو لکھا جاتا ہے کہ اگر وہ ان مریضوں کا علاج مفت چاہتے ہیں تو ان کے لئے پیسے جاری کئے جائیں۔ہسپتال کوشش کررہا ہے کہ تمام مریضوں کو بہترین سہولتیں فراہم کرے مگر یہ ممکن نہیں ہے ،داخلہ فیس ہرمریض سے لی جاتی ہے تاہم یہ فیس وصول کرنا ہسپتال کی پالیسی ہے ۔اس حوالے سے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ وزیراعلی کے ڈائریکٹو پر عمل درآمد نہ کرنے والی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کریں گے ،اس کی تحقیقات ہوں گی اور جن ڈائریکٹوپر بھی داخلہ فیس 3سے5ہزار روپے وصول کی گئی ہے یہ سراسر زیادتی ہے اس کا حساب ضرور لیں گے ، انہوں نے کہا کہ سیکرٹری صحت سے اس کی تحقیقات بھی کرائیں گے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1