کام کرنا نواز شریف سے سیکھو!

کام کرنا نواز شریف سے سیکھو!

نواز شریف میں ہزار خامیاں سہی، مگر کام کی لگن اور کچھ کرنے کا عظم اُن کی کاوشوں سے عیاں ہے ۔ بیماری کے دوران افواہوں کا بازار گرم ہو گیا، یوں لگا کہ جیسے عنقریب وزیر اعظم پاکستان اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے، لیکن وزیر اعظم نے اپنے کم بیک سے ناقدین کو حیران کر دیا اور اپنے الفاظ واپس لینے پر مجبور کر دیا ۔ وزیر اعظم کسی بھی قومی رہنماکی طرح نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کی نوجوان نسل پر سو شل میڈیا کے اَثرات بہت گہرے ہوچکے ہیں جو نوجوانوں کی سُستی اور کاہلی کی شکل میں رونما ہو رہے ہیں ۔اس نفسا نفسی کے عالم میں وزیر اعظم کی بیماری کے بعد کی کاوشوں کا تذکرہ اس لئے کر رہا ہوں تاکہ ہمارے نوجوان اس سے کچھ سبق حاصل کر یں اور اپنے قائد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ، محنت شاقہ سے پاکستان کی تقدیر بدلنے میں اپنا فعال کردار اَدا کریں ۔ میاں نواز شریف جب طویل علالت کے بعد پاکستان تشریف لائے تو اپنے سیاسی رفقاء کو اکٹھا کر کے آ گے کا لائحہ عمل تیار کرنے کی سعی شروع کر دی۔ 22جولائی کو میاں نواز شریف نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹینگ بلائی اور ضرب عضب کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور کراچی کے حالات پر بریفنگ لی۔

آزاد کشمیر کے الیکشن بھی ایک بہت بڑا مر حلہ تھا ، نواز شریف نے 27جولائی کو آزاد کشمیر کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا اور تمام امورنمٹائے ۔ ٹھیک دو روز بعد یعنی 29جولائی کو میاں نواز شریف نے 7گھنٹے طویل بیٹھک کی جس میں ملک میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا ۔ میاں نواز شریف کی انتھک محنت کا سفر یہا ں ختم نہیں ہو ا ، 3اگست کو وزیر اعظم نے توانائی کے مسائل پر ایک طویل نشست کی،اقتصادی راہداری (CPEC)پر غور کیا اور فیصلے صادر کئے ۔3اگست کو ہی نواز شریف نے سفراء سے خطاب کیا اور خطے کے استحکام اور دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے موقف کو پیش کیا ۔ کشمیر کا مسئلہ اس گفتگو میں سر فہرست رہا۔

4اگست کو میاں نواز شریف نے سارک کانفرنس برائے وزرائے داخلہ سے خطاب کیا، بھر پور طریقے سے پاکستان کے موقف کو پیش کیا ۔تاریخوں کے حساب سے وزیر اعظم کی مصروفیات عوام کے سامنے رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے نو جوان اورمیاں نواز شریف کے سیا سی مخالفین کچھ سبق سیکھیں اور اپنے ذاتی مفادات اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی ترقی میں اپنا بھر پور کردار اَدا کر یں ۔ افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ نوازشریف کی انتھک محنت اُن کے سیاسی مخالفین پر عیاں نہیں ہو رہی اور وہ بد ستور بضد ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کو گراکر ہی دم لیں گے ۔ حالات اگر یونہی چلتے رہے تو نواز شریف کی محنت اور لگن سے کئے گئے کاموں کے مثبت اثرات دھرنوں کی سیاست اور سیاسی چیقلش کی نذر ہو جائیں گے اور عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ۔بدلتے ہوئے سیاسی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے مثبت پہلوؤں کو پاکستان کی بقا کی خاطر اُجاگر کریں اور اپنی سیاسی مخالفت کے لئے پاکستان کے استحکام کو داؤ پر نہ لگائیں۔ نواز شریف نے جن ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ہے، اُس کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے ۔ ایک اچھے رہبر میں یہی صفت ہوتی ہے کہ وہ وقتی حصار میں قید ہونے کی بجائے طوی المدتی پلاننگ کرتا ہے ۔ ہم سب کو نواز شریف سے سیکھنا چاہیے ۔

مزید : کالم