یونان کے مہاجر کیمپوں میں خواتین سے وحشیانہ اور انسانیت سوز سلوک

یونان کے مہاجر کیمپوں میں خواتین سے وحشیانہ اور انسانیت سوز سلوک

ایتھنز (این این آئی)یونان میں جنگ زدہ علاقوں سے پناہ کے لیے غیر قانونی طور پر آنے والی تارک وطن خواتین اور خاص طور پر دوشیزاؤں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جارہا ہے اور بعض کے ساتھ تو ان کے قریبی رشتے دار مرد ہی انسانیت سوز سلوک روا رکھ رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک شامی مہاجر لڑکی وردہ نے تھامس رائیٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ افغان مرد خاص طور پر نوجوان دوشیزاؤں کو ہراساں کرتے ہیں۔انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ میں ایک مسلمان ہوں اور کسی کی منگیتر ہوں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ عراق اور شام سے یورپی سرزمین پر پناہ کی تلاش میں آنے والی خواتین کو ہرقسم کے تشدد ،استحصال اور جنسی ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے۔اٹھارہ سالہ احمد حمود اور اس کا خاندان بھی ان تارکین وطن میں شامل ہے جنھیں پناہ گزین کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑرہا ہے۔انھیں دو راتیں ایک پارک میں سونا پڑا تھا۔احمد کے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا۔

اس نے طبی امداد کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔اس کے بعد وہ لیسبوس اور کارا تیپ میں واقع ایک مہاجر کیمپ میں واپس چلے گئے۔اس نے اپنی دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ پہلی رات تو ہماری بہت بْری گزری لیکن دوسری رات بدتر تھی۔اچانک مجھے کراہنے اور رونے کی آواز سنادی۔میں سمجھا کہ یہ میری بہن ہے لیکن یہ میری والدہ تھیں۔جب میں نے چند سیکنڈز کے بعد اپنی ماں کو دیکھا تو چار مرد ان پر حملہ آور تھے۔میں ان تک پہنچا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور میں ان کو پہچان نہیں سکا۔اس نے افسردگی کے عالم میں بتایا کہ وہ چاروں میری والدہ کی جبری عصمت ریزی کی کوشش کررہے تھے۔انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انھوں نے میری والدہ کو زخم لگائے اور جسم کے حصوں کو جلا بھی دیا اور اس کے بعد سے وہ رو اور کراہ رہی ہیں۔اس واقعے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ واقعے کے اگلے روز جب احمد حمود اور ان کے خاندان نے یونانی حکام سے مدد کے لیے رجوع کیا تو انھوں نے یہ جواب دیا کہ اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔اس کے بعد پولیس کو ان کی حفاظت کے لیے بلا بھیجا گیا۔

مزید : عالمی منظر