تین مرحلوں میں ہونے والا دہشتگردی کا منفرد واقعہ

تین مرحلوں میں ہونے والا دہشتگردی کا منفرد واقعہ

دہشتگردی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آ گیا ہے۔15جون 2014ء کو افواج پاکستان کی طرف سے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردانہ کارروائیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ آیا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تخریب کار زیر زمین چلے گئے یا پسپا ہو گئے ہیں، ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری پید اہو ئی تھی اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا، کچھ عرصے کے توقف کے بعد دہشتگردی کے اکا دکا واقعات ضرور رونما ہوتے رہے لیکن ضرب عضب سے پہلے جس تسلسل اور تواتر کے ساتھ کارروائیاں جاری تھیں وہ سلسلہ تھم گیا۔ لیکن منگل 16دسمبر2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دن دیہاڑے جو ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی کی گئی اس سے صاف ظاہر ہوتاتھا کہ دہشتگردوں کے حوصلے پسپا نہیں ہوئے اور انہوں نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے محض دانستہ عارضی خاموشی اختیار کی ہے اور اب بھی تاک میں بیٹھے ہیں کہ جب اور جہاں موقع ملے اپنا کام دکھا دیں، اے پی ایس پشاور پر حملہ تو افواج پاکستان کو کھلا چیلنج تھا۔ ہماری بہادر افواج نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا اور ملک کے طول و عرض میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آرمی پبلک سکول کے ذمہ دار دہشتگرد بھی نا صرف اپنے انجام کو پہنچنے بلکہ دیگر واقعات میں ملوث تخریب کاروں پر عرصہ حیات بھی تنگ کیا گیا۔

2015ء میں اگرچہ دہشت گردوں کی کارروائیاں قدرے کم رہیں لیکن واقعات ضرور ہوتے رہے۔ تاہم 2016ء میں دہشتگردی کا فتنہ پھر سر اٹھا تا دکھائی دیا۔ اس دوران کوئٹہ، مردان ، چار سدہ، لاہور اور کراچی میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ۔ کوئٹہ کے پولیو سنٹر میں بم دھماکہ کے دوران کم و بیش 15افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ باچا خان یونیورسٹی مردان میں حملہ آوروں کی فائرنگ کے خوفناک واقعہ کے دوران 20افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں 9افراد جاں بحق متعدد زخمی ہو گئے اسی طرح خیبرپختوخوا کے ضلع چار سدہ میں سول کورٹ میں خودکش حملے کے دوران 10افراد جاں بحق اور 15زخمی ہوئے۔ پشاور میں سرکاری ملازمین کو لیجانے والی بس میں بم دھماکے کے دوران 17ملازمین ہلاک اور کم از کم 53مضروب ہوئے، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے گلشن اقبال پارک میں تو قیامت ٹوٹ پڑی جب خودکش حملے کے دوران 74شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اسی طرح جون کے آخری ہفتے میں کراچی کے با رونق علاقے میں عالمگیر شہرت کے حامل قوال امجد صابری کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

ملک کے طول و عرض میں سال رواں کے دوران کئی اور چھوٹے موٹے واقعات بھی سامنے آئے لیکن متذکرہ بالا قابل ذکر وارداتوں نے تو ملک کے امن و امان کو بڑی بری طرح متاثر کیا۔ امجد صابری کی شہادت کا غم بھولنے نہ پایا تھا کہ گزشتہ روز یعنی 8اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں فائرنگ کے بعد خود کش حملہ ہو گیا ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دوران کم و بیش 63افراد جاں بحق اور درجنوں گھائیل ہو کر ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔ فائرنگ کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ پر خود کش حملہ اس وقت کیا گیا جب منوجان روڈ پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کا سی کا جسد خاکی سول ہسپتال لایا گیا۔ اس وقت وکلا اور صحافیوں سمیت سول سوسائٹی کے متعدد افراد سول ہسپتال میں موجود تھے۔ عینی شاہدوں نے اس موقع پر بتایا کہ پہلے ہسپتال میں موجود افراد پر سیدھی فائرنگ کی گئی پھر خودکش حملہ ہو گیا۔ جس سے ہسپتال میں بھگدڑ مچ گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ ہسپتال میں زیر علاج مریض، ان کے لواحقین اور بار کونسل کے مقتول صدر کی ہلاکت پر احتجاج کرنے آنے والے شہری یا کوریج کو پہنچنے والے میڈیا پرسنز دیوانہ وار بھاگتے دیکھے گئے۔ خودکش حملے کے بعد ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ کچھ مریض اور ان کے لواحقین پاؤں تلے روندے گئے۔ ہسپتال کے اندر سے گھنٹوں تک رونے، چیخنے، چلانے اور کراہنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

جاں بحق ہونے والوں میں وکلا کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اس دوران بلوچستان کے معروف قانون دان اور بار کے سابق صدر باز محمد کاکڑ بھی شہید ہو گئے۔ وہ آج کل میگا کرپشن کیس میں گرفتار صوبائی مشیر خزانہ خالد لانگو کے کیس کی پیروی کر رہے تھے۔ ٹی وی کے ایک کیمرہ مین سمیت دو صحافی بھی شہدا کی فہرست میں شامل ہیں۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے تفتیشی ماہرین کا خیال تھا کہ اس حملے کا اصل ٹارگٹ وکلا ہی تھے اور اس مر کا غالب امکان بھی موجود ہے کہ حملے میں وہی گروپ شامل ہے جس نے بار کے صدر بلال انور کاسی کو قتل کیا ہے یاکروایا ہے۔ ماہرین نے واقعہ میں خودکش حملے کی بھی تصدیق کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس میں 8کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے۔ جس میں بڑے سائز کی کیلیں اور بال بیرنگ استعمال کئے گئے ۔ جس وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

جہاں تک رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا تعلق ہے تو یہ صوبہ طویل عرصے سے بد امنی کی لپیٹ میں ہے چھوٹے موٹے واقعات تو آئے روز ہوتے رہتے ہیں لیکن دہشتگردی کی بڑی وارداتیں بھی معمول ہیں ۔جغرافیائی اعتبار سے صوبے کی سرحدیں زیادہ محفوظ تصور نہیں کی جاتیں ۔دوسرے صوبوں سے در اندازی یا مداخلت زیادہ مشکل کام نہیں ہے ۔ بھارتی اثر و رسوخ کے ماضی میں ثبوت بھی ملتے رہے ہیں جبکہ بلوچستان سرحد سے متصل افغان صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین سے آزادانہ آمد و رفت بھی ایک پرانا مسئلہ چلا آ رہا ہے ۔چاغی ضلع میں واقعہ شمالی شہر نوشکی میں کئی بار قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن کئے اور دہشتگردوں کے نیٹ ورک پکڑے گئے ۔بھارت نے ایران

کے ساتھ لگنے والے اسی علاقے میں چاہ بہار سے اوپر تک سڑک بھی تعمیر کروائی ہے ۔ جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لئے ان سرحدی علاقوں کی کڑی نگرانی کی جانی ضروری ہے ۔سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے دور سے آج تک بلوچ قبائل کے اندرونی معاملات اور ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں خطرناک حدیں چھوتی رہی ہیں ۔موجودہ دور میں مختلف بلوچ قبائل کی طرف سے ہتھیار ڈالنے اور استحکام پاکستان کے عزم کا اظہار کرنے کی باتیں خوش آئند ہیں لیکن اس کے باوجود صوبائی ترقی اور قومی دھارے میں بلوچستان کی شمولیت کا معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہو پایا ۔سابق وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ اور موجودہ وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کی طرف سے امن و امان کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو نا کافی قرار دیا جا رہا ہے اور بلوچ قبائل کے کئی سرداروں کی جانب سے یہاں تک کہا گیا کہ ہمیں پاکستانی نہیں سمجھا جاتا اور بلوچوں کی حق تلفی کی جا رہی ہے ۔ حال ہی میں نیب کی جانب سے بلوچستان میں کرپشن کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں انہیں بھی بعض اطراف سے انتقامی کارروائی قرار دیا گیا یہ تمام معاملات ایسے ہیں جنہیں مجتمع کر کے دیکھا جائے تو حالات کا اندازہ کرنا مشکل نہ ہو گا ۔

بلوچستان کے حوالے سے ایک اہم پہلو پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی ہے گوادر سے صوبہ سندھ کی سرحد تک سی پیک منصوبہ جن جن علاقوں سے گذر رہا ہے وہاں کی سکیورٹی ایک اہم مسئلہ ہے اس بارے میں سامنے آنے والے اعتراضات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے ابھی گزشتہ دنوں پکڑے جانے والے بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو نے بھی انکشاف کیا تھا کہ ہمیں سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کا مشن سونپا گیا تھا ہم نے اس منصوبے کو پروان چڑھنے سے روکنا تھا اور ایسے اقدامات کرنا تھے جن سے افراتفری پھیلے ۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والا سانحہ اسی کلبھوشن منصوبے کا حصہ ہو یعنی اقتصادی راہ داری منصوبے میں امن و امان کی رکاوٹ کھڑی کر کے مذموم مقاصد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہو ۔ویسے تو سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ اور بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کا اندوہناک قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں آج تک دہشتگردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں ان میں سے یہ واقعہ ذرا مختلف ہے ۔ پہلے کوئٹہ کی معروف شاہراہ منو جان روڈ پر بار کے صدر بلال انور کاسی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ،وکلاء اس واقعہ پر احتجاج کرنے اور مقتول کی میت لینے سول ہسپتال پہنچے تو پہلے ان پر فائرنگ کر دی گئی اور بھگدڑ مچی تو خودکش حملہ ہو گیا یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تین مختلف مرحلوں میں دہشتگردی کے ایک واقعہ کی تکمیل کی گئی ۔وکلاء کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ میڈیا پرسنز اور مریضوں یا لواحقین کو نشانہ بناکر کسے کیا پیغام دیا گیا ؟اس سوال کا اصل جواب تو سانحہ کوئٹہ کے تمام پہلو ؤں کی باریک بینی سے تفتیش کے بعد سامنے آئے گا لیکن اب تک مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق اس واقعہ میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکانات رد نہیں کئے جا سکتے اندرونی معاملات کو بھی دوران تفتیش مدنظر رکھنا ہو گا لیکن اس سانحہ کو ٹیسٹ کیس بنا کر تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تفتیش کی جائے گی تو پس پردہ حقائق بھی سامنے آئیں گے ۔دہشتگردی کے اس واقعہ میں انصاف سے تعلق رکھنے والی وکلاء برادری ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ،محکمہ صحت کے ہسپتال اور عام شہری ہر شعبے کو ٹارگٹ کیا گیا ہے لیکن اصل ہدف کون تھا اور یہ واقعہ کس کے لئے پیغام ہے اس بات سے پوری قوم کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے ۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض قوتیں ملک کا مجموعی امن و امان تباہ کرنے کے در پے ہیں۔ پنجاب میں بچوں کے مبینہ اغواء کی اوپر تلے ہونے والی وارداتیں ، کراچی میں امجد صابری کی شہادت ،خیبر میں آئے روز ہونے والی دہشتگردی سمیت دیگر واقعات کو بعض افراد ایک ہی سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض تجزیہ کار امن و امان کے ان واقعات کو سیاسی عینک لگا کر دیکھ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے دھرنے، ریلیاں اور احتجاج کو بھی اسی پیرائے میں دیکھا جائے تو بات آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے ۔ یہ تو جانچنے اور پرکھنے کا اپنا اپنا انداز ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے والی ہر کارروائی کو آشکار کیا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے ۔سانحہ کوئٹہ کی جس قدر اور جن الفاظ میں بھی مذمت کی جائے کم ہے اتنا بڑا جانی نقصان ناقابل تلافی ہے ۔امید کی جانی چاہئے کہ ذمہ داران جلد کیفر کردار تک پہنچیں گے اورقوم کو اس حوالے سے اعتماد میں بھی لیا جائے گا۔

 

دہشتگردی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آ گیا ہے۔15جون 2014ء کو افواج پاکستان کی طرف سے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردانہ کارروائیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ آیا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تخریب کار زیر زمین چلے گئے یا پسپا ہو گئے ہیں، ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری پید اہو ئی تھی اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا، کچھ عرصے کے توقف کے بعد دہشتگردی کے اکا دکا واقعات ضرور رونما ہوتے رہے لیکن ضرب عضب سے پہلے جس تسلسل اور تواتر کے ساتھ کارروائیاں جاری تھیں وہ سلسلہ تھم گیا۔ لیکن منگل 16دسمبر2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دن دیہاڑے جو ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی کی گئی اس سے صاف ظاہر ہوتاتھا کہ دہشتگردوں کے حوصلے پسپا نہیں ہوئے اور انہوں نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے محض دانستہ عارضی خاموشی اختیار کی ہے اور اب بھی تاک میں بیٹھے ہیں کہ جب اور جہاں موقع ملے اپنا کام دکھا دیں، اے پی ایس پشاور پر حملہ تو افواج پاکستان کو کھلا چیلنج تھا۔ ہماری بہادر افواج نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا اور ملک کے طول و عرض میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آرمی پبلک سکول کے ذمہ دار دہشتگرد بھی نا صرف اپنے انجام کو پہنچنے بلکہ دیگر واقعات میں ملوث تخریب کاروں پر عرصہ حیات بھی تنگ کیا گیا۔

2015ء میں اگرچہ دہشت گردوں کی کارروائیاں قدرے کم رہیں لیکن واقعات ضرور ہوتے رہے۔ تاہم 2016ء میں دہشتگردی کا فتنہ پھر سر اٹھا تا دکھائی دیا۔ اس دوران کوئٹہ، مردان ، چار سدہ، لاہور اور کراچی میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ۔ کوئٹہ کے پولیو سنٹر میں بم دھماکہ کے دوران کم و بیش 15افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ باچا خان یونیورسٹی مردان میں حملہ آوروں کی فائرنگ کے خوفناک واقعہ کے دوران 20افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں 9افراد جاں بحق متعدد زخمی ہو گئے اسی طرح خیبرپختوخوا کے ضلع چار سدہ میں سول کورٹ میں خودکش حملے کے دوران 10افراد جاں بحق اور 15زخمی ہوئے۔ پشاور میں سرکاری ملازمین کو لیجانے والی بس میں بم دھماکے کے دوران 17ملازمین ہلاک اور کم از کم 53مضروب ہوئے، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے گلشن اقبال پارک میں تو قیامت ٹوٹ پڑی جب خودکش حملے کے دوران 74شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اسی طرح جون کے آخری ہفتے میں کراچی کے با رونق علاقے میں عالمگیر شہرت کے حامل قوال امجد صابری کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

ملک کے طول و عرض میں سال رواں کے دوران کئی اور چھوٹے موٹے واقعات بھی سامنے آئے لیکن متذکرہ بالا قابل ذکر وارداتوں نے تو ملک کے امن و امان کو بڑی بری طرح متاثر کیا۔ امجد صابری کی شہادت کا غم بھولنے نہ پایا تھا کہ گزشتہ روز یعنی 8اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں فائرنگ کے بعد خود کش حملہ ہو گیا ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دوران کم و بیش 63افراد جاں بحق اور درجنوں گھائیل ہو کر ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔ فائرنگ کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ پر خود کش حملہ اس وقت کیا گیا جب منوجان روڈ پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کا سی کا جسد خاکی سول ہسپتال لایا گیا۔ اس وقت وکلا اور صحافیوں سمیت سول سوسائٹی کے متعدد افراد سول ہسپتال میں موجود تھے۔ عینی شاہدوں نے اس موقع پر بتایا کہ پہلے ہسپتال میں موجود افراد پر سیدھی فائرنگ کی گئی پھر خودکش حملہ ہو گیا۔ جس سے ہسپتال میں بھگدڑ مچ گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ ہسپتال میں زیر علاج مریض، ان کے لواحقین اور بار کونسل کے مقتول صدر کی ہلاکت پر احتجاج کرنے آنے والے شہری یا کوریج کو پہنچنے والے میڈیا پرسنز دیوانہ وار بھاگتے دیکھے گئے۔ خودکش حملے کے بعد ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ کچھ مریض اور ان کے لواحقین پاؤں تلے روندے گئے۔ ہسپتال کے اندر سے گھنٹوں تک رونے، چیخنے، چلانے اور کراہنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

جاں بحق ہونے والوں میں وکلا کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اس دوران بلوچستان کے معروف قانون دان اور بار کے سابق صدر باز محمد کاکڑ بھی شہید ہو گئے۔ وہ آج کل میگا کرپشن کیس میں گرفتار صوبائی مشیر خزانہ خالد لانگو کے کیس کی پیروی کر رہے تھے۔ ٹی وی کے ایک کیمرہ مین سمیت دو صحافی بھی شہدا کی فہرست میں شامل ہیں۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے تفتیشی ماہرین کا خیال تھا کہ اس حملے کا اصل ٹارگٹ وکلا ہی تھے اور اس مر کا غالب امکان بھی موجود ہے کہ حملے میں وہی گروپ شامل ہے جس نے بار کے صدر بلال انور کاسی کو قتل کیا ہے یاکروایا ہے۔ ماہرین نے واقعہ میں خودکش حملے کی بھی تصدیق کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس میں 8کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے۔ جس میں بڑے سائز کی کیلیں اور بال بیرنگ استعمال کئے گئے ۔ جس وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

جہاں تک رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا تعلق ہے تو یہ صوبہ طویل عرصے سے بد امنی کی لپیٹ میں ہے چھوٹے موٹے واقعات تو آئے روز ہوتے رہتے ہیں لیکن دہشتگردی کی بڑی وارداتیں بھی معمول ہیں ۔جغرافیائی اعتبار سے صوبے کی سرحدیں زیادہ محفوظ تصور نہیں کی جاتیں ۔دوسرے صوبوں سے در اندازی یا مداخلت زیادہ مشکل کام نہیں ہے ۔ بھارتی اثر و رسوخ کے ماضی میں ثبوت بھی ملتے رہے ہیں جبکہ بلوچستان سرحد سے متصل افغان صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین سے آزادانہ آمد و رفت بھی ایک پرانا مسئلہ چلا آ رہا ہے ۔چاغی ضلع میں واقعہ شمالی شہر نوشکی میں کئی بار قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن کئے اور دہشتگردوں کے نیٹ ورک پکڑے گئے ۔بھارت نے ایران

تین مرحلوں میں ہونے والا دہشتگردی کا منفرد واقعہ

کے ساتھ لگنے والے اسی علاقے میں چاہ بہار سے اوپر تک سڑک بھی تعمیر کروائی ہے ۔ جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لئے ان سرحدی علاقوں کی کڑی نگرانی کی جانی ضروری ہے ۔سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے دور سے آج تک بلوچ قبائل کے اندرونی معاملات اور ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں خطرناک حدیں چھوتی رہی ہیں ۔موجودہ دور میں مختلف بلوچ قبائل کی طرف سے ہتھیار ڈالنے اور استحکام پاکستان کے عزم کا اظہار کرنے کی باتیں خوش آئند ہیں لیکن اس کے باوجود صوبائی ترقی اور قومی دھارے میں بلوچستان کی شمولیت کا معاملہ مکمل طور پر حل نہیں ہو پایا ۔سابق وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ اور موجودہ وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کی طرف سے امن و امان کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو نا کافی قرار دیا جا رہا ہے اور بلوچ قبائل کے کئی سرداروں کی جانب سے یہاں تک کہا گیا کہ ہمیں پاکستانی نہیں سمجھا جاتا اور بلوچوں کی حق تلفی کی جا رہی ہے ۔ حال ہی میں نیب کی جانب سے بلوچستان میں کرپشن کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں انہیں بھی بعض اطراف سے انتقامی کارروائی قرار دیا گیا یہ تمام معاملات ایسے ہیں جنہیں مجتمع کر کے دیکھا جائے تو حالات کا اندازہ کرنا مشکل نہ ہو گا ۔

بلوچستان کے حوالے سے ایک اہم پہلو پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی ہے گوادر سے صوبہ سندھ کی سرحد تک سی پیک منصوبہ جن جن علاقوں سے گذر رہا ہے وہاں کی سکیورٹی ایک اہم مسئلہ ہے اس بارے میں سامنے آنے والے اعتراضات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے ابھی گزشتہ دنوں پکڑے جانے والے بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو نے بھی انکشاف کیا تھا کہ ہمیں سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کا مشن سونپا گیا تھا ہم نے اس منصوبے کو پروان چڑھنے سے روکنا تھا اور ایسے اقدامات کرنا تھے جن سے افراتفری پھیلے ۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والا سانحہ اسی کلبھوشن منصوبے کا حصہ ہو یعنی اقتصادی راہ داری منصوبے میں امن و امان کی رکاوٹ کھڑی کر کے مذموم مقاصد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہو ۔ویسے تو سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ اور بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کا اندوہناک قتل ایک ہی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں آج تک دہشتگردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں ان میں سے یہ واقعہ ذرا مختلف ہے ۔ پہلے کوئٹہ کی معروف شاہراہ منو جان روڈ پر بار کے صدر بلال انور کاسی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ،وکلاء اس واقعہ پر احتجاج کرنے اور مقتول کی میت لینے سول ہسپتال پہنچے تو پہلے ان پر فائرنگ کر دی گئی اور بھگدڑ مچی تو خودکش حملہ ہو گیا یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تین مختلف مرحلوں میں دہشتگردی کے ایک واقعہ کی تکمیل کی گئی ۔وکلاء کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ میڈیا پرسنز اور مریضوں یا لواحقین کو نشانہ بناکر کسے کیا پیغام دیا گیا ؟اس سوال کا اصل جواب تو سانحہ کوئٹہ کے تمام پہلو ؤں کی باریک بینی سے تفتیش کے بعد سامنے آئے گا لیکن اب تک مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق اس واقعہ میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکانات رد نہیں کئے جا سکتے اندرونی معاملات کو بھی دوران تفتیش مدنظر رکھنا ہو گا لیکن اس سانحہ کو ٹیسٹ کیس بنا کر تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تفتیش کی جائے گی تو پس پردہ حقائق بھی سامنے آئیں گے ۔دہشتگردی کے اس واقعہ میں انصاف سے تعلق رکھنے والی وکلاء برادری ،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ،محکمہ صحت کے ہسپتال اور عام شہری ہر شعبے کو ٹارگٹ کیا گیا ہے لیکن اصل ہدف کون تھا اور یہ واقعہ کس کے لئے پیغام ہے اس بات سے پوری قوم کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے ۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض قوتیں ملک کا مجموعی امن و امان تباہ کرنے کے در پے ہیں۔ پنجاب میں بچوں کے مبینہ اغواء کی اوپر تلے ہونے والی وارداتیں ، کراچی میں امجد صابری کی شہادت ،خیبر میں آئے روز ہونے والی دہشتگردی سمیت دیگر واقعات کو بعض افراد ایک ہی سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض تجزیہ کار امن و امان کے ان واقعات کو سیاسی عینک لگا کر دیکھ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے دھرنے، ریلیاں اور احتجاج کو بھی اسی پیرائے میں دیکھا جائے تو بات آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے ۔ یہ تو جانچنے اور پرکھنے کا اپنا اپنا انداز ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے والی ہر کارروائی کو آشکار کیا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے ۔سانحہ کوئٹہ کی جس قدر اور جن الفاظ میں بھی مذمت کی جائے کم ہے اتنا بڑا جانی نقصان ناقابل تلافی ہے ۔امید کی جانی چاہئے کہ ذمہ داران جلد کیفر کردار تک پہنچیں گے اورقوم کو اس حوالے سے اعتماد میں بھی لیا جائے گا۔

 

مزید : ایڈیشن 1