سیاسی خاندان مزید مضبوط کر دیئے گئے

سیاسی خاندان مزید مضبوط کر دیئے گئے
 سیاسی خاندان مزید مضبوط کر دیئے گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حکمرانوں نے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخابات کرانے کا ذہن تو بنایا۔ اول تو بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں تاخیر سے تاخیر ہوتی رہی۔ پھر اداروں کے سربراہوں کے انتخابات کا مسلہ کھڑ اہوا جو بہر حال اب حل ہو گیا ہے اور تمام اداروں کے انتخابات ۴۲ اگست کو منعقد کرانا طے پایا ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کی بلدیات کے علاوہ پورے سندھ میں بلدیاتی ادارے اور ضلع کونسل پیپلز پارٹی کی دسترس میں چلے جائیں گے۔ پارٹی نے ضلع کونسل اور بلدیاتی اداروں کی سربراہی کے لئے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کی قیادت نے تمام اضلاع کے لئے ان ہی امیدواروں کو نامزد کیا ہے جن کے رشتہ دار یا خاندان والے پہلے ہی سے پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یا وزارتوں میں موجود ہیں۔ پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنوں کو ایک موقع پر یقین دلایا تھا کہ بلدیاتی اداروں میں ایسے افراد کو نامزد نہیں کیا جائے گا جن کے بھائی بند یا دیگر رشتہ دار اسمبلی یا حکومت کاحصہ ہوں گے لیکن جب امیدواروں کے نام سامنے آئے تو کا رکنوں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ پارٹی میں فیصلے کرنے کا مکمل اختیار آصف علی زرداری ہی کو حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی میں پہلے سے موجود خلیج وسیع ہو نے کے امکانات بھی ہیں کہ کئی رہنماء یکسر نظر انداز کر دئے گئے ہیں۔ اکثر رہنماؤں کو بلدیاتی اداروں کے منفعت بخش عہدے بھی عنایت کر دئے گئے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی کی قیادت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان ہی گھرانوں کو مستحکم کرنا چاہتی ہے جو بااعتماد سمجھے جاتے ہیں یا قیادت کے خیال میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کچھ اضلاع کا احوال یہ ہے میر پو خاص میں شریک چیئر مین آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کے دیور میر انور کو نامزد کیا گیا ہے۔ میر انور صوبائی اسمبلی کے رکن بھی ہیں۔ فریال رکن قومی اسمبلی ہیں، پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی سربراہ بھی ہیں اور پارٹی میں سیاسی معاملات سے نمٹنے کے گر جانتی ہیں، ، فریال تالپور کے شوہر میر منور قومی اسمبلی کے رکن ہیں ۔ ضلع ٹھٹھہ میں ضلع کونسل کی سربراہی کے لئے غلام قادر پلیجو کو نامزد کیا گیا ہے۔ سینٹ کی رکن سسی پلیجو کے والد محترم ہیں اور سندھ سے ممتاز معمر سیاست داں رسول بخش پلیجو کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ضلع مٹیاری میں قرعہ فال مخدوم فخر الزمان کے نام نکلا ہے۔ ان کے والد مخدوم رفیق الزمان صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں، ایک تایا مخدوم جمیل الزماں صوبائی وزیر ہیں، دوسرے تایا قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ بدین میں اصغر ہالے پوٹہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ ماضی میں بھی تعلقہ ناظم رہ چکے ہیں۔ ان کے والد مرحوم عبداللہ ہالے پوٹہ قومی اسمبلی کے کئی بار رکن منتخب ہو چکے تھے ۔ ٹنڈو محمد خان کے لئے آصف زرداری نے اپنے دیرینہ دوست قبول شاہ کے بیٹے سید ذیشان شاہ کو نامزد کیا ہے۔ قبول شاہ ایک زمانے میں جام صادق اور عرفان اللہ مروت کے دوست بن گئے تھے۔ بعد میں معافی تلافی ہوئی۔ قبول شاہ ویسے بھی ایک قبائلی تنازعہ کی وجہ سے اپنی سرگرمیوں کو طویل عرصے سے محدود کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیاسی زندگی مکمل غیر فعال ہو گئی ہے ۔ ضلع نواب شاہ میں قاضی احمد کے مشہور اُنہڑ خاندان کے سابق رکن صوبائی اسمبلی جام تماچی اُنہڑ کو نامزد کیا گیا ہے۔ نواب شاہ ضلع کونسل میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی رضا کے بغیر پتہ نہیں ہلتا ہے ۔

عمر کوٹ میں ڈاکٹر نور علی شاہ کو نامزد کیا گیا ہے ۔ نورعلی کے بڑے بھائی علی مردان شاہ گزشتہ آٹھ سال سے وزیر تھے ۔ مراد علی شاہ کی کابینہ میں ان کی جگہ ان کے بھانجے سردار علی شاہ کو وزیر مقرر کر دیا گیا ہے۔ ، گھوٹکی ضلع میں جہاں مہر قبیلہ کے چار بھائی پہلے ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن ہیں، ایک بھائی علی نواز مہر قائم علی شاہ کابینہ میں وزیر بھی رہے ۔ قومی اسمبلی کے ایک رکن علی گوہر خان کے بیٹے حاجی خان مہر کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ علی گوہر ضلع ناظم بھی رہ چکے ہیں۔ علی گوہر کے چھوٹے بھائی علی محمد خان مشرف دور میں سندھ کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور آج کل قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ ان کے تایا زاد بھائی محمد بخش مہر بھی وزیر بنا دئے گئے ہیں۔ خیر پور میں منظور وسان کے داماد شہر یار وسان کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ منظور بھی آٹھ سال وزیر رہے اور دوبارہ وزیر مقرر ہو گئے ہیں۔ ، ان کے چھوٹے بھائی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ خیر پور میں خانوادہ جیلانی ( سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ کا خاندان) مکمل نظر اندازکر دیا گیا ہے۔ کشمور میں میر ہزار خان بجارانی اپنے بھتیجے محبوب خان کے لئے امیدواری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ میر ہزار خان بھی آٹھ سال تک صوبائی وزیر ہونے کے باوجود ایک بار پھر وزیر مقرر ہو گئے ہیں۔ شکار پور میں آغا مسیح الدین درانی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ یہ صاحب سراج درانی اسپیکر سندھ اسمبلی کے بھائی ہیں۔ ضلع جامشورو میں قومی اسمبلی کے رکن ملک اسد کے بھائی ملک شاہ نواز نامزد کئے گئے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی خانداانوں کے بڑوں نے اپنے چھوٹوں کو ضلع کونسل کی سربراہی کے لئے امیدوار نامزد کرایا ہے تاکہ ’’ بچہ سیاست سیکھ سکے‘‘ اور خاندان کی سیاسی گرفت بھی اپنی جگہ برقرار رہ سکے۔

جمہوریت کا حسن شائد یہ ہی ہے کہ دولت مند اور وسائل سے مالا مال افراد کو ہی نوازا جائے تاکہ وہ مضبوط اور مستحکم ہوں اور ’’ رعایا ‘‘ (جمہور) پر ’’اچھی ‘‘ طرح حکمرانی کر سکیں۔ اسی جمہوریت کے لئے شور کیا جاتا ہے کہ جمہوری نظام کو چلنے دیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اگر چاہتی تو اپنے کارکنوں کو کسی مشکل کے بغیر کامیاب کرا سکتی تھی کیوں کہ بلدیاتی اداروں میں ان کے ہی کونسلروں کی اکثریت کامیاب ہوئی ہے۔ پارٹی نے کسی ضلع میں بھی کسی خاتون کو نامزد نہیں کیا حالانکہ ماضی میں نواب شاہ کی سربراہ فریال تالپور اور خیر پور کی سربراہی نفیسہ شاہ کر چکی ہیں۔ کارکن تو کہیں بھی نامزد نہیں ہوسکے ۔ وہ تو اس ملک میں نعرے لگانے یا جلوس نکالنے کے لئے رہ گئے ہیں۔ تمام عہدے ان ہی کے لئے مخصوص ہیں جو پہلے ہی بار بار منتخب ہوتے رہے ہیں۔ حکمران جماعت ن لیگ کے پنجاب سے منتخب رکن قومی اسمبلی اسد الرحمان رمدے نے وزیراعظم کی طرف سے بلائے گئے ایک اجلاس میں ان کے حلقے کو نظر انداز کئے جانے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ، جواب میں وزیراعظم نے انہیں کہا کہ بیٹھ جائیں، اسد صاحب نے خوب جواب دیا کہ کیا وہ اسکول کے طالب علم ہیں جو بیٹھ جا ئیں ۔ وزیراعظم نے انہیں پانی پینے کے لئے کہا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کا پانی اپنے اوپر حرام سمجھتے ہیں۔ اسد الرحمان ہی یہ ہمت کر سکتے تھے کہ پاکستان کے بادشاہ وقت میاں نواز شریف کو جواب دے سکیں۔ دیگر اراکین نے تو شائد فیصلہ کرلیا ہے کہ صرف سنیں گے، بولیں گے کچھ نہیں۔ ملتا جلتا رویہ آصف زرداری بھی وزراء اور اراکین کے ساتھ رکھتے ہیں۔ بادشاہ سمجھتے ہیں کہ وہ جیسے چاہیں گے لوگوں کو ہانک لیں گے۔ ابن رشد نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔۔۔’’ جاہل معاشروں میں لاٹھی ہی ٹھوس دلیل ہے، انسانوں کے لئے بھی اور حیوانوں کے لئے بھی ‘‘ ۔ کیا پاکستانی جمہوریت میں جمہور کو اسی طرح لاٹھی سے ہانکا جانا ان کے نصیب میں لکھا ہوا ہے۔

مزید : کالم