ظالما! اک سیلفی بنا دے!!

ظالما! اک سیلفی بنا دے!!

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حلف اٹھانے کے بعد اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ان کی ترجیح، خدمت، خدمت اور عوامی خدمت، ہوگی۔ ان کا انداز بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے خصوصی ارشاد ’’کام، کام اور کام‘‘ سے ملتا جلتا تھا۔ بابائے قوم، عظیم قائد محمد علی جناحؒ کی تقلید کرنا بہت اچھی بات ہے۔ کام،کام اور کام کے حوالے سے سیّد مراد علی شاہ نے تمام وزراء اور اعلیٰ افسران پر واضح کیا کہ سب لوگ صبح نو بجے اپنے دفتر میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں، مَیں خود بھی صبح نو بجے دفتر میں حاضری کی پابندی کروں گا۔ بات پابندیء وقت کی تلقین تک محدود رہتی تو معمول کی بات سمجھی جاتی۔ مراد علی شاہ نے باقاعدہ ایک حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ تمام وزراء اور اعلیٰ افسران دفتر پہنچتے ہی اپنی سیلفی بنائیں اور انہیں بھجوا دیا کریں۔ اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو پھر باقاعدہ جواب طلبی ہوگی یعنی سیلفی نہ بھجوانے والے کو یہ بتانا ہو گا کہ وہ دفتر وقت پر پہنچایا نہیں اور یہ کہ سیلفی کیوں نہیں بھجوائی گئی تھی۔

سیلفی بنانے کا فیشن، کچھ عرصے سے ایک غیر معمولی شوق اور جنون کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ حیرت انگیز جنون کی شکل اختیار کرنے والی سیلفی کا شکار( عورتیں، مرد اور بچے) سبھی بہت بُری طرح ہو چکے ہیں۔ تاہم لوگوں کی ایک معقول تعداد سیلفی کے جنونی اثرات سے ابھی تک محفوظ ہے، یعنی بہت سے لوگ، جن میں خود ہم بھی شامل ہیں، سیلفی بنانے اور بنوانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جو لوگ دلچسپی نہیں رکھتے، انہیں سیلفی بنانے کا تجربہ بھی نہیں ہو گا۔ سچی بات ہے، اگر ہمیں سیلفی بنانے کے لئے یار لوگوں کی طرف سے فرمائش ہو، تو ہم شرمندگی سے بچنے کے لئے اس شخص کا تعاون حاصل کریں گے جو سیلفی بنانا جانتا ہو۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ سیلفی بنانے کے فن سے ناواقف لوگوں کی بھی کمی نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سیلفی بنا کر بھجوانے کا حکم جاری کرکے اس بات کو تو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ وزراء اور اعلیٰ افسران کی دفتر میں صبح حاضری کا پتہ چلتا رہے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ان رفقاء کو ایک چھوٹے سے امتحان میں بھی ڈال دیا ہے، جو سیلفی بنانا نہیں جانتے۔

سب سے پہلے تو انہیں سیلفی بنانے والا موبائل خریدنا ہوگا۔ پھر سیلفی بنانے کا طریقہ معلوم کرناہوگا۔ اس مشق میں مہارت حاصل کرنے کے لئے کچھ وقت درکار ہوگا جب تک وہ سیلفی بنانے میں ماہر نہیں ہوں گے، انہیں اپنے سٹاف یا دوستوں کاشکر گزاررہنا پڑے گا کہ وہ ان سے سیلفی بنوایا کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے سیلفی بنا کر بھجوانے کے حکم کی خبر پڑھ کر ہمیں ایک نغمے کے بول بے ساختہ یاد آ گئے۔ نئے اور پرانے سازوں کو استعمال کرکے کلاسیکل انداز میں گیتوں کو نیا رنگ دینے والے ایک مشہور ادارے کے ایک گیت کو ان دنوں بڑی مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔ گیت کے بول میں ایک مشہور مشروب کا نام استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا ہم وہ پورابول تو یہاں نقل نہیں کر سکتے، البتہ ہمارے ذہن میں جومتبادل بول آئے، وہ کچھ اس طرح ہیں ’’ظالم! اک سیلفی بنا دے۔ سوہنیا! اک سیلفی بنا دے!!‘‘ ذرا تصور کریں کہ جن وزراء اور اعلیٰ افسران کو سیلفی بنانا نہیں آتی، وہ اپنے سٹاف یا مُلا قاتیوں سے جب اسی طرح مخاطب ہوں گے تو کیا سین ہوگا۔ ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں موجود سبھی لوگوں کا موڈ بہت اچھا ہوجائے گا۔ موڈ اچھا ہوگا تو کام بھی خوبصورت ماحول میں ہوگا اور اس کے نہایت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ہمارا خیال ہے کہ سیلفی بنا کر بھجوانے کے حکم کی تعمیل، بے حد حسین ماحول اور اچھے موڈ کی ضامن ہوگی۔ لہٰذا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو داد دینی چاہئے کہ انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کر لئے۔ وزراء اور اعلیٰ افسران کو وقت کا پابند بنانے کے ساتھ انہوں نے سیلفی بنانے والوں کا خوشگوار موڈ بھی یقینی بنانے کا کام کر دیا۔ اس بارے میں شاید وزیر اعلیٰ سندھ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا مگر کوئی اچھا کام ہور ہا ہے تو اس کی داد دینے میں کوئی حرج نہیں۔ خواہ مخواہ کنجوسی اور بے مروتی کی کیا ضرورت ہے۔ اب تک وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی جو پرفارمینس سامنے آئی ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ زندہ دل ہیں۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ ان کی زندہ دلی دیر تک قائم رہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سنگین مسائل اور سیاسی مخالفین کی طرف سے پوائنٹ سکورنگ کی وجہ سے کہیں ان کی زندہ دلی آہستہ آہستہ ختم نہ ہو جائے۔ کراچی تو ویسے بھی سنگین مسائل کا شہر بن چکا ہے، اتنے ڈھیر سارے سنگین مسائل حل کرتے ہوئے مراد علی شاہ کہیں چڑچڑے نہ ہو جائیں اور یہ جو سیلفی بنانے کے حوالے سے ایک خوشگوار پہلو ہم نے اپنے قارئین کے ساتھ تلاش کر لیا ہے، کہیں اسے دشمنوں اور مخالفین کی نظر نہ لگ جائے۔

سیانے کہتے ہیں کہ نظر لگ جائے تو صدقہ دینا چاہئے۔ عموماً کالے بکروں کا صدقہ دیا جاتا ہے، کالے ماش اور کالے رنگ کی مرغی کا بھی صدقہ معمول کی بات ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ کون سا صدقہ دینا پسند کریں گے۔ انہیں تو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ ان کی کابینہ میں ’’سچے خواب‘‘ دیکھنے والے منظور وسان بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ان سے وہ نہ صرف خوابوں کے ذریعے کافی معلومات حاصل کر سکیں گے بلکہ یہ بھی معلوم کر لیا کریں گے کہ اُنہیں کسی اپنے کی نظر لگی ہے یا وہ کسی مخالف کی ’’نظر بد‘‘ کا شکار ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ منظور وسان یہ بھی بتا دیا کریں گے کہ جلد ہی انہیں کس کی نظر لگنے والی ہے یا وہ کس مخالف کی ’’نظرِ بد‘‘ سے بچ کر رہیں۔ فی الحال تو وزیر اعلیٰ سندھ کو ’’ہنی مون پیریڈ‘‘ نہایت خوبصورت ماحول اور بیحد اچھے موڈ میں گزارنا چاہئے۔ ان کے لئے فوری چیلنج تو ساون کے بادل بنے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کو مراد علی شاہ اپنا سرپرست قرار دیتے ہیں۔ کراچی میں کچرا ٹھکانے لگانے اور بارش کے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں اور یار لوگ کہتے ہیں کہ مراد علی شاہ کے ’’سرپرستوں‘‘ نے متذکرہ بالا مسائل ورثے میں دیئے ہیں، جو فوری طور پر ٹینشن بنے ہوئے ہیں۔ خدا کرے کہ مراد علی شاہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے پہلے ٹیسٹ میں کامیاب ہو جائیں، تاکہ سیلفی بنانے کے حکم سے جو خوشگوار اور خوبصورت پہلو خودبخود سامنے آیا ہے اس سے سبھی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ لطف اٹھانے کا موقع مل سکے۔ ہمارے ہاں روایت ہے کہ ابتداء میں کوئی بھی شوق ہو، جنون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جو لوگ ’’سوہنیا! اک سیلفی بنا دے، ظالما! اک سیلفی بنا دے‘‘ گنگناتے ہوئے آگے بڑھیں گے تو جب وہ کسی تقریب میں شرکت کریں گے تو کیسے کیسے بہانے بنا کر اپنی سیلفی نہیں بنائیں گے۔ یہ شوق اور جنون ہی ایسا ہے کہ انجوائے کرنے کے بہت زیادہ مواقع ملیں گے۔ سیلفی بناتے یا بنواتے ہوئے جب بعض وزراء اور اعلیٰ افسران یہ گیت گنگنائیں گے ’’سوہنیا! اک سیلفی بنا دے۔ ظالما! اک سیلفی بنا دے!! تو کیا سماں ہوگا اور کیسے کیسے اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید : کالم