ڈاکٹر شفیق جالندھری کے نام!

ڈاکٹر شفیق جالندھری کے نام!
 ڈاکٹر شفیق جالندھری کے نام!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج کل ہمارے اسی اخبار میں ڈاکٹر شفیق جالندھری صاحب کا ایک سلسلہ ء مضامین شائع ہو رہا ہے جس کا عنوان ہے: ’’ٹیکنالوجی سے انسانی ذہن پر کنٹرول‘‘۔۔۔ ڈاکٹرصاحب پنجاب یونیورسٹی میں ابلاغیات کے صدرِ شعبہ رہے، بیرونی ممالک میں اکثر آتے جاتے ہیں اور موضوعاتِ جدیدہ بالخصوص ابلاغیاتِ عامہ پر ان کی گہری نظر رہتی ہے۔پچھلے دنوں فیوچر کرائمز (Future Crimes) نامی ایک معروف کتاب سے ماخوذ ان کے کئی کالم شائع ہوئے اور قارئین کو معلوم ہوا کہ صاحبِ کتاب مارک گڈمین (Marc Goodman) نے کس صراحت اور فصاحت سے موجودہ اور آنے والے ادوار میں جرائم کی ایک نئی دنیا کی تصویر کشی کی ہے۔ یہ کتاب 392صفحات پر مشتمل ہے اور گزشتہ برس ہی شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ہمارے شکریئے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھانا شروع کیا ہے جو پہلے پاپولر میڈیا میں ’’حدود باہر‘‘ تھے۔ میں تو ایک طویل عرصے سے گزارش کر رہا ہوں کہ ہم نے اپنی قومی زبان اردو سے تغافل کا جو ارتکاب کر رکھا ہے وہ نہ صرف یہ کہ ابلاغِ عامہ کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت کو احساسِ محرومی کا شکار بھی کر رہا ہے۔ کیا اردو میں شعر و شاعری، مذہب اور سیاست ہی ایسے موضوعات رہ گئے ہیں کہ ان پر لکھ لکھ کر ہمارے اردو زبان کے لکھاریوں نے اس عظیم زبان کے پڑھنے والوں کو ’’باہر‘‘ کی ہوا نہیں لگنے دی۔ محولا بالا تینوں موضوعات اب ’’اوور سٹڈیڈ‘‘ (Over-Studied) ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ درجنوں ایسے موضوعات ہیں جن کی کوئی سن گن نہیں لی جاتی۔ اقتصادیات، دفاع اور سائنس و ٹیکنالوجی ان موضوعات میں پیش پیش ہیں جن کو ہم نے یکسر بھلا رکھا ہے۔اخباری کالم اگر صرف سیاسی موضوعات تک ہی محدود کر دیئے جائیں تو پھر بھی سیاسیات کے محیط میں سب کچھ سما جاتا ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی میں وہی فرق ہے جو تھیوری اور پریکٹس میں ہے۔ سائنس ایک تھیوری ہے اور ٹیکنالوجی اس کو عملی شکل دیتی ہے۔ یعنی سائنس، ٹیکنالوجی کی پیشرو ہے۔ کسی بھی مشین کو لے لیجئے۔ پہلے اس کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ پھر اس کی تشریح کی جاتی ہے، پھر اس پر بحث و مباحثہ کیا جاتا ہے، مضامین لکھے جاتے ہیں، ان کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے اور تب جا کر وہ مرحلہ آتا ہے جب یہ سب کچھ نظری میدان سے نکل کر عملی میدان میں داخل ہوتا ہے ۔اسی میدان کا نام ٹیکنالوجی ہے۔ ڈاکٹر جالندھری صاحب نے ٹیکنالوجی سے انسانی ذہن کی تسخیر کے بارے میں جوکچھ لکھا ہے وہ نہایت گرانقدر ہے لیکن متنازعہ بھی ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ کالم نگاری تو وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں لیکن ان کے موضوعات زیادہ تر وہی ہوتے تھے جو اردو صحافت کے روائتی موضوعات بن چکے ہیں۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف یہ کہ ایک تازہ موضوع پر قلم اٹھایا ہے بلکہ ایک نئے اسلوبِِ نگارش کو بھی قلم کی زبان دے دی ہے۔۔۔ تاہم اس اسلوب کو ابھی ’’سائنس‘‘ کے شیلف ہی میں رہنے دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ اگر اسے ’’ٹیکنالوجی‘‘ سے ہمکنار کرنا ہے تو اس کے لئے بہت محنت اور ریاضت کی ضرورت ہوگی۔ امید ہے جلد ہی دوسرے کالم نگار حضرات بھی اسی اسلوب نگارش کی طرف آئیں گے اور اس کو فائن ٹیون کریں گے۔۔۔ اس سٹائل کے بارے میں چند نکات ذہن میں آ رہے ہیں۔ چاہتا ہوں کہ ان کو قارئین کے سامنے بھی رکھ دوں تاکہ نہ صرف قاری ان پرغور کر سکے بلکہ لکھاری بھی غوروخوض کے بعد اگلے مرحلے یعنی اس کے استعمال کی طرف متوجہ ہو سکے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ موضوعاتِ جدیدہ کی تمام اصطلاحیں اردو میں نہیں ہیں بلکہ اس زبان میں ہیں جس میں اس مخصوص شعبہء علم و فن نے جنم لیا تھا۔ ہم نے بھی اور آپ نے بھی ان کو انگریزی ہی میں پڑھا ہوگا اور پھر انگریزی میں پڑھ کر اپنی مادری یا قومی زبان میں سمجھا ہوگا، اس کا ادراک کیا ہوگا اور اسے ’’ہضم‘‘ کیا ہوگا۔ اگر کوئی لکھاری کسی جدید موضوع کی کسی جدید اصطلاح (Term) کو انگریزی ہی میں املا کر دے گا تو یہ اس ’’حرکت‘‘ سے کئی گنا زیادہ بہتر ہوگا اگر ہم اس کواپنی مادری یا قومی زبان میں لغوی ترجمہ کرکے بطور اصطلاح رائج کرنا چاہیں۔ راقم السطور کو اس مشکل سے سالہا سال تک پالا پڑا رہا۔ جب میں GHQ میں انگلش اردو ملٹری ڈکشنری پر کام کر رہا تھا تو اس وقت اس مسئلے کی بہت سی نئی جہتوں کا پتہ چلا۔ مثلاً سب سے اہم بات یہ تھی کہ کسی اصطلاح کو اردو کا لباس پہناتے وقت یہ دیکھ لیاجائے کہ آیا یہ لباس اس کے قامت پر راست بھی آتا ہے یا نہیں۔ اگر ریکی کو قراولی، انٹیلی جنس کو جاسوسی اور سگنلز کو استخبارات کر دیا جائے تو مطلب سمجھنے میں اُسی دشواری کا سامنا ہوگا جو تھرما میٹر کو حرارت پیما یا ’’بَخ میچُو‘‘ (پنجابی میں)اور لاؤڈ سپیکر کو ’’آلہء مکبّرالصّوت‘‘ بولنے یا لکھنے میں پیش آتی ہے۔ لہٰذا ہم نے وہ عسکری ڈکشنری مرتب کرتے ہوئے پہلا اصول یہ وضع کیا کہ اگر اردو میں کسی عسکری اصطلاح کو ڈھالنا ہو تو سب سے پہلا کام یہ کیا جائے کہ اس کے استعمالِ عامہ اور تفہیمِ عمومی کو نگاہ میں رکھ کر اس اصطلاح کو ایسی اردو میں ترجمہ کیا جائے جو ایک سپاہی یا لانس نائیک بھی سمجھ سکے۔ چنانچہ ہم نے ریکی، انٹیلی جنس اور سگنلز کو اسی طرح رہنے دیا اور صرف اردو میں املا کر دیا۔ اگرچہ یہ طریقہ آسان ہے لیکن جوں کا توں میں ایک مشکل یہ ہے کہ جب کسی اصطلاح کو اس طرح ’’اردوایا‘‘ جائے گا تو بسا اوقات اس کا مفہوم سمجھ میں نہیں آئے گا۔ہم نے اس مشکل کا حل یہ نکالا کہ کسی بھی جدید عسکری اصطلاح کو اردو میں املا کرنے کے ساتھ اول اول اس کے مفہوم اور اس کی اصل انگریزی صورت کو بھی ضبطِ تحریر میں لایا جائے۔ مثلاً لفظ ریکی لکھ کر اس کے سامنے (Recce) بھی لکھ دیا گیا اور اس کی تشریح کے لئے ایک الگ ’’لغاتِ تشریح‘‘ بھی شائع کر دی گئی۔ اب پاک آرمی میں جو پیشہ ورانہ تحریریں اردو میں شائع ہو رہی ہیں یا جو تدریسی پمفلٹ یعنی GSPs (جنرل سٹاف پبلی کیشنز) اردو میں طبع کی جا رہی ہیں ان میں یہی طریقہ اپنایا گیا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ہر نئی اصطلاح، پرانی اصطلاح بن جاتی ہے اور اس کی اجنبیت ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ ریکی، انٹیلی جنس اور سگنلز کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے!

ڈاکٹر صاحب نے اپنے ان کالموں میں درجنوں ایسی اصطلاحوں کو ’’اردوایا‘‘ ہے [اصطلاح میں اردوانے کے اس عمل کو ٹرانس لی ٹریٹ (Transilitrate) کہا جاتا ہے] جن کا مفہوم وہ خود تو سمجھتے ہیں لیکن ان کے قارئین میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ’’اردو میڈیم‘‘ ہوں گے۔ ان کو سمجھانے کے لئے لکھاری کو بھی ’’اردو میڈیم‘‘ ہونا پڑے گا۔ مثال کے طور پر انہوں نے ایک اصطلاح ’’چِپ امپلانٹیشن‘‘ استعمال کی ہے۔ اس کے دونوں الفاظ یعنی چِپ اور امپلانٹیشن مجھ جیسے اردو میڈیم کی سمجھ میں نہیں آسکے۔ بہتر ہوتا اگر ڈاکٹر صاحب چِپ (Chip) کے مفہوم کی تشریح بھی کر دیتے۔ وگرنہ تو ہم جیسے لوگ جو ’’آلوؤں کے چِپس‘‘ کھانے کے عادی ہیں ان کو کیا معلوم کہ اس لفظ کے درجن بھر مفہوم اور بھی ہیں جو ایک دوسرے سے معانی کے اعتبار سے یکسر بالکل مختلف ہیں۔ اسی طرح لفظ ’’امپلانٹیشن‘‘ (Implantation) ہے۔ اس کا مطلب بھی اردو میڈیم قوم کو بہت ہی کم سمجھ آئے گا بلکہ ہو سکتا ہے بالکل ہی نہ آئے۔امپلانٹ کرنا کس عمل کو کہتے ہیں اور اس کی میڈیکل اطراف و جوانب کون کون سی ہیں اس کا ایک مجمل سا خاکہ ضرور دے دینا چاہیے وگرنہ ڈاکٹر شفیق جالندھری جیسے مبلغِ علم اور تجربے والے لوگ ہی سمجھ سکیں گے کہ اس لفظ کا مطلب کسی ایک چیز کو کسی دوسرے جسم (Body) میں نصب کرنا یا لگاناہے۔ ممکن ہے کوئی قاری اس قسم کے بھاری بھرکم لفظ یا الفاظ دیکھ کر ’’بھمبڑ بھونسے‘‘ میں پڑ جائے اور کہے کہ یار یہ چِپ امپلانٹیشن، نیو سرجیکل امپلانٹیشن، بولٹ ، کمیونی کیشن، ایکسٹرا سینسری (الٹراسانک) ،میڈیا ایجنڈا سیٹنگ، میڈیا گیٹ کیپنگ، وال سٹریٹ ’’جنرل‘‘، الٹراوائٹ،ٹپ آف دی آئس برگ اور وائر لیس سینسر کیا بلا ہیں ۔۔۔ سچی بات ہے کہ ان اصطلاحوں کا ایک دھندلا سا مفہوم میرے ذہن میں ضرور آ رہا ہے لیکن پورا مفہوم سمجھنے کے لئے سیاق و سباق کا رخ کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر صاحب کی تحریر میں جو روانی اور خوبصورت ادیبانہ طرزِ نگارش کی جھلکیاں جابجا ملتی ہیں، وہ اس بات کی نوید ہیں کہ وہ اِن مشکل اور اجنبی اصطلاحوں کو عام فہم انداز میں ڈھال سکتے ہیں۔ان کا بچپن اور لڑکپن جس ماحول میں گزرا اس کی جھلکیاں بہت پہلے ان کے کالموں میں پڑھنے کو ملتی رہیں۔ ان جیسے کسی ’’پینڈو‘‘ نوجوان کا پاکستان کے سب سے معروف اور تاریخی شہر میں آنا اور پھر یہاں کی قدیم ترین یونیورسٹی کے کسی شعبے کا چیئرمین اور پھر یورپی اور امریکی یونیورسٹیوں کا سیرسپاٹا اور درس و تدریس وغیرہ، ہر کہہ ومہ کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ یہ چند سطور جو میں نے ان کے لئے لکھی ہیں ان سے ان پر خدا نخواستہ کوئی منفی تنقید مطلوب نہیں۔ میں تو ایک عرصے سے دست بدعا ہوں کہ کوئی ایسا لکھاری آئے جو اردو زبان میں آج تک اجنبی سمجھے جانے والے علوم و فنون اور موضوعات پر قلم اٹھائے۔ ڈاکٹر صاحب کو ان موضوعات پر مسلسل لکھنا چاہیے اور یہ اہتمام بھی کرنا چاہیے کہ ایک اوسط علم و فہم کا قاری ان کے سفر میں ان کے ساتھ ساتھ رہ سکے۔ بعض اوقات دورانِ تحریر کوئی لطیفہ، کوئی چٹکلہ، کوئی ظریفانہ پارۂ نظم و نثر کوئی پھڑکتا ہوا محاورہ اگرچہ ’’آؤٹ آف فیشن‘‘ ہی کیوں نہ ہو، اڈرنالین کا کام دیتا ہے!۔۔۔(اڈرنالین کا لفظ میں نے عمداً استعمال کیا ہے تاکہ ڈاکٹر صاحب کو معلوم ہو کہ ان کے قاری پر اس طرح کی اصطلاحات دیکھ اور پڑھ کر کیا ’’گزرتی‘‘ ہے!) آپ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر اقبالؒ جب لندن میں تھے تو انہوں نے شعر گوئی ترک کرنے کا ارادہ کرلیاتھا لیکن پھر اپنے ایک دوست سر شیخ عبدالقادر اور اپنے استاد پروفیسر آرنلڈ کے کہنے پر یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ جب عبدالقادر اقبال سے پہلے وطن واپس آئے تو اقبال نے ایک نظم ان کو لکھ کر بھیجی،جو بانگ درا میں ہے۔ عنوان تھا:’’ عبدالقادر کے نام!‘‘ ۔۔۔ اس کا پہلا شعر تھا:

اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افقِ خاور پر

دہر میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں

اور آخر میں کسی فارسی شاعر کا وہ بے مثال شعر درج کیا تھا جس کے مفہوم کی مناسبت اور گہرائی پر ہزار برگساں اور نطشے قربان کئے جاسکتے ہیں:

ہرچہ در دل گزرد، وقفِ زباں دار دشمع

سوختن نیست خیالے کہ نہاں دار دشمع

[جو دل پر گزرتی ہے وہ شمع اپنی زبان سے کہہ ڈالتی ہے۔ اپنے آپ میں جلنا کوئی خیال تو نہیں کہ شمع اس کو سینے میں چھپا کر بیٹھی رہے۔]

موم بتی کی لو، انسانی زبان کی ہم شکل ہوتی ہے۔ اس لو کا رنگ، تپش اور مسلسل جلتے رہناگویا شمع کے دل کی آواز ہے۔ پھر اسی دلگدازی سے جو آنسو گرتے ہیں اور اشک فشانی ہوتی ہے وہ گویا موم بتی کے پگھلے ہوئے لاوے کا روپ دھار کر اس کے چاروں طرف پھیل جاتی ہے ۔۔۔بزرگوں کی تقلید کوئی بُری بات نہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اپنی اس زبان میں دنیا بھر کے جدید علوم کو سمیٹ کر بیان کردوں جو میری قوم سمجھتی ہو۔۔۔۔ایسا کرنا آسان کام نہیں۔ اہل مغرب نے برسہا برس سے یہ بیڑا اٹھایا ہوا ہے ۔ اور انگلش کو آج امّ اللسان بنا دیا ہے۔ اردو زبان کو ڈاکٹر شفیق جالندھری کی طرح کے کئی اور لکھاریوں کی ازبس ضرورت ہے جو جدید مضامین، علوم و فنون اور موضوعات کو قوم کے اوسط فہم و فراست والے طبقے میں عام کرسکیں۔ گزشتہ 20،25 برس سے میں نے بھی ایک حقیرسی کوشش کی ہے کہ عسکری موضوعات کو اردو زبان میں بیان کرنے کی کوشش کروں۔ جالندھری صاحب سے بھی گزارش کروں گا کہ وہ ابلاغیات کے شعبے کی ایک نمایاں پاکستانی شخصیت ہونے کے ناطے میرا ساتھ دیں اور جدید ، ٹیکنیکل اور خالص پروفیشنل موضوعات کو برجستہ، رواں اورقابلِ فہم اردو کا لباس پہنا دیں:

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

توہائے گل پکار، میں چلاّؤں ہائے دل

مزید : کالم