قرضوں کی معیشت سے نجات

قرضوں کی معیشت سے نجات

صدرِ مملکت ممنون حسین نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں قبائلی عمائدین اور نمائندہ وفود سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے آئی ایم ایف سے آئندہ کوئی قرض نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی خزانے میں زرمبادلہ کے ذخائر23ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ سی پیک منصوبے کے علاوہ دیگر ترقیاتی منصبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کا فیصلہ یقینی طور پر غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، جس کی تعریف سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کرنی چاہئے۔ صدرِ مملکت نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کا فیصلہ اِس لئے ممکن ہُوا کہ موجودہ حکومت نے بہتر اور دور رس نتائج کی حامل معاشی پالیسیاں اختیار کیں۔قرض کی معیشت سے نجات کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قوم کو گزشتہ ماہ خوشخبری سنائی تھی۔ سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ2013ء میں عام انتخابات کے موقع پر موجودہ حکومت کو14ہزار800 ارب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا تھا۔ موجودہ حکومت نے 2016ء تک قرضوں کے حجم میں34فیصد اضافہ کیا، جبکہ مخالف حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف حکومت نے کئی گنا قرضے حاصل کر کے قوم کو ادائیگیوں اور سود کے چکر میں ڈال دیا ہے۔ صدرِ مملکت ممنون حسین نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت نے اپنی دانشمندانہ معاشی پالیسیوں سے جو اہم کامیابی حاصل کی ہے، اس کی باشعور طبقات کو سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر تعریف کرنی چاہئے۔ خدا کرے کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس پر ہمیشہ کے لئے عمل ہوتا رہے۔ قرض کی معیشت کسی بھی مُلک کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوتی، اس کے لئے ضروری ہے کہ بہتر اور معیاری معاشی پالیسیاں اختیار کی جائیں۔

مزید : اداریہ