سیشن کورٹ میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ماو،کلاء اور سائلین پریشانی سے دوچار

سیشن کورٹ میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ماو،کلاء اور سائلین پریشانی سے ...

لاہور(کامران مغل)سانحہ کوئٹہ کے بعد سیشن کورٹ میں کے داخلی اور خارجی راستوں پر مامور پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات کے پیش نظروکلاء اورعدالتی عملے کے ساتھ ساتھ جج صاحبان کی زندگیاں بھی داؤ پر لگ گئی ہیں ، سیشن عدالت کی سیکیورٹی پر تعینات اکثر پولیس اہلکار وں کااپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کی بجائے خوش گپیوں میں مصروف رہنے پر روزانہ مقدمات کی سماعت کیلئے آنیوالے ہزاروں سائلین اور وکلاء نے بھی پولیس کی ناقص سیکیورٹی اور چیکنگ کے انتظام کو غیر تسلی بخش قرار دے دیاہے۔سانحہ کوئٹہ کے بعد وکلاء نے حکام بالا سے عدالتوں کی سیکیورٹی فول پروف بنانے کی اپیل کردی ۔ تفصیلات کے مطابق سیشن عدالت میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں وکلاء برادری کومقدمات کی سماعت کیلئے پیش ہونا پڑتاہے اور اس موقع پر جیلوں سے لائے گئے ملزمان بھی عدالتوں میں پیش کئے جاتے ہیں اور جن سے ملاقات کیلئے ان کے رشتہ دار بھی سیشن عدالت میں پہنچ جاتے ہیں تاہم اس موقع پر عدالت میں سیکیورٹی انتہائی ناقص ہونے کی وجہ سے ہزاروں وکلاء کے ساتھ ساتھ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں پیشی پرآئے ملزمان اوران کی ملاقات کیلئے آنے والے رشتہ داروں کی زندگیاں داؤ پر لگی رہتی ہیں۔اس حوالے سے سابق سیکرٹری لاہوربار کامران بشیر مغل ،ممبر پنجاب بار کونسل فرحاد علی شاہ ،پاکستان بار کونسل کے کوآرڈینیٹر مدثر چودھری ،سینئرایڈووکیٹ عرفان تارڑ، مشفق احمد خان ،و دیگر وکلاء نے سیشن کورٹ کی سیکیورٹی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی سیشن کورٹ میں قتل وغارت کے واقعات رونما ہوچکے ہیں جو کہ پولیس کی ناقص سیکیورٹی کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ وکلاء نے سانحہ کوئٹہ میں ہونیوالی بربریت پر شدیدمذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وکلاء کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے وگرنہ وکلاء راست اقدم پر مجبورہوجائیں گے ۔

مزید : صفحہ آخر