سانحہ کوئٹہ ، وکلاء تنظیموں کی طرف سے شدید مذمت ، 7روزہ سوگ 3روزہ ہڑتال کا اعلان

سانحہ کوئٹہ ، وکلاء تنظیموں کی طرف سے شدید مذمت ، 7روزہ سوگ 3روزہ ہڑتال کا ...

 لاہور(نامہ نگار خصوصی )ملک بھر کی وکلاء تنظیموں نے کوئٹہ میں ہونیوالے بم دھماکے اور دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے 7روزہ سوگ منانے ، سپریم کورٹ بار کونسل کی طرف سے3روزہ ہڑتال جبکہ پاکستان بار کونسل ٗ لاہور ہائیکورٹ بار ٗ پنجاب بار کونسل سمیت دیگر وکلاء تنظیموں نے آج9ا گست کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔وکلاء تنظیموں کی طرف سے سانحہ میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا گیا اوراعلان کیا گیا کہ ایسے واقعات سے ہمیں کمزور نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہمارے جذبوں کو اس سے تقویت ملی ہے ،بعض وکلاء تنظیموں کی طرف سے مرکزی اور بلوچستان حکومت سے استعفوں کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے ۔گزشتہ روز سانحہ کوئٹہ کی اطلاعات آنے کے بعد ہی ملک بھر کے وکلاء کی طرف سے شدید رنج غم کا اظہار کر تے ہوئے واقعہ کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا ،بار کونسلز کی طرف سے ہنگامی اجلاس اور احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئیں ۔اس ضمن میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر علی ظفر نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران اس سانحہ پر ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا اور ملک بھر کے وکلاء کو 3روزہ ہڑتال کی کال دی ،سپریم کورٹ بارکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب ہڑتال کی کال دی گئی ہے ۔علی ظفر نے کہا کہ دہشت گرد ادارے کو کمزور کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسے واقعات سے ہم پہلے سے ہی زیادہ مضبوط ہوکر ابھرتے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وکلاء کو بھی ججوں اور حکومتی شخصیات کی طرح فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے ،انہوں نے وکلاء براادری کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کرنے کا اعلان بھی کیا،لاہور ہائیکورٹ بار کی طرف سے رانا ضیاء عبدالرحمن کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں محمد انس غازی سیکرٹری، سید اسد بخاری فنانس سیکرٹری سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔رانا ضیاء عبدالرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں ہمارے وکلاء بھائیوں اور سویلین کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم پر قیامت صغری ٹوٹ پڑی ہم شدید دکھ، کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں۔ مرکزی اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں مکمل طور پر بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ وکلاء برادری دونوں حکومتوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا یہ حملہ کالے کوٹ پر نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان پر حملہ ہے۔ قوم 14اگست 2016ء کو جشن آزادی منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی دشمن نے ہمیں خوف و ہراس اور افراتفری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی لیکن دشمن انشاء اللہ ناکامی کا منہ دیکھے گا۔ وکلاء برادری اپنے بھائیوں کی شہادت پر ہمت نہیں ہاری بلکہ ہم نے ہمیشہ وطن عزیز کیلئے قربانیاں دیں اور آئندہ بھی قربانیاں دیتے رہیں گے۔محمد انس غازی سیکرٹری ، پیر محمد مسعود چشتی سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار،سید فرہاد علی شاہ ممبر پنجاب بار کونسل، محمد رمضان چوہدری سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل، شفیق بھنڈارہ ممبر پاکستان بار کونسل، محمد کاظم خان سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بارنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں وکلاء پر حملہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان پر حملہ ہے۔ سارا ملک افسردہ اور وکلاء اس قیامت صغری پر خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ملک دشمن طاقتیں انتہائی جوش و خروش سے پاکستان کو غیر مستحکم اور عوام کو اندھیرے میں دھکیلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکومت وقت کو کھل کر دشمن کی نشاندہی کرنی ہو گی اور وطن عزیز اور اس کے رہنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔ وکلاء کا اتحاد بھی وطن دشمنوں کو گوارا نہیں اور آئے روز وکلاء کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں صدر کوئٹہ بار بلال احمد کاسی کے ساتھ درجنوں وکلاء اور سول سوسائٹی کے لوگ شہید ہوئے۔ ہم سوگوار ہیں لیکن دشمن کے آگے کبھی ہتھیار نہ ڈالیں گے بلکہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مردانہ وار مقابلہ کرتے رہیں گے۔ ہم نے ہمیشہ ملک کی خاطر قربانیاں دیں اور آئندہ بھی دیتے رہے گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر دفعہ مذمتی الفاظ دہرا کر بیٹھ جاتے ہیں اس دفعہ ہم ارباب اقتدار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر وہ ملک اور عوام کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوں کی طرح از خود مستعفی ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ جائے۔ اس کے علاوہ شہید وکلاء کے خاندانوں کی کفالت اور مالی امداد کیلئے بھی انتظام کرنا ہو گا۔اجلاس میں پیش کردہ قرار داد رائے شماری کے بعد منظور کرلی گئی ۔جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ دلخراش سانحہ پر مرکزی حکومت اور حکومت بلوچستان مستعفی ہو۔ لاہور ہائیکورٹ بار کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ روانہ ہو گا۔ لاہور ہائیکورٹ بار شہید وکلاء کے لواحقین کی مالی معاونت کیلئے وکلاء برادری سے تعاون کی درخواست کرتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بارنے چیف جسٹس پاکستان سے بھی استدعا کی کہ وہ بذات خود کوئٹہ جا کر وکلاء سے اظہار یکجہتی کریں اور سانحہ کوئٹہ کی مکمل تحقیق کیلئے انکوائری کمیٹی کا اعلان کریں۔ سانحہ کوئٹہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں وکلاء بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔جبکہ آج 9اگست بروز منگل بوقت 11بجے دن لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں شہدائے کوئٹہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ اجلاس کے بعد وکلاء نے جی پی او چوک تک پرامن احتجاجی ریلی بھی نکالی۔دریں اثناء لاہور بار ایسوسی ایشن نے سانحہ کوئٹہ میں خود کش دھماکہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے آج 9اگست کو ہڑتال کااعلان کرتے ہوئے وکلاء کا اجلاس طلب کرلیا ہے ،وکلاء نے 7روزہ سوگ کااعلان بھی کیا ہے ۔وکلا کا کہنا تھا کہ اس واقع کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ،لاہور بار کے وکلا اس دکھ کی گھڑی میں کوئٹہ کے وکلا کے ساتھ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ کوئٹہ کے رونما ہونے پر گزشتہ روز لاہور بار ایسوسی ایشن نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی جس میں سینئر نائب صدر مقصود احمد بھلہ سیکرٹری جنرل نعیم احمد چوہان ،سیکرٹری شاہد نواب چیمہ اور فنانس سیکرٹری رفعت طفیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں خود کش حملہ ہوا ہے جس میں صدر بار بلال انور سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نشانہ بنی دراصل یہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے شہریوں کو ان کی جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہے مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں حکمرانوں کے محلات اور فیملیز کے سوا کوئی محفوظ نہیں ،ہم امن و امان کے صورت حال پر قابو نہ پانے پر حکومتی اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ سیشن کورٹ، سول کورٹ اور تینوں کچہریوں میں سیکورٹی ناقص ہے،کئی بار حکومت کو وکلا کی سیکیورٹی بہتر کرنے کے لئے کہا گیا ہے لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت عدالتوں کے سی سی ٹی وی کیمرے خراب ہیں، ماڈل ٹاون کچہری میں چار دیواری نہیں ہو رہی جبکہ ہر طرف سیکورٹی کا فقدان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو الرٹ کیا جائے حکومت اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کرے۔انہوں نے مزیدکہا چند روز قبل جاوید اقبال چودھری ایڈووکیٹ کا اغوا ہوا جس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ،چودھری عنصر جاوید ایڈووکیٹ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کاپولیس نے مقدمہ ہی درج نہیں کیا،چودھری رمضان ایڈووکیٹ کو ضلع کچہری لاہور کے باہر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ،سینئر وکیل چودھری نصراللہ وڑائچ کا قتل ہوگیا پولیس نے تاحال قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا، سلیم سہگل،شاکر علی رضوی،محمد انور قریشی،زین غفار،ارشد علی ایڈووکیٹ قتل ہوئے مسعود عابد نقوی پر قاتلانہ حملہ ہوا، چوہدری شاہد حسین ایڈووکیٹ کو ان کی بیٹی سمیت قتل کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف،وزیر قانون پنجاب،حمزہ شہباز شریف،سیکرٹری قانون پنجاب،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب،ڈی آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے ملاقاتیں کرکے انہیں موجودہ تمام صورت حال سے آگاہ کیا گیااور سیکورٹی کے انتظامات کو فول پروف بنانے کے لئے درخواست کی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا وکلاء کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے ،وگر نہ وکلاء راست اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔

وکلا تنظیمیں

لاہور(کامرس رپورٹر)سا نحہ کو ئٹہ کی دہشت گر دی کے خلا ف ٹیکس ما ہر ین کا لاہور ہا ئی کو رٹ کے سامنے زبر دست احتجا جی مظا ہر ہ اور دھر نا دیا گیا ، سا نحہ کو ئٹہ میں وکلا ء ، صحا فیو ں اور دیگر کی شہا دت کے خلاف سا بق صدور لاہور ٹیکس بار قا ری حبیب الر حمن ، محمد اویس ، محمد اجمل خان ، مر کزی صدر پا کستان ٹیکس ایڈوا ئزرز ایسویسی ایشن کے مر کزی رہنما ؤ ں میا ں غفار ، خو اجہ ریا ض حسین ، صدر پا کستان ٹیکس فو رم ذو الفقار خان ، عہد یدا رو ں علی احسن را نا ، عا شق علی را نا ، حسن علی قا دری، قا ری ذو ہیب الر حمن سمیت در جنو ں وکلا ء نے سا نحہ کو ئٹہ میں ہو نے والی کے خلاف زبر دست دہشت گر دی کی مذ مت کر تے ہو ئے کہا کہ وکلا ء بر ا دری کو ہر قسم کی دہشت گر دی کے خلاف بر سرِ پیکا ر ہو نا پڑ ے گا ، اور دہشت گر دی کے خا تمے تک جد و جہد جا ری رہے گی ، انھو ں نے و فا قی حکو مت سے مطا لبہ کیا کہ وہ سا نحہ کو ئٹہ میں شہد ا ء اور زخمیو ں کے لیے خصو صی انتظا ما ت کر یں ،سا بق صدور لاہور ٹیکس بار قا ری حبیب الر حمن ، محمد اویس ، محمد اجمل خان ، مر کزی صدر پا کستان ٹیکس ایڈوا ئزرز ایسویسی ایشن کے مر کزی رہنما ؤ ں میا ں غفار ، خو اجہ ریا ض حسین ، صدر پا کستان ٹیکس فو رم ذو الفقار خان ، عہد یدا رو ں علی احسن را نا ، عا شق علی را نا ، حسن علی قا دری، قا ری ذو ہیب الر حمن نے کہا کہ وکلا ء کئی رو ز سے سکیو رٹی کے لئے حکو مت سے مطا لبہ کر رہے تھے لیکن حکو متی بے حسی اور مجر ما نہ غفلت کے با عث سکیو ر ٹی کے منا سب انتظا مات نہیں کئے گئے ، اگر حکو مت نے عد لیہ اور وکلا ء کی سکیو رٹی کے حو الے سے حفا ظتی اقدا مات نہ کیے تو ملک بھر میں زبر دست احتجا جی رد عمل سامنے آئے گا ۔

مزید : صفحہ اول