دہشتگردوں نے کوئٹہ کو پھر خون میں نہلا دیا، ہسپتال کی ایمرجنسی میں خودکش دھماکہ، 75 افراد شہید108زخمی

دہشتگردوں نے کوئٹہ کو پھر خون میں نہلا دیا، ہسپتال کی ایمرجنسی میں خودکش ...

 کوئٹہ (آن لائن ،آئی این پی ،اے این این ) کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خود کش بم دھماکے اور فائرنگ سے 75افراد شہید جبکہ 108 زخمی ہو گئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بم دھماکے کی ذمہ داری داعش کی خراسان برانچ نے قبول کی ہے۔دہشت گردوں نے پہلے بلوچستان بار کے صدر بلاول انور کاسی پر فائرنگ کی جیسے ہی انکی میت سول ہسپتال لائی گئی تو میڈیااور وکلاکی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی جہاں خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیا،شہید ہونے والوں میں بلوچستان بار کے سابق صدر باز محمد کاکڑ سمیت میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔دھماکہ کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔ کئی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض افراد بھگدڑ کے باعث بھی زخمی ہوئے ۔دھماکے کے بعد 35سے زائد افراد موقع پر شہید ہوئے جبکہ دیگر نے ہسپتالوں میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑا۔زخمیوں کو سول ہسپتال کے علاوہ سی ایم ایچ اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔بم دھماکے سے ہسپتال کے بیرونی حصے اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ قریبی عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں ۔زخمیوں کی بڑی تعداد اور لاشوں کو لے جانے کیلئے سول ہسپتال میں ایمبولینں کم پڑ گئیں جس کی وجہ سے زخمیوں کو نجی گاڑیوں میں دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ۔ دھماکے کے پیش نظر شہر کی تمام ایمبولینسوں کو طلب کر لیا گیا جبکہ کوئٹہ کے تمام ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطا بق سول ہسپتال کے شعبہ حادثات میں کئے گئے دھماکے میں 15 سے 20 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا،بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق بم دھماکے میں 8سے10کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیرنگ،نٹ بولٹ اور چھرے بھی شامل تھے۔دوسری جانب واقعے کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال کے مختلف شعبوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں طبی سہولیات کی فراہمی کا سامان اور دیگر دفتری سامان کا نقصان ہوا ہے جس کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جب کہ دھماکے کی جگہ سے شوہد اکٹھے کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی گئی ہے۔واضح رہے کہ ایڈووکیٹ بلال کاسی کونامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ دھماکے سے کچھ دیر پہلے بلال کاسی کی لاش ہسپتال میں لائی گئی تھی۔جاں بحق ہونے والوں میں وکلا کی بڑی تعداد کے علاوہ نجی ٹی وی" آج "کا کیمرہ مین شہزاد اور بلوچستان بار کونسل کے سابق صدر باز محمد کاکڑ شامل ہیں۔ جبکہ زخمیوں میں ڈان نیوز کے کیمرہ مین اور دنیا نیوز کے رپورٹر فرید اللہ بھی شامل ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بم دھماکے کی ذمہ داری داعش کی خراسان برانچ نے قبول کی ہے۔یہ غیر معروف گروپ ہے جس نے اس سے قبل بلوچستان میں کسی کارروائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ترجمان بلوچستان انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے آسان ہدف کو نشانہ بنایا۔ خود کش دھماکے کو روکنے کیلئے سکیورٹی کے 4 افراد ناکافی ہوتے ہیں۔ وزیرصحت بلوچستان رحمت اللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔دوسری طرف وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سول ہسپتال میں دھماکے کاواقعہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم دھماکے کی نوعیت بارے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا یہ کوئٹہ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی ہے ،سکیورٹی میں غفلت برتنے والے سکیورٹی اہلکاروں کیخلاف بھر پور کارروائی ہوگی ۔نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے میر سرفرازبگٹی کاکہناتھاکہ دہشت گردوں نے کیخلاف بلوچستان سمیت پوراملک جنگ لڑرہاہے سول ہسپتال میں دھماکے کاواقعہ انتہائی افسوسناک ہے ،اس میں معصوم افراد کو ٹارگٹ کیا گیا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی خفاظت کریں، وکلا اور سول سوسائٹی کی سکیورٹی کو مزید موثر بنایا جائیگا۔ انہوں نے کہا تمام ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں ہیں، سکیورٹی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی سخت سز ا دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ ہمارے لوگوں کو جاں بحق نہیں ،شہید کہا جائے، بلوچستان کے عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے ہمیں اپنے غم کو اپنی قوت بنانی ہوگی پھر ہم دہشت گردوں کیخلاف کا میابی حاصل کرسکتے ہیں۔عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے پولیس چیف ظہور آفریدی نے تصدیق کی ہے کہ بم دھماکے میں 75افراد شہید اور 108 زخمی ہوئے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب وکلا ء کی بڑی تعداد سول ہسپتال میں موجود تھی یہ لوگ اپنے ایک شہید رہنما کی میت کے ساتھ ہسپتال آئے تھے جسے کچھ ہی دیر قبل گھر سے ہائی کورٹ جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ بم دھماکے میں وکلا اور میڈیا کے لوگ زخمی ہوئے ۔ادھر غیر ملکی خبرا یجنسی کے مطابق 93افرادشہید اور 120زخمیوں ہوئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر اسکی تصدیق نہ ہوسکی۔

کوئٹہ خود کش حملہ

اسلام آباد،کوئٹہ(آن لائن)صدر پاکستان ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف ،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان،وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری،سینیٹر سراج الحق،سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک ،گورنر سندھ رشرت العباد ،گورنرخیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا،گورنر پنجاب رفیق رجوانہ اور بلوچستان کے گورنر محمد خان اچکزئی ،سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ،چیئرمین سینیٹ سمیت دیگر رہنماؤں نے بلوچستان بار کونسل کے صدر کے قتل اور سول ہسپتال دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور اس افسوس ناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں پر رنج وغم کا اظہار کیا جبکہ بلوچستان حکومت نے اس افسوس ناک واقعہ کے بعد صوبہ بھر میں 3روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے،اور صوبہ بھر میں ہائی الرٹ جاری کر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے سول ہسپتال کوئٹہ میں دھماکے کی سخت مذمت اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام ، فورسز اور پولیس کی بے پناہ قربانیوں کے بعد امن بحال ہوا، کسی کو بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی سکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حملے میں زخمی ہونے والوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے سول ہسپتال کوئٹہ میں دھماکے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے سول ہسپتال کوئٹہ دھماکے میں بڑی تعداد میں بے گناہ جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہائیوں سے بد ترین دہشت گردی کا شکار ہیں، شیطانی عمل کے پیچھے ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا ہاتھ ہے۔چےئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں دھماکے سے بے گناہ افراد کی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت واقعے میں ملوث افراد کو جلد سے جلد گرفتار کرے ۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال اکبر کاسی کا قتل اور دھماکہ ایک ہی منصوبے کا حصہ تھے، وفاقی حکومت دہشت گردی سے بھاری جانی نقصان کے باوجود ایسے واقعات پر توجہ نہیں دے رہی، پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کی فکر کی جائے، مزید تاخیر یا مصلحت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سول ہسپتال کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اس طرح کی کارروائیوں سے قوم کو ڈرا نہیں سکتے، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے، آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

مذمتیں

مزید : صفحہ اول