امریکی مسلمان لڑکے کی گرفتاری کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر

امریکی مسلمان لڑکے کی گرفتاری کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی مسلمان لڑکے کی غلط گرفتاری پر اس کے خاندان نے سکول ٹیچر اور دیگر حکام کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا ہے جنہوں نے اس کے گھر پر تیار کئے جانے والے کلاک کو بم سمجھ لیا تھا۔ سوڈانی نژاد چودہ سالہ طالب علم احمد محمد کے ساتھ یہ واقعہ گزشتہ برس ستمبر میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں پیش آیا تھا۔ سکول ٹیچر نے اس کلاک کو بم سمجھ کر خطرہ محسوس کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دے کر گرفتار کروایا تھا۔ اس گرفتاری پر ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا اور غلطی کا احساس ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا تھا۔ صدر اوبامہ کے علم میں آیا تو انہوں نے اس غلطی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل میں اس نوجوان طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں کی داد دینی چاہئے تھی۔ صدر اوبامہ نے احمد محمد کو وائٹ ہاؤس بلا کر اس کی سائنسی ذہانت کا اعتراف کیا اور اپنا کام جاری رکھنے کیلئے بھرپور حوصلہ افزائی کی تھی۔

سوموار کو وفاقی عدالت میں طالب علم کے خاندان کی طرف سے جو دعویٰ دائر کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ طالب علم کو گرفتار کرکے اس کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ قبل ازیں طالب علم کے خاندان نے سکول انتظامیہ سے سوال کیا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی کی گئی جس کی انتظامیہ نے تردید کی۔ اس واقعہ کے بعد احمد محمد اور اس کا خاندان قطر چلا گیا تھا جہاں اس طالب علم کو ایک وظیفے کی پیش کش ہوئی۔ چھٹیاں گزارنے کے بعد یہ خاندان ٹیکساس واپس آگیا ہے۔ طالب علم کے والد محمد الحسان محمد نے اپنے دعویٰ میں کہا ہے کہ کسی ٹھوس وجہ کے بغیر اس کی گرفتاری سے قانون کے تحت اس کا برابر تحفظ کا حق مجروح ہوا ہے۔

مزید : صفحہ آخر