دہشتگردی کے بدلتے انداز ، نئی حکمت عملی کا گہرا ادراک کرنے کی ضرورت ہے

دہشتگردی کے بدلتے انداز ، نئی حکمت عملی کا گہرا ادراک کرنے کی ضرورت ہے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  کوئٹہ میں ایک بار پھر دہشت گردی کی سنگین واردات ہوگئی، بہت بڑی تعداد میں قانون دانوں سمیت عام شہریوں نے جام شہادت نوش کرلیا۔ اس سے پہلے کوئٹہ میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا، طالبات کی بسوں میں دہشت گردی ہوئی، زائرین کو بسوں سے اتار اتار کر گولیاں ماری گئیں، بڑی تعداد میں ڈاکٹروں کو بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا، سکیورٹی اہلکاروں اور ان کی چیک پوسٹوں پر بھی حملے ہوتے رہتے ہیں جن میں فوجی، نیم فوجی اور پولیس کے اہلکار شہید ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ صورتحال قدرے بہتر ہوگئی ہے لیکن ایک وقفے کے بعد سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دہشت گردوں نے ابھی ہار نہیں مانی، اگر خودکش حملوں یا بم دھماکوں کی وارداتوں میں طویل یا مختصر وقفہ آیا تو اس سے یہ مطلب نہیں لیا جاسکتاکہ دہشت گرد ختم ہوگئے اور دہشت گردی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ کوئٹہ کے افسوسناک تازہ سانحے کا صاف اور سیدھا پیغام یہ ہے کہ دہشت گرد اپنی جگہ پوری طرح متحرک ہیں، وہ اپنی مرضی کا ٹارگٹ منتخب کرتے ہیں، اپنے انداز کی کارروائی کرتے ہیں، طریق کار بدلتے رہتے ہیں۔ ان کے اہداف بھی ایک جیسے نہیں، یہ سب کچھ بدلتا رہتا ہے، دہشت گردوں کے طریق کار میں ناگہانیت کا عنصر نمایاں ہے، اچانک خودکش حملہ ہوتا ہے اور چند منٹوں کے اندر اندر وہ کسی منتخب جگہ کو لہو لہان کردیتے ہیں۔ یہ دہشت گرد تربیت یافتہ اور پوری مہارت کے ساتھ کارروائی کرتے ہیں۔ جن خودکش بمباروں کو استعمال کیا جاتا ہے انہیں بھی نہ جانے کتنے طویل عرصے کیلئے تیار کیا جاتا ہے اور برین واشنگ کی جاتی ہے، ورنہ کوئی شخص آسانی کے ساتھ اپنی کمر کے گرد بم باندھنے کیلئے تیار نہیں ہوسکتا جبکہ اسے پختہ علم بھی ہو کہ اسے اڑانے کی صورت میں اس کے بچنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ کوئٹہ دھماکے میں غیر ملکی عناصر ملوث ہیں، یہ ہوسکتا ہے کہ اس سب کی منصوبہ بندی کہیں ملک سے باہر ہوئی ہو، فنڈنگ بھی باہر سے آئی ہو، لیکن جو عناصر اس میں استعمال ہوئے ہیں وہ تو پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں، یہیں پاکستان کی فضاؤں کے اندر سانس لیتے ہیں، یہیں کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہیں، اسلحہ بھی یہیں سے خریدتے یا خود بناتے ہیں۔ یہ لوگ اکیلے نہیں ان کے پورے گروہ ہیں جو کہیں نہ کہیں پاکستان کی سرزمین پر بیٹھ کر سوچ بچار کرتے، منصوبہ بناتے اور پھر اس پر عملدرآمد کرواتے ہیں۔ بظاہر تو سامنے ایک یا بعض صورتوں میں ایک سے زیادہ بمبار ہوتے ہیں لیکن انہیں مانیٹر کرنے کا پورا ایک نظام ہے جس میں درجہ بدرجہ بہت سے لوگ شامل ہیں۔ جو لوگ ملکی سکیورٹی کے ذمہ دار ہیں ان کے سامنے یہ سب کچھ آشکار ہے، وہ ہوشیار اور مستعد بھی ہیں لیکن واردات پھر بھی ہو جاتی ہے کیوں؟ بس اس پہلو پر زیادہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف پرعزم ہیں کہ دہشت گردی کو اسی سال ختم کیا جائے گا وہ ایک سے زیادہ بار 2016ء کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دے چکے ہیں، یہ بھی کہہ چکے کہ آپریشن ضرب عضب آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ عالمی ایکٹرز بھی اس سلسلے میں پوری طرح متحرک ہیں کہ دہشت گردی کے اس عفریت سے پاکستان کی جان نہ چھوٹنے پائے۔ بس سکھ کا وقفہ ذرا طویل ہوا اور پھر واردات ہوگئی۔ بہت سی قربانیوں، محنت اور جانفشانی کے بعد اگر دہشت گردی کا سلسلہ ملک کے کسی ایک حصے میں قدرے رکتا ہے تو پھر وقفے کے بعد کسی ایسی جگہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس جانب گمان بھی نہیں ہوتا، کوئٹہ میں پہلے تو ایک وکیل رہنما کو نشانہ بنایا گیا اور جب انہیں ہسپتال پہنچایا گیا تو ایمرجنسی میں خودکش دھماکہ ہوگیا۔ منصوبہ سازوں نے سوچا ہوگا کہ وکیل پر حملے کے بعد وکلاء کی بڑی تعداد لازماً ہسپتال پہنچے گی۔ کوئٹہ زیادہ بڑا شہر نہیں، انہیں یہ بھی اندازہ ہوگا کہ وکیل کون سے ہسپتال میں جمع ہوں گے چنانچہ منصوبہ سازوں نے پوری پلاننگ کے ساتھ ہسپتال کے ایمرجنسی میں دھماکہ کردیا جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ادارے کے ذمہ دار احباب کے سامنے واردات کا یہ پہلو شاید پوری طرح نہیں تھا۔ ابھی 14 جولائی کو فرانس میں کیا ہوا؟ پوری قوم یوم آزادی کی خوشی میں مصروف تھی، سکیورٹی کے انتظامات وافر تھے بظاہر کسی بھی واردات کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن ایک بڑے ٹرک کے ڈرائیور نے ایسی واردات کردی جو دہشت گردی کی اب تک کی تاریخ میں بڑی نادر تھی، اس نے ٹرک کرائے پر حاصل کیا اور تیز رفتاری کے ساتھ جشن منانے والوں کے ہجوم پر چڑھا دیا اور پھر بلاخوف و خطر آدھ گھنٹے تک اپنا یہ عمل دہراتا رہا یہاں تک کہ پچاس سے زائد افراد ہلاک اور 80 کے قریب زخمی ہوگئے۔ کیا کسی کاؤنٹر ٹیررازم ادارے کے کرتا دھرتا نے سوچا تھا کہ دہشت گردی اس طرح بھی ہوسکتی ہے؟ بظاہر ایک ٹرک سڑک پر چل رہا ہے اس جانب کسی کی توجہ بھی نہیں اور یہ اچانک موت بانٹنے لگتا ہے۔ اس لئے دہشت گردی کے مقابلے کی ان جدید وارداتوں کا مقابلہ بھی جدید اور متحرک ٹیکنیک سے کرنا ہوگا۔ جو لوگ منصوبہ سازی کر رہے ہیں ان کے شیطانی دماغوں میں کیسے کیسے منصوبے پل رہے ہیں، ان سب کا برق رفتاری سے جائزہ لے کر نئی سٹریٹجک پلاننگ کرنا ہوگی۔

اگر اس واردات میں غیر ملکی ہاتھ ہے تو ذرا تصور فرمایئے پاکستان کی کامیاب ڈپلومیسی کے نتیجے میں بھارت کو اس وقت دن میں تارے نظر نہیں آگئے ہوں گے جب اسے پتہ چلا ہوگا کہ امریکہ کی عملی معاونت کے باوجود وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن نہیں بن سکتا۔ ذرا آپ ان دنوں کے بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا جائزہ لے لیجئے آپ کو پتہ چلے گا کہ ’’ماہرین‘‘ سے خوشیاں چھپائے نہیں چھپتی تھیں۔ ان کا یہ خیال تھا کہ بس ادھر اجلاس ہوا اور ادھر بھارت نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بن جائے گا۔ ہمارے ہاں ایسے لال بجھکڑوں کی کمی نہ تھی جو نریندر مودی کے طوفانی دورے کے سامنے اپنی عقل و خرد کے ہتھیار پھینک چکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہوچکا اور بھارت کی جارحانہ سفارت کاری پاکستان کو روندتی ہوئی گزر گئی لیکن ہوا کیا؟ آپ سب جانتے ہیں لیکن وہ جو شرم ہوتی ہے اور جو حیا ہوتی ہے وہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا طعنہ دینے والوں کے قریب سے نہیں گزری۔ بھارت کو یہ بھی یقین تھا کہ وہ سلامتی کونسل کا رکن بن جائے گا لیکن اس کی سفارت کاری یہاں بھی کام نہیں آئی۔ یہ دونوں ناکامیاں بھارت کو آسانی سے ہضم ہو جائیں گی پھر سی پیک کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل کے بعد دنیا کو خطے کا نقشہ بدلتا نظر آتا ہے۔ ان سب ناکامیوں کے بعد بھارت نے اپنے ایکٹروں کو آگے کردیا ہے۔ کلبھوشن کو اسی مقصد کیلئے بھیج دیا تھا لیکن وہ پکڑا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اتنے بڑے عہدے کا کوئی افسر جاسوسی کے الزام میں پہلی مرتبہ گرفتار ہوا ہے۔ اور بعض بزرجمہر کہتے ہیں کہ ہم غافل ہیں؟ ایسا نہیں ہے یہ ہماری کامیابیاں ہیں جو دشمنوں سے ہضم نہیں ہو رہیں بھارت کی مایوسی اور بددلی کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اس لئے اگر دھماکوں میں بھارتی ہاتھ ہے تو یاد رکھا جائے کہ یہ سلسلہ ابھی رکنے والا نہیں ہے۔ راج ناتھ سنگھ جس طرح پاؤں پٹختے ہوئے گئے ہیں اور جاکر پارلیمنٹ میں جس مایوسی کا اظہار کیا ہے اس کے بعد ’’گریٹ گیم‘‘ پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

بدلتے انداز

 

مزید : تجزیہ