،یمن مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ، جلد دوبارہ آغاز ہوگا،اقوام متحدہ

،یمن مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ، جلد دوبارہ آغاز ہوگا،اقوام متحدہ

  کویت سٹی (این این آئی)یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہاہے کہ یمنی مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کویت میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اسماعیل ولد الشیخ احمد نے بتایا کہ مذاکرات ایک ماہ کے اندر دوبارہ سے کسی متفقہ مقام پر شروع کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ہم کویت سے جا رہے ہیں تاہم امن مشاورت جاری رہے گی۔ آئندہ ہفتوں کے دوران کام کا میکانزم تبدیل ہوجائے گا۔ ہم اس معاملے کو فریقین کے اپنی قیادت کے ساتھ مشاورت کے لیے چھوڑتے ہیں اور پھر ہم ہر فریق کے ساتھ تفصیلات کی درستی اور شفافیت پر کام کریں گے۔ میں پھر یہ بات دہراوؤں گا کہ دوام پذیر حل ہی زیر غور لایا جائے گا اس لیے کہ جلدبازی میں تلاش کیا جانے والا حل ناقص ہوگا۔ولد الشیخ کے مطابق حکومت اور باغیوں کے وفود نے یمن میں بحران کے پرامن حل تک پہنچنے کے لیے اپنی پاسداری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام شریک فریقوں کا مذاکرات کی ایک میز پر موجود ہونا بذات خود ایک کامیابی ہے ، تمام فریقوں کی جانب سے نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درامد کے حوالے سے تحریری تجاویز پیش کی گئی ہیں۔انہوں نے باور کرایا کہ انخلاء اور ہتھیاروں کی حوالگی کے معاملات ختم ہونے کے بعد سیاسی معاملات پر بات ہوگی اور آئندہ دور میں دونوں جانب سے عسکری ماہرین بھی شریک ہوں گے۔ولد الشیخ نے جانبین پر زور دیا کہ وہ مزید رعایتیں اور ضمانتیں پیش کریں اور موجودہ مرحلے میں یمن میں کسی بھی یک طرفہ اقدام سے گریز کریں۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے یمن کی موجودہ دشوار صورت حال اور معیشت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی عوام کو مزید تکالیف سے بچانے کے لیے مل کر کوششیں کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقتصادی بحران کے حل کا انحصار مستقل سیاسی حل پر ہے۔ ولد الشیخ کا کہنا تھا کہ " اقتصادی اشاریے غیر اطمینان بخش بلکہ خطرناک ہیں۔ یہ سب جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔خصوصی ایلچی نے احسن طور مذاکرات کی میزبانی کرنے پر کویت کا خصوصی شکریہ ادا کیا ۔ اور امن مذاکرات کے لیے عالمی برادری کے حمایتی کردار کو بھی سراہا۔اسماعیل ولد الشیخ احمد نے اپنے بیان کے اختتام پر گزشتہ ہفتوں کے دوران ہونے والے اجلاسوں میں سامنے آنے والی نمایاں ترین ہدایات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان میں لڑائی روکنے کی شرائط کی پاسداری، فائربندی کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی کمیٹی اور مقامی امن کمیٹیوں کو فعال بنانا، انسانی امداد اور بنیادی لوازمات پہنچنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات، تمام سیاسی قیدیوں اور نظربند شخصیات کی فوری رہائی کو آسان بنانا، مشاورت کوسبوتاڑ کرنے والے کسی بھی ممکنہ عمل اور جارحیت سے گریز، فریقین کے وفود کا اپنی قیادت کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنا، ایک ماہ کے اندر متفقہ مقام پر مذاکرات کا نیا دور شروع کرنا، یمن کے تنازع کا مستقل ، مکمل اور پائے دار حل تلاش کرنے کے لیے مثبت روح برقرار رکھنا اور آئندہ دور میں فریقین کی جانب سے عسکری ماہرین کی موجودگی شامل ہیں۔

مزید : علاقائی