سانحہ کوئٹہ :وکلا کو ہڑتال نہیں کرنی چاہئے

سانحہ کوئٹہ :وکلا کو ہڑتال نہیں کرنی چاہئے
 سانحہ کوئٹہ :وکلا کو ہڑتال نہیں کرنی چاہئے

  

دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر حملہ کیا ہے۔ دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر ہمیں یہ احساس دلا یا ہے کہ ہم ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتے نہیں ہیں۔ ابھی جنگ جاری ہے۔ ابھی دشمن حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابھی ہم محفوظ نہیں ہیں۔ بلوچستان صرف دہشت گردوں کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دشمنوں کا بھی ہد ف ہے۔ وہ دشمن جو سی پیک کی وجہ سے ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ وہ دشمن جس نے پاکستان کو پہلے بھی دو لخت کیا تھا اور اب پھر ایسی سازشوں کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ دشمن جو کل بھوشن بھیجتا ہے۔ وہ دشمن جس کو پاکستان کاوجود قبول نہیں ہے۔ ہمیں دشمن کا علم ہے۔ اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں۔ لہذا دشمن کون ہے کی بحث نہ صرف فضول ہے بلکہ وقت کا ضیاع بھی۔ اور صورتحال کو متنازعہ بنانے کی سازش ہے۔

کوئٹہ میں جو ہوا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن کیا صرف مذمت کرنے سے ہمارا فرض ادا ہو گیا؟ کوئٹہ کا واقعہ ہمارے لئے کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ دشمن نے اس سے پہلے بھی ہمیں للکارا ہے۔ دشمن نے پہلے بھی ہم پر چھپ کر وار کیا ہے۔ دشمن نے پہلے ننھے معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دشمن ہر بار ایسا کر کے ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہمیں جاگتے رہنا ہے۔ہمیں متحد رہنا ہے۔ دشمن ہسپتالوں ،پارکوں پر حملہ کر کے ہمیں خوف میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے ہمت و حوصلے کو للکارتا ہے۔

ہر بار جب ایسا حملہ ہو تا ہے تو قوم کے جذبے جوان ہو جاتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو خصوصی خراج تحسین پیش کرنا چاہئے کہ وہ ایسے کمزور لمحہ میں قوم کو سہارا دیتے ہیں۔ موقع پر پہنچتے ہیں۔ اور دشمن کو للکارتے ہیں جس سے قوم کو حوصلہ ملتا ہے کہ ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ جیت ہماری ہو گی۔ جنرل راحیل شریف بلا شبہ ایسے مواقع پر قوم کے لئے امید کی کرن بن جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی ایسے کسی بڑے واقعہ پر پہنچتے ہیں۔ یہ بھی اب روا یت ہی بنتی جا رہی ہے کہ جنرل راحیل شریف اوروزیر اعظم میاں نواز شریف دونوں اکٹھے زخمیوں کی عیادت کرتے ہیں۔ قوم کو پیغام دیتے ہیں۔ کہ ہم سب دہشت گردوں کے خلاف اس جنگ میں متحد ہیں۔ سول اور عسکری ادارے قوم کی خدمت اور حفاظت کے لئے متحد ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کی سیاسی قیادت ایسے واقعہ کے بعد بھی متحد نہیں ہو تی۔ بلکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم اکٹھے عیادت کر سکتے ہیں تو باقی سیاسی قیادت بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہونی چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان اور بلاول بھٹو کیوں وزیر اعظم کے ساتھ کوئٹہ نہیں پہنچے۔ وہ و زیر اعظم کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر دہشت گردوں کو یہ پیغام کیوں نہیں دیتے کہ ہم ایک ہیں۔ کیوں ایسے موقع پر بھی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں مولانا شیرانی کا بیا ن چاہے سچ پر ہی مبنی کیوں نہ ہو۔ لیکن اس کا موقع ٹھیک نہیں۔ یہ موقع کسی بھی قسم کے متنازعہ بیان دینے کا نہیں ہے۔ اسی طرح عمران خان کا بھی وزیر اعظم اور آرمی چیف سے اگلے دن جانا ٹھیک نہیں۔ سب کو اکٹھے یک زبان اور متحد ہو کر قوم کو حوصلہ دینا چاہئے۔ غلام احمد بلور کا بھی قومی اسمبلی میں بیان کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے بیانات بھی درست نہیں ہیں۔

یہ درست ہے کہ کوئٹہ دہشت گردی میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وکلا کی بڑی تعداد نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ پوری قوم وکلا کے سوگ میں برابر کی شریک ہے۔ وکلا برادری اس ملک کا اہم ستون ہیں۔یہ ملک میں آئین و قانون کی پاسداری کے ضامن ہیں۔ بلوچستان کے وکلاء تو اس لئے بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ وہ بلوچستان میں پاکستان کے آئین کے محافظ ہیں۔ بلوچستان کے وکلا نے بلوچستان میں نہ صرف پاکستان کے آئین بلکہ پاکستان کے تحفظ کا بھی مشن بلند کیا ہوا ہے۔

تا ہم مجھے وکلا کی جانب سے سانحہ کوئٹہ کے بعد ہڑتال کے اعلان سے کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ اگر وکلا اس لئے ہڑتال کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھی دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہو گئے ہیں تو کل کو جب سیکورٹی اداروں کے لوگ کسی دہشت گردی کے واقعہ میں نشانہ بنتے ہیں تو کیا اگلے دن سیکورٹی اداروں کے اہلکار ہڑتال پر چلے جائیں گے۔ توگزشتہ روز بلاسٹ تو ہسپتال کے شعبہ حادثات پر ہوا ہے اور اس طرح ہسپتال کو نشانہ بنانے پر اگر کل کو ڈاکٹر ہڑتال کر دیں تو کیا یہ درست ہو گا۔ اس لئے میرے خیال میں وکلا کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کوئی درست اقدام نہیں ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی وزیر اعظم چرچل کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ جنگ کی وجہ سے نظام درہم برہم ہو گیا ہے تو چرچل نے کہا کہ کیا برطانیہ کی عدالتیں کام کر رہی ہیں تو سوال کرنے والے نے کہا کہ عدالتیں کام کر رہی ہیں۔ تو چرچل نے کہا کہ پھر نظام چل رہا ہے۔ اس لئے ہمارے وکلا کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ ان کی ہڑتال سے دشمن کا حوصلہ بلند ہو گا۔ اس کے عزائم کو حوصلہ ملے گا لیکن اگر وکلا اس ملک کے نظام انصاف کو چلنے دیں گے ۔ تو دشمن کا حوصلہ پست ہو گا۔ وکلا کو سمجھنا ہو گا کہ ان کی جانب سے ہڑتال کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ وکلا کے نمائندے اس بات کو سمجھیں گے کہ ان کی جانب سے ہڑتال کی اپیل ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ جہاں تک وکلا کے اس مطالبہ کا تعلق ہے کہ وکلا کو سیکورٹی دی جائے تو یہ کسی حد تک جائز ہے لیکن پھر بھی یہ بھی حقیقت ہے ریاست کے پاس تمام وکلا کو سیکورٹی دینے کے وسائل نہیں ہیں۔ اس لئے وکلا کو ایسے موقع پر ریاست سے ٹکراؤ کی جانب نہیں جانا چاہئے۔

مزید : کالم