پاناما لیکس ٹی۔او۔آر، سپیکر سے اپوزیشن کی ملاقات، ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوشش

پاناما لیکس ٹی۔او۔آر، سپیکر سے اپوزیشن کی ملاقات، ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوشش

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاناما لیکس کے مسئلہ پر پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کے لئے متحدہ اپوزیشن نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی دعوت قبول کرلی ہے، آج( منگل) اسمبلی چیمبر میں یہ ملاقات ہوگی اس سے قبل متحدہ اپوزیشن والے سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر چودھری اعتزاز احسن کے چیمبر میں مل کر اپنا موقف طے کریں گے، وزیر اعظم محمد نواز شریف نے لندن میں علاج کے دوران اور پاکستان واپسی سے چند روز قبل ہدائت کی تھی کہ پارلیمانی لیڈروں اور سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں سے رابطے شروع کر کے ان کو اعتماد میں لیا جائے اور باور کرایا جائے کہ ایجی ٹیشن سے مسائل حل نہیں ہوتے اس کے لئے بات چیت کی جائے جس کے لئے وہ( وزیر اعظم) تیار ہیں، یہ ذمہ داری انہوں نے اسحق ڈار پر ڈالی اور سپیکر ایاز صادق سے کہا کہ وہ پاناما لیکس کے لئے ٹی۔او۔ آر پر مصاعت کی کوشش کریں کہ ڈیڈ لاک ختم ہو کر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو اس سلسلے میں وزیر اعظم نے وطن واپس آتے ہی مشاورت کا عمل شروع کیا اپنے اراکین پارلیمنٹ سے ملے اور مختلف پارلیمانی لیڈروں سے بھی ملاقات کی ان میں مولانا فضل الرحمان تو تھے ہی محمود اچکزئی اور آفتاب شیر پاؤ سے بھی بات کی جبکہ اسفند یار ولی خان سے بھی ان کے روابط ہیں، اسی حوالے سے میثاق جمہوریت کو بھی تازہ کرنے کی سعی ہوئی اور بالواسطہ طور پر ملک عبد الرحمن کے توسط سے سابق صدر آصف علی زرداری سے بھی تجدید لی گئی چنانچہ بلاول بھٹو زرداری نے پہلے جو اعلان عمران خان کی تحریک کا ساتھ دینے کا کیا تھا اسے موخر کرتے چلے جا رہے ہیں، جبکہ آج جب سپیکر سے ملاقات ہوگی تو ان کی طرف سے یقین دہانی کرائی جائے گی کہ پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کے ٹی۔ او۔آر زیر غور لائے جائیں گے اور قابل قبول راستہ تلاش کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

وزیر اعظم نے حالات کو ساز گار بنانے کے لئے جو حکمت عملی اختیار کی اس میں ان کی اپنی عوامی رابطہ مہم بھی شامل ہے جس کا مطلب عوامی حمائت کے دعوے کا عملی جواب دینا ہے جبکہ مفاہمت کی پالیسی کا اجرأ ہوگا اور پاناما لیکس پر ممکن حد تک رعائت دی جائے گی کہ یہ مسئلہ حل ہوسکے اور بڑا مطالبہ پورا ہو جائے اس سلسلے میں یہ ممکن ہے کہ چودھری اعتزاز احسن کی یہ تجویز الفاظ کی ہیرا پھیری کے ساتھ منظور کرلی جائے کہ ٹی۔ او۔آرز میں احتساب کے حوالے سے آف شور کمپنیوں کے اہل خاندان بھی شامل ہوں اور حکومت اپنی طرف سے یہ تجویز واپس لے لے کہ کمیشن ماضی سے احتساب کر ے، اس کی جگہ یہ ممکن ہے کہ احتساب بیورو(نیب) سے کہا جائے کہ وہ سب کا احتساب کرے ، کمیشن کے لئے وقت کے تعین کا مسئلہ بھی متنازعہ نہیں ہوگا البتہ اختیارات کے معاملے پر تفصیلات کے حوالے سے کچھ اختلاف ممکن ہے لیکن ایسا نہیں کہ حل طلب نہ ہوگا، یوں وزیر اعظم کی اپنی حکمتِ عملی یہ مسئلہ حل کردے گی تو تحریک انصاف کے پاس تحریک کا جواز نہیں رہے گا، ڈاکٹر طاہر القادری اکیلے قصاص مارچ کرتے رہیں گے لیکن کب تک؟ اگر ان کو فری ہینڈ دیا گیا تو دھرنوں سے پریشان ہونے والے عوام ہی ان کے خلاف ہو جائیں گے۔

یہ حکمتِ عملی بظاہر ٹھیک نظر آتی ہے تاہم اس کے لئے لازم ہے کہ یہ سب صاف دلی سے کیاجائے، وزیر اعظم کو کسی نے بھی عوامی رابطے سے نہیں روکا لیکن یہ رابطے اس طرح نہیں ہونا چاہئیں جیسے امیر مقام کا جلسہ ہوا کہ اسی روز پشاور سے اٹک تک تحریک انصاف کا احتساب مارچ تھا اور اسی روز امیر مقام نے پشاور میں جلسہ کیا، جلسے جلوس اور مظاہروں کا حق سب کوہے مسلم لیگ(ن) نے بھی کرنا ہیں تو ضرور کرے لیکن ایسا دن اور مقام نہ ہو کہ آپس میں تصادم کا خدشہ پیدا ہو جائے یہ گذشتہ روز خوشی سے ایسا نہیں ہوا جو اچھی با ت ہے۔

ملک جن مسائل سے دوچار ہے ان میں امریکی دباؤ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مساوی سلوک کی بجائے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، اندرونی طور پر دہشت گرد مصروف عمل ہیں اور گزشتہ روز(سوموار) کوئٹہ میں وکیل کو قتل کیا گیا اور پھر ہسپتال کی ایمر جنسی میں بم دھماکہ کردیا گیا، یوں ایسی وارداتیں مسلسل جاری ہیں جبکہ پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کے چھہ سواروں کو طالبان نے یر غمال بنا لیا، اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ طالبان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں امتیاز نہیں ہے، بھارت اور افغانستان کا رویہ ظاہر ہے، ایران سے تعلقات بہتر تو ہیں خوشگوار نہیں ہیں، ایسے میں ملک کے اندر استحکام اور جمہوری طرز عمل کی ضرورت ہے لیکن یہ بھی لازم ہے کہ پانی اوپر سے نیچے آئے حکمرانوں کو اپنی گردن کے بل درست رکھنا ہوں گے۔

ملاقات

مزید : تجزیہ