10 اگست سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسوں کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے ،رجسٹرار

10 اگست سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسوں کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے ،رجسٹرار

پشاور( پاکستان نیوز)3اگست رات 10:30 بجے کو ایس بی بی یو میں سٹوڈنٹس کا سٹرائیک ہوا تھا جسکے نتیجے میں یونیورسٹی تاحال بند ہے۔ایس بی بی یو کے رجسٹرار بادشاہ حسین نے گذشتہ روز میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا یہ احتجاج کسی سہولت کے نہ ہونے کیوجہ سے بلکل نہیں ہوئی تھی ۔یہ ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت یونیورسٹی کے خلاف سازش تھی جو کہ الحمدُ لللہ ناکام ہوئی اور وہ کارندے بے نقاب ہوئے۔ ہم اُن بیانات کے سختی سے مذمت کرتے ہے جو کہ بعض سیاسی قایدین کے طرف سے بغیر حقایق جانے دی گئی ہے۔احتجاج کی اصل وجہ باٹنی کے ایک سٹوڈنٹ اعجاز کا ہاسٹل میں بار بار لڑائی ،ڈسپلن کی خلاف ورزی اور سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہاسٹل سے بے دخلی تھی۔ یونیورسٹی ڈیسپلن کمیٹی کے فیصلے کیبعد مذکورہ سٹوڈنٹ نے ہاسٹل چھوڑنے سے صاف انکار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور دوبارہ اپیل کی جسکی اپیل کو منظور کرتے ہوئے نظرثانی کیلئے بھیج دیا گیا جسکا فیصلہ آنا باقی تھا۔یو نیورسٹی ڈیسپلن کمیٹی اور ہاسٹل انتظامیہ کو دباؤ میں لانے کیلئے اُنکی سیاسی لابی سرگرم ہوئی اور مختلف اوچھے ھتکنڈے استعمال کرنے لگے۔ ہاسٹل انتظامیہ نے سٹوڈنٹ کے ساتھ مزید نر می نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اُسے ہاسٹل چھوڑنے کا کہا گیا۔جسکے نتیجے میں اعجاز نے اپنے کارندوں کو ساتھ لیکر احتجاج کا سہارا لیا اور دوسرے سٹوڈنٹس کو کم وولٹیج کے بہانے اپنے قافلے میں شامل کیا حالانکہ لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج سے نمٹنے کیلئے یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں جنریٹرز کابندوبست کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے مظاھرین کو منانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ کسی بات ماننے کیلئے تیار نہیں تھے۔جلاوو گھیراوو اور ٹوٹ پوٹ کے نعرے گونجنے کیبعد انتظامیہ حرکت میں آگئی اور سیکورٹی خدشات کے بنا ء پر سٹوڈنٹس کے یونیورسٹی سے باھر جانے کیلئے تمام راستے بند کئے۔ جب مظاھرین نے سیکورٹی اھلکاروں پر جپھٹنے اور بندوق چھیننے کی کوشش کی تو مجبورانہوں نے طلبہ کو منتشر کرنے اور دفاع کیلئے ہوائی فایرنگ کی۔سٹوڈنٹس ہاسٹل کے کمروں میں جاتے ہوئے اپنے ساتھ پتھر لے گئے جہاں سے پتھراؤ شروع کی۔ یاد رہے کہ پتھراؤ کے نتیجے میں ایڈمن آفیسر اور پرووسٹ زخمی ہوئے تھے۔گزشتہ روز وایئس چانسلر ڈاکٹر خان بہادر مروت کے صدارت میں ایچ او ڈیز کا اجلاس منعقد ہوا جسمیں وقوعہ کی صاف شفاف انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی اور جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گھناونا سازش میں ملوث طلباء کے خلاف سخت ترین کاروائی کیجایگی ۔ایم فل اور پی ایچ ڈی سٹوڈنٹس کیلئے کلاسوں کا باقاعدہ آغاز 10اگست بروز بدھ سے کیا جایگاجبکہ دیگر طلباء کیلئے یونیورسٹی کھولنے کا اعلان جلد کیا جایئگا۔ انتظامیہ یہ نہیں چاہتی کہ طلباء کا مزید وقت ضایع ہوں ۔اجلاس میں ان سیاسی عمائدین پر نکتہ چینی کی گئی جو کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کئے بغیر ذاتی عناد کیوجہ سے طالب العلموں کو استعمال کرتے ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر