آئل ریفائنری کی کوہاٹ میں قیام کیخلاف احتجاجی ریلی

آئل ریفائنری کی کوہاٹ میں قیام کیخلاف احتجاجی ریلی

کوہاٹ(بیورو رپورٹ) آئل ریفائنری کی کوہاٹ میں قیام بارے کوہاٹ قومی جرگہ کی اپیل پر احتجاجی جلسہ و جلوس، پشاور ،ہنگو اور ٹول پلازہ کے قریب انڈس ہائی وے بند گاڑیوں کی مختلف سڑکوں پر قطاریں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا گاڑیوں میں سوار پردیسیوں کی منٹ سماجت پر انڈس ہائی وے کو ایک گھنٹہ بعد ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔کوہاٹ کے بازار اور مارکیٹیں حسب معمول کھلی رہیں۔آئل ریفائنری کی کوہاٹ میں قیام بارے کوہاٹ قومی جرگہ کی اپیل پر احتجاج بیرون تحصیل گیٹ منعقد ہوا جہاں سے جلوس کی شکل میں یہ قافلہ پُرانا ٹول پلازہ انڈس ہائی وے پر پہنچا جلوس کی قیادت کوہاٹ قومی تحریک کے امیر خان آفریدی،مسلم لیگ ن کے شیر احمد خان بنگش،تحصیل ناظم ملک تیمور خان،سابق ایم این اے الحاج جاوید ابراہیم پراچہ اور جے یو آئی کے حاجی جمیل پراچہ نے کی تاہم تاجران نے اس میں حصہ نہیں لیا،دوسرا جلوس استرزئی ہنگو روڈ سے میاں شاہ رضا اور سید مہتاب الحسن کی قیادت میں اس میں شامل ہوا جبکہ ضلعی کونسلر اؒ ھامد اور ملک فہیم شاہ شیخان سے بھی ایک بڑا جلوس پرانا ٹول پلازہ پہنچا جس نے بعد ازاں ایک بہت بڑے جلسے کی شکل اختیار کر لی اس موقع پر پولیس کی بری تعداد بھی موجود تھی۔ احتجاجی جلسہ سے چیئرمین کوہاٹ قومی جرگہ سابق وفاقی وزیر عباس آفریدی، ضلع ناظم مولانا نیاز محمد ، الحاج جاوید ابراہیم پراچہ ، ملک امیر خان آفریدی ، شیر احمد بنگش ، ڈسٹرکٹ کونسلر مصور شاہ ، محمود الا سلام ایڈوکیٹ ، سید مہتاب الحسن،ڈسٹرکٹ کونسلر الحامد ، عنایت قریشی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ہڑتال ہمارا نقطہ آغاز ہے آئل ریفائنری کوہاٹ کے بجائے کہیں اور قیام میں سودا بازی برداشت نہیں کریں گے یہ کوہا ٹیوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس کی فز یبلٹی رپورٹ کے مطابق کوہاٹ میں اس کے قیام کا فیصلہ ہو چکا ہے مگر تھرڈ پارٹی انوسٹمنٹ مین تبدیلی کرکے اس کا قیام متنازعہ بنا دیا گیا انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے دوسرے ضلع میں قیام کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فرد واحد کو خوش کر نے کا اعلان تھا ہم اس پر کو ئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کی وہ کوہاٹ قومی جرگہ کے ساتھ با مقصد مذاکرات کا ماحول پیدا کرے اور اس بیان کی وضاحت کی جائے بصورت دیگ آئندہ کا لا ئحہ عمل طے کریں گے اور احتجاجی تحریک میں وسعت لائی جائے گی۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر