ڈکیتی کی مزاحمت پر شہری کی ہلاکت ،مشتعل افراد کا تھانہ داجل کا گھیراؤ ،5گاڑیاں نذر آتش،رینجرز نے کرفیو نافذ کر دیا

ڈکیتی کی مزاحمت پر شہری کی ہلاکت ،مشتعل افراد کا تھانہ داجل کا گھیراؤ ...

داجل، راجن پور )نامہ نگار،ڈسٹرکٹ رپورٹر (ڈکیتی میں مزاحمت پر مسلح ڈاکوؤں کی اندھادھند فائرنگ سے ایک بھائی جاں بحق دوسراشدید زخمی ٗپولیس پر روائتی بے حسی کا الزام لگا کر دکانداروں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کردی ٗ سینکڑوں مظاہرین کاتھانہ داجل پر دھاوا ٗ جام پور داجل روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردی اور تھانہ کے مرکزی گیٹ پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ٗمشتعل مظاہرین نے پولیس کی 5گاڑیوں کو آگ لگا دی ۔ رات گئے رینجرز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کے کرفیو نافذ کر دیا۔ (بقیہ نمبر37صفحہ12پر )

تفصیلات کے مطابق گذشتہ کی صبح دس بجے کے قریب پرارہ قوم کا 15سالہ نوجوان محمد دانش موٹر سائیکل ہنڈا 125پر سوار رقبہ سے واپسی پر گھر کو جارہاتھا جوں ہی چوک پرارہ نجی موبائل فون کمپنی کے ٹاور کے قریب پہنچا تو دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح ڈاکوؤں نے اسے روک لیا اور موٹر سائیکل کی چابی طلب کی ٗ دانش کے انکار پر پستول سے پاؤں پر فائر مارکر اسے شدید زخمی کردیا ٗ ساتھ والی دکان سے دانش کا بڑا بھائی خادم حسین پرارہ فائر نگ کی آواز پر باہر نکلا اور اپنے بھائی کی مدد کے لئے آگے بڑھا تو ڈاکوؤں نے اس پر بھی سیدھی فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا ٗ ڈاکوفائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے ۔ دکانداروں نے دونوں بھائیوں کو شدید زخمی حالت میں رورل ہیلتھ سنٹر داجل منتقل کیا جہاں پر تشویشناک حالت کے پیش نظر ڈاکٹروں نے خادم حسین کو ڈیرہ غازیخان ریفر کردیا جو زیادہ خون بہہ جانے کے باعث راستے میں دم توڑ گیا ۔ واقعہ کے فوراً بعد سینکڑروں مشتعل افراد نے دکانیں بند کردیں اور تھانہ حنیف غوری شہید (داجل) پر دھا وا بول دیا اور پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی شروع کردی ٗ اس دوران ڈی ایس پی جام پور عبدالرحمن عاصم نے مذاکرات کرنا چاہے اوریقین دہانی کرائی کہ بہت جلد ملزموں کو گرفتار کرکے جائے وقوعہ پر نشان عبرت بنادیں گے لیکن مظاہرین نے ان کی ایک نہ مانی اور نعرے بازی کرتے ہوئے تھانہ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور ٹائروں کو آگ لگا کر جام پور داجل روڈ ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کردی جس کے بعد سڑک کے دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں بن گئیں ۔جاں بحق ہونیوالے نوجوان خادم حسین کے ورثاء کا کہنا تھا کہ تھانہ سے جائے وقوعہ کا فاصلہ صرف تین سو میٹرہے لیکن اطلاع کے باوجود پولیس تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب ہم اپنے زخمی نوجوانوں کو رورل ہیلتھ سنٹر لے کر گئے تو ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر طبی امداد نہ دی کہ یہ پولیس کیس ہے جب تک پولیس کی ڈاکٹ موصول نہیں ہوگا تب تک ہم طبی امداد نہیں دے سکتے ٗپولیس ڈاکٹ ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے ملا اس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی تھی ۔ورثاء نے لاش کو تھانہ کے سامنے رکھ کر مطالبہ کیا کہ ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کر کے کر ہمارے ساتھ انصاف کیا جاے اور اس کی یقین دہانی ڈی پی او راجن پور کرائے۔ دریں اثناء مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ڈی پی راجن پور سمیت پولیس کی پانچ گاڑیوں کو آگ لگا دی اور تھانہ پر پتھراؤ کر کے پولیس اہلکاروں کو تھانے میں ہی یرغمال بنا لیا ۔ ایس ایچ او تھانہ حنیف غوری شہید(داجل ) حاجی نذر حسین سنجرانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان نے نقاب نہیں پہنے ہوئے تھے ٗ انہوں نے کہاکہ عینی شاہدین کی جانب سے بیان کئے گئے حلیوں کے مطابق ہم تقریباًملزمان تک پہنچ چکے ہیں۔ ادھر ڈی پی راجن پور نے داجل میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری داجل بھجوا دی ہے ۔رات گئے حالات کنٹرول سے باہر ہونے پر رینجرز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کر دیا اور مشتعل مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ واضح رہے کہ اس واقعہ کے باعث علاقہ کئی گھنٹے تک میدان جنگ بنا رہا۔

حملہ/کرفیو

مزید : ملتان صفحہ آخر