سائلین رجسٹری پاس کرانے کیلئے تحصیل آفس ،کمپیوٹرسنٹر کے درمیان شٹل کاک بن گئے

سائلین رجسٹری پاس کرانے کیلئے تحصیل آفس ،کمپیوٹرسنٹر کے درمیان شٹل کاک بن ...

خانیوال (نمائندہ پاکستان ) تحصیل آفس خانیوال میں رجسٹری کروانے والے سائلین رجسٹری پا س کروا نے کیلئے تحصیل آفس اور کمپیوٹر اراضی سنٹر کے درمیا ن شٹل کا ک بن گئے ، تفصیلات کیمطابق تحصیل آفس خانیوا ل میں اپنی زمینو ں کی رجسٹری کروانے کیلئے آنے والے سائلین رجسٹری کروانے (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

کے بعد اسے پاس کروانے کیلئے تحصیل آفس اور کمپیوٹر آراضی سنٹر کے درمیا ن شٹل کا ک بن کے رہ گئے ہیں ، کمپیو ٹر آراضی سنٹر کے قیا م سے لے کر اب تک تحصیل آفس میں 400سے زائد رجسٹریاں درج ہوئی ہیں پٹوا ر کلچر کے خاتمے کے بعد تحصیل آفس خانیوا ل میں رجسٹری ہونے کے بعد رجسٹری پا س ہونے کیلئے اسکی ایک کا پی کمپیوٹر آراضی سنٹر بھیج دی جاتی ہے تاکہ جو علاقے کمپیو ٹر رائز ڈ ہوچکے ہیں انکی رجسٹریاں آراضی سنٹر سے پاس ہو سکیں رجسٹریاں کروانے والے سائلین اپنی پاس شدہ رجسٹری کی کاپی لینے کیلئے جب تحصیلدا ر آفس جاتے ہیں تو تحصیلدار آفس والے سائلین کو کمپیو ٹر آراضی سنٹر بھیج دیتے ہیں کہ آپکا علا قہ کمپیوٹر ائزڈ ہو چکا ہے لہٰذا اپنی رجسٹری کے پاس شدہ کاغذا ت آراضی سنٹر سے وصول کریں سائلین جب آراضی سنٹر جاتے ہیں تو کمپیوٹر سنٹر کے اے ڈی ایل آرانکو تحصیلدار آفس دھکیل دیتا ہے کہ یہ ہمارا کام نہ ہے تحصیلدار خانیوال سے جب اس بارے موقف لیا گیا تو اس نے کہا کہ جب ریکارڈ پٹوا ری کی تحویل سے لیکر کمپیوٹر اراضی سنٹر والوں کو دے دیا گیا ہے تو رجسٹری ہونے کے بعد ان علاقو ں کی رجسٹری پاس کر نا اے ڈی ایل آرکا کا م ہے جو کہ کمپیو ٹر ائز ڈ ہو چکے ہیں اے ڈی ایل آرسے جب اس بارے مو قف لیا گیا تو اس نے اپنے موقف میں کہا کہ اس بارے ڈی سی اوخانیوا ل سے رابطہ کریں ، معرو ف قانو ن دان سا بق جنرل سیکرٹری ڈسٹر کٹ بار خانیوال جو اد نقوی سے اس بارے قانونی رائے لی گئی تو انہو ں نے کہا کہ جب پٹوا ری سے ریکارڈ لیکر آراضی سنٹر کی تحویل میں دے دیا جائے تو رجسٹری ہونے کے بعد پاس کر نے کا عمل کمپیوٹر آراضی سنٹر کے پاس چلا جا تا ہے لہٰذا قانو نی طور پر رجسٹری پا س کرنے کے کاغذا ت سائلین کو فراہم کرنا کمپیوٹر آراضی سنٹر کے عملہ کا ہی کا م ہے 400سے زائد رجسٹری سائلین نے ڈی سی اوخانیوال اور وزیرِ اعلیٰ پنجا ب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر