گاڑیاں روک کر مسلمانوں کو چن چن کرقتل کیاجاتاتھا، بابا عبدالحمید

گاڑیاں روک کر مسلمانوں کو چن چن کرقتل کیاجاتاتھا، بابا عبدالحمید

سیت پور (نمائندہ پاکستان ) 15اگست کو بھارت کا یوم آزادی منانے کے لئے سکھوں کے ایک ہجوم نے امرتسر میں مسلمان عورتوں کو برہنہ کرکے گلی محلوں میں ان کا جلوس نکالا ،سر عام ان کی عصمت لوٹی اور پھر کرپانوں سے ٹکڑے کرکے انہیں زندہ جلا دیا ،لاکھوں مہاجرین بے سرو سامانی کی حالت میں پاکستان میں داخل ہوئے ،ہمیں شکر اداکرنا چاہیے کہ آج ہم غلامی کی زنجیروں سے آزاد کھلی فضاء میں سانس لے رہے ہیں ،ان خیالات کا اظہار 83سالہ بزرگ بابا عبدالحمید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہاکہ 13سال کی عمر میں جھانسہ سے ہجرت کی اور 2ماہ تک اپنے والدین سے انبالہ میں جدا رہا ،لاکھوں کی (بقیہ نمبر5صفحہ12پر )

تعداد میں نقل مکانی ایک عظیم مسئلہ تھا کیونکہ سکھوں کی طرف سے مسلسل حملے ہو رہے تھے ،ریل کی پٹڑیاں توڑی جارہی تھیں ،گاڑیاں روک کر مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا جاتا تھا ،اس خطرناک بربریت سے نمٹنے کے لئے فوجی تنظیم انخلاء قائم کی گئی اور مہاجر کیمپ قائم کئے گئے ،پاکستان آنے کے خواہشمندوں کو امرتسر ،بٹالہ ،ہوشیار پور اور دہلی کے مہاجر کیمپوں میں رکھا جاتا تھا اور وہاں سے انہیں لاہور اور شیخوپورہ کے کیمپوں میں منتقل کرنے کا انتظام کیا جاتا تھا ،یہ بہت پریشان کن مسئلہ تھا ،صرف جالندھر ڈویژن میں 18لاکھ مسلمان پاکستان پہنچائے جانے کے لئے انتظامات کے منتظر تھے جن مہاجر کیمپوں میں ٹھہرایا جاتا ان میں خوراک ،پانی ،سایہ ،صحت ،صفائی اور طبی امدا د کا انتظام سرے سے تھا ہی نہیں ،ان مہاجر کیمپوں میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ لوگ ٹھونس دیئے گئے تھے اس لئے لوگوں کو قافلوں کی صورت میں پیدل اور بیل گاڑیوں میں پاکستان کی طرف روانہ ہونا پڑتا تھا ،،قافلوں کی صورت میں پیدل تھکان سے چور ،بھوک کے مارے ،سفر کی صعوبتوں سے نڈھال 18لاکھ مہاجرین گرتے پڑتے پاکستان پہنچے ،ان کے پاس تن کے کپڑوں کے سوا اور کچھ نہ تھا اور کپڑوں کی بھی اکثر دھجیاں اڑی ہوئی تھیں ،ان قافلوں میں شامل مسلمانوں نے اپنے معصوم بچوں کا قتل اور عورتوں کی بے حرمتی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی ،راستے میں ہر قدم پر موت ان کے گھات میں تھی ان میں سے ہزاروں بھوک اور بیماری میں راستے میں ہی جاں بحق ہو گئے۔بہت سے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے ہی ابدی نیند سو گئے اورسڑکوں پر جگہ جگہ لاشیں پڑی تھیں ،انہوں نے کہا کہ ہمیں شکرادا کرنا چاہیے کہ آج ہم غلامی کی زنجیروں سے آزاد کھلی فضاء میں سانس لے رہے ہیں ،یوم آزادی کا دن ہمیں متحد ہونے کا درس دیتا ہے اور اس عہد کے ساتھ آگے بڑھیں کہ آنے والے وقت میں ہمیشہ پاکستان کی ترقی کے لئے کوشاں رہیں گے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر