کوئٹہ دھماکہ، مزید 2زخمی دم توڑ گئے، شہدا کی تعداد 72 ہوگئی، سانحہ پر فضا سوگوار،شہدا کی تدفین کا سلسلہ جاری،وکلا کاعدالتی بائیکاٹ

کوئٹہ دھماکہ، مزید 2زخمی دم توڑ گئے، شہدا کی تعداد 72 ہوگئی، سانحہ پر فضا ...
کوئٹہ دھماکہ، مزید 2زخمی دم توڑ گئے، شہدا کی تعداد 72 ہوگئی، سانحہ پر فضا سوگوار،شہدا کی تدفین کا سلسلہ جاری،وکلا کاعدالتی بائیکاٹ

  

کوئٹہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)کوئٹہ دھماکے کے مزید دو زخمی دم توڑ گئے جس کے بعد شہدا کی تعداد72ہوگئی ہے۔ المناک سانحہ پرملک بھر میں فضا سوگوار ہے، وکلا عدالتی بائیکاٹ کررہے ہیں،تاجر اور سیاسی جماعتوں کی اپیل پر کئی شہروں میں شٹر ڈاو¿ن ہڑتال ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح کوئٹہ میں خود کش دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے ایک وکیل اور چودہ سالہ لڑکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ، دونوں کوئٹہ کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

دوسری جانب قیامت صغری کے بعد ملک بھر سوگ کی فضا برقرار ہے، بلوچستان بھر میں یوم سوگ منایا جارہا ہے، پنجاب حکومت نے بھی ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کی کال پر وکلا بھی یوم سوگ منارہے ہیں۔ تین روزہ عدالتی بائیکاٹ کے پہلے روز عدالتوں میں کام بھی ٹھپ ہے۔ ماتحت عدالتوں کے جج اہم مقدمات کی سماعت اپنے چیمبرز میں کررہے ہیں۔سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔کوئٹہ اور چمن سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں تاجروں اور سیاسی جماعتوں کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاو¿ن ہے۔کوئٹہ کی تمام یونیورسٹیاں اور تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔سندھ حکومت بھی آج سرکاری سطح پر سوگ منارہی ہے، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سٹی کورٹ میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، وکلا سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔خیبر بختونخوا میں کے عوام بھی دکھ کی اس گھڑی میں بلوچستان کے عوام سے یک جہتی کااظہار کررہے ہیں۔

ملک بھر میں وکلا، تاجر اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے واقعہ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ مختلف شہروں میں شہدا کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کوئٹہ دہشتگردی میں شہید ہونے والے ایڈووکیٹ ایمل خان اچکزئی کو چمن کے علاقے دولت پور میں سپرد خاک کردیا گیا۔باز محمد کاکڑ کو فاتحہ سمنگلی روڈ پر ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں وکلا، شہریوں اور مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، تدفین کے موقع پر رقت آمیزمناظر بھی دیکھے گئے۔لاہور میں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔لاہور ہائیکورٹ میں وکلا نے احتجاج بھی کیا۔ پشاور میں بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

کوئٹہ دھماکے کے درجنوں زخمی بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، انتیس زخمیوں کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر خصوصی ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کردیا گیا۔ کراچی کے آغا خان ہسپتال میں زیر علاج نو زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

یاد رہے کہ پیر کی صبح کراچی کے سول ہسپتال کی ایمر جنسی کے بیرونی گیٹ پر ہونے والے خود کش دھماکے میں وکلا سمیت ستر افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔خود کش دھماکہ اس وقت ہوا جب وکلا کی بڑی تعداد منوجان روڈ پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے بلوچستان بار کے صدر بلال انور کاکڑ کی میت لینے سول اسپتال پہنچی تھی۔

مزید : کوئٹہ /اہم خبریں