گڈ طالبان سے کیا مراد ہے، کیا وہ کرائے کے قاتل نہیں، اسٹیبلشمنٹ ملک کیلئے ہے یا ملک اس کیلئے : مولانا شیرانی

گڈ طالبان سے کیا مراد ہے، کیا وہ کرائے کے قاتل نہیں، اسٹیبلشمنٹ ملک کیلئے ہے ...
گڈ طالبان سے کیا مراد ہے، کیا وہ کرائے کے قاتل نہیں، اسٹیبلشمنٹ ملک کیلئے ہے یا ملک اس کیلئے : مولانا شیرانی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد ( اے پی پی) اسلامی نظریہ کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ گڈ طالبان سے کیا مطلب ہے؟ مسلح تنظیمیں کس کی ہیں؟ کیا یہ کرائے کے قاتل نہیں۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قوم سے جھوٹ نہ بولا جائے۔ بتایا جائے سٹیبلشمنٹ ملک کیلئے ہے یا ملک ان کیلئے؟ دشمن ہمارے گھر کے اندر ہے‘ حکومتی ادارے کرپشن اور جرائم کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ اب آنسو کیوں بہاتے ہیں‘ جھوٹ نہ بولیں کولیشن سپورٹ فنڈ کس لئے لیا؟ لوگوں کو بیوقوف بنانا چھوڑ دیں۔

مولانا شیرانی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ابتدائی طور پر تہذیبوں کے درمیان تصادم کی بات کی گئی جبکہ بعد ازاں اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دیا گیا‘ دراصل یہ دونوں اقدام لوگوں کو اسلام سے بیزار کرنے کیلئے اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے سانحہ میں بلوچستان کے وکلاءکا صفایا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سانحہ پر ہمیں صرف افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے اپنے گھر کے اندر کے دشمنوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1945ءمیں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر اس خطہ پر انگریز کا تسلط تھا آج بھی انگریز ہی مسلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015ءمیں پینٹاگان کی جو رپورٹ افشا ہوئی اس میں واضح ہے کہ امریکہ اپنے تحفظ کیلئے دنیا پر جنگ مسلط کریگا۔ نائن الیون کے بعد فوری طور پر کہا گیا کہ یہ تہذیبوں کے درمیان تصادم ہے۔ بعد میں اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد اسلام سے بیزار کرنا ہے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت بتائے انٹیلی جنس کیوں ناکام ہے غلام احمد بلور نے کہا کہ دشمن قوم کے اندر موجود ہیں۔ عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں، کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا ہے تو شور مچ جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے نوید قمر بولے دل خون کے آنسو رو رہا ہے، یہ درندے کسی ملک کے ایما پر یا مذہب کے نام پر ایسا کر رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل نہیں ہوا، ہمیں نئے عزم کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں، کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا ہے تو شور مچ جاتا ہے، بیرونی ہاتھ ملوث ہے لیکن خودکش حملوں کا زیادہ تعلق مذہب سے ہے، علمائے دین کردار ادا کرنے کیلئے آگے آئیں، مدارس ملوث نہیں لیکن کالی بھیڑیں ہر جگہ ہیں۔

شیریں مزاری بولیں کہ بیرونی ہاتھ ملوث ہونے پہ کسی کو شک نہیں، حکومت بتائے انٹیلی جنس کیوں ناکام ہے؟ ایم کیو ایم کے عبدالوسیم نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کس شق پہ عمل درآمد ہوا، بتایا جائے کون اس پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟ اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور بولے کہ دہلی فتح کرنے کے شوق میں چار جنگیں لڑی ہیں بتاﺅکیا حاصل کیا، مشرقی پاکستان میں پاکستانی بھائیوں نے پاکستانی گولیاں پاکستانیوں کے سینے میں اتاریں، ہمیں غدار اور ایجنٹ کہا گیا، اپنے ہی لوگ اپنے ہی ملک میں مہاجر بنے، دشمن قوم کے اندر دشمن موجود ہیں۔ حل ایک ہے کہ ہمسایوں سے بہترین تعلقات قائم کریں، مسائل حل کریں۔

مزید : اسلام آباد