بلوچستان: لاکھوں روپے سر کی قیمت والے 70 فیصد خطرناک دہشت گرد مسلسل روپوش

بلوچستان: لاکھوں روپے سر کی قیمت والے 70 فیصد خطرناک دہشت گرد مسلسل روپوش
بلوچستان: لاکھوں روپے سر کی قیمت والے 70 فیصد خطرناک دہشت گرد مسلسل روپوش

  

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان میں 70 فیصد دہشت گرد سکیورٹی اداروں کی پہنچ سے دور ہیں۔ ان کے سروں کی قیمت بھی مقرر ہے لیکن یہ کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ہاتھ ابھی تک نہیں آئے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاق نے مفرور مشتبہ دہشت گردوں کے سروں کی قیمت 5 کروڑ 90 لاکھ روپے مقرر کی ہے۔ حکومت پہلے ہی 28 دہشت گردوں کو انتہائی مطلوب ڈکلیئر کر چکی۔ ان میں 216 دہشت گرد ایسے ہیں جو صوبے میں ہونے والے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے ماسٹر مائنڈ رہے ہیں۔ ان میں بی ایل اے کا کمانڈر طقاری عرف اچھو جس کے سر کی قیمت 60 لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 456 مشتبہ دہشت گردوں میں سے 321 کو شیڈول 4 کی کیٹگری A میں شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کے دہشت گرد امو بلوچ کے سر کی قیمت 40 لاکھ روپے ہے جبکہ ماما عرف حاجی کرد جس کا تعلق لشکر جھنگوی سے ہے اس کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر 5 لاکھ روپے انعام مقرر ہے۔ ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا کسی کو پتہ نہیں۔ یہ دہشت گرد پاک چین اقتصادی راہداری کیلئے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہتھیار ڈالنے والوں کو نشانہ بنانا، جشن آزادی کی تقریبات کو نشانہ بنانا بھی انکے اہداف میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق حاجی کرد 2008ءمیں جیل سے فرار ہوا اور فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث ہے۔ حاجی کرد ساتھی فاروق بنگلزئی کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر ہے، بمبر خان کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر ہے۔ دلشاد بنگلزئی کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر ہے۔ دلشاد بنگلزئی کوئٹہ میں امام بارگاہوں پر حملے میں ملوث رہا۔ کوئٹہ ڈویژن میں 199 دہشت گردوں میں سے 130 مفرور ہیں۔ صرف کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں 112 میں 61 مشتبہ دہشت گرد مفرور ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سراغ لگانے میں اب تک ناکام ہیں۔

مزید : کوئٹہ