سانحہ کوئٹہ ، ہر طرف لاشیں، گرد و غبار کے کالے بادل، خون اور آنسو، خواتین بچوں کو ڈھونڈتی رہیں: عینی شاہدین

سانحہ کوئٹہ ، ہر طرف لاشیں، گرد و غبار کے کالے بادل، خون اور آنسو، خواتین ...
سانحہ کوئٹہ ، ہر طرف لاشیں، گرد و غبار کے کالے بادل، خون اور آنسو، خواتین بچوں کو ڈھونڈتی رہیں: عینی شاہدین

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ (ویب ڈیسک) دھماکے کے بعد ہر طرف لاشیں تھیں اور ان مناظر کو بیان کرنا مشکل ہے، دھماکے کے ساتھ ہی لاشیں بکھر گئیں ، گردوغبار تھا اور ہر طرف خون ہی خون ، ہرکوئی اپنے پیاروں کو ڈھونڈتارہا، خواتین اپنے بچوں کی تلاش بھی بھاگی بھاگی آئیں ۔ 

روزنامہ دنیا کے مطابق  کیمرہ مین عبدالوحید نے بتایا کہ بلوچستان بار کے صدر بلال انور کاسی کی میت کو ایکسرے روم میں لے کر جارہے تھے اور میڈیا نمائندے بھی پیچھے جارہے تھے کہ اسی دوران اچانک زوردار دھماکہ ہوگیا تو کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوگیا۔ ہم لوگ اندر تھے اور ہمارے دو ساتھی کیمرہ مین باہر تھے جو دونوں دھماکے میں شہید ہوگئے، ہم لوگ جیسے ہی باہر آئے تو ہر طرف لاشیں نظر آئیں اور ویہاں اس وقت دو تین ہی ایسے لوگ نظر آئے جو زمین پر پڑے سانس لے رہے تھے۔

سول ہسپتال کے پیرامیڈیکل سٹاف میں شامل ضیا نے بتایا کہ جب بلال کاسی کی لاش ہسپتال پہنچی تو اس وقت وکلا بھی باہر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ دور سے ان وکلا کو دیکھ رہے تھے اور جیسے ہی انہوں نے ساتھی سے کہا کہ چلو ان کے پاس جاتے ہیں تو دھماکہ ہوگیا اور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں۔ ان میں باہر کھڑے وکلا کے علاوہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے باہر بیٹھے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ انہوں نے آبدیدہ آواز میں کہا کہ جو مناظر میں نے دیکھے وہ بیان نہیں کئے جاسکتے۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی، میں نے دیکھا کہ ایک عورت دھماکے کے بعد گم ہوجانے والے بچے کو تلاش کررہی تھی۔ ایک وکیل عبدالطیف نے بتایا کہ وہ بلال کاسی کی ہلاکت کی خبر سن کر اظہار تعزیت کے لئے پہنچے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے وہ ہسپتال آکر درجنوں وکیلوں کی لاشیں اور زخمیوں کو دیکھیں گے۔ ایک عینی شاہد ولی الرحمان نے دھماکے کے منظر کو خوفناک قرار دیتے وہئے بتایا کہ ہر طرف لاشیں تھیں۔ وہ اپنے بیمار والد کو ایمرجنسی وارڈ لے کر جارہے تھے جب دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ وہ دونوں زمین پر گرگئے، جب وہ اٹھے تو انہوں نے لاشیں دیکھیں اور زخمی مدد کے لئے چلارہے تھے۔ اے ایف پی کے صحافی نے بتایا ہے کہ وہ دھماکے کی جگہ سے 20 میٹر کے فاصلے پر تھا، انہوں نے بتایا کہ گرد اور غبار کے کالے بادل چھاگئے۔ میں بھاگ کر اس جگہ گیا تو دیکھا کہ ہر طرف لاشیں بکھری پڑیہ ہیں اور بہت سارے زخمی چلارہے تھے۔ خون بہہ رہا تھا اور انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملہ درجنوں زخمیوں کی مدد کے لئے ہسپتال سے باہر آیا تو نرسیں اور وکلا رورہے تھے، لوگ اپنا سرپیٹ رہے تھے، ماتم کررہے تھے۔ وہ سکتے اور غم میں تھے، زخمی پرویز مسیح نے بتایا کہ جو کوئی بھی یہ کررہا ہے وہ انسان نہیں ہے، وہ درندہ ہے اور اس میں کوئی انسانیت نہیں۔

مزید : کوئٹہ