دو نمبری ہی سو نمبری ہے!

دو نمبری ہی سو نمبری ہے!
 دو نمبری ہی سو نمبری ہے!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یوں تو قدرت نے ذہانت کے خزانے پوری دنیا میں چھپا رکھّے ہیں، مگر جس لگن سے اس پاک سرزمین کے فطین انسانوں نے انہیں تلاش کرکے مال بنانے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے، اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ معاملہ چاہے حسنُ و نزاکت کا ہو، تسکینِ روح کا ہو یا لذتِ کام ودہن کا ہو، اک طلسمِ ہوش ربا ہے۔ اپنی مالی حالت کو جلد از جلد اوپر لے جانے کی ہوس میں یہاں کے ذہن، فطین دماغوں نے ہر شے کی ’’اصل‘‘ کو ’’نقل‘‘ میں کچھ اس طرح سے ڈھالنا شروع کردیا ہے کہ ’’نقل‘‘ پر ہی لوگ انحصار کرتے جارہے ہیں اور ’’اصل‘‘ ماضی کا قصہ بنتی جارہی ہے۔

’’حسنُ و نزاکت‘‘ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے آج صرف ’’لذتِ کام و دہن‘‘ کی بات کرتے ہیں، جسے ہمارے ’’کلاکار‘‘ دولت کے پجاریوں نے اپنی فطانت کی بدولت ایسی ایسی ایجادات سے روشناس کرایا ہے کہ اداکارہ ’’میرا‘‘ کی ایجاد کردہ ’’انگریزی‘‘ بھی منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ یہ بات تو زبان زدِ عام و خاص ہو چکی ہے کہ ’’فنکار‘‘ لوگ ہمیں ایسے پکوان کھلا رہے ہیں جس میں گدھے، کُتے اور بکرے کے گوشت کا امتیاز ختم ہو چکا ہے، اب تو کسی بھی ریسٹوران کی چمکتی دمکتی کراکری میں پیش کردہ ’’طعام‘‘ کو (جسے آپ مرغِ حلال یا پاکیزہ مٹن سمجھ کر نوشِ جان کرتے ہیں) آپ کے سامنے اک معمے کی طرح سجا دیا جاتا ہے کہ جیسے وہ چلنج کر رہے ہوں ’’بوجھو تو جانیں‘‘۔

قارئین! یہ مخمصہ محض حیاتِ حیوانی تک ہی محدود نہیں رہا۔ اس میں ہماری فطین ذہانت نے ترقی کرتے ہوئے ’’نباتات اور مقوّیات‘‘ کو بھی شامل کرلیا ہے۔ اب دیکھاجاسکتا ہے کہ بیچارا ’’تربوز‘‘ بھی معشوقِ دغاباز کی طرح، اپنے رنگ اور ذائقے کو بذریعہ اِنجکشن بدلنے پر قادر ہو چکا ہے۔ ’’خربوزہ‘‘ اور ’’گرما‘‘خانہ بدوش حسیناؤں کی طرح کبھی ’’ پھیکا‘‘ کبھی ’’میٹھا‘‘ محسوس ہونے لگا ہے۔ کھیرا جو کسی کڑیل پہلوان کی طرح ایک کڑواہٹ اپنے سر میں لئے پھرتا تھا، چائنہ چاشنی میں گھل کر اپنی تلخیاں خود ہی مٹا چکا ہے اور توچھوڑیں، سب سے براحال ’’سیب‘‘ کا ہے، جسے کبھی نیوزی لینڈ سے درآمدہ بتایا جاتا ہے، کبھی چین کا مقامی، مگر جس پیکنگ میں سے وہ برآمد ہوتا ہے تو لگتا ہے کہ اس میں ’’بھائی پھیرو‘‘ یا ’’کالا شاہ کاکو‘‘ کی ذہانت استعمال کی گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ’’لیچی‘‘ اور ’’سٹرابری‘‘ بھی کسی تھیٹر کی رقاصہ کے مانند رنگ و روغن سے مزّین ہو کرفروت شاپ پر اپنی بہار دکھا رہی ہوتی ہے۔

نباتات کی بات چلی ہے تو کچھ ذکر سبزیوں کابھی ہو جائے تو کیا برا ہے۔ ہماری کہنہ مشق ’’ماسی کرشید‘‘(جو ہمارا کھانا بنانے پر مامور ہے)آئے روز نیا فتنہ جگا دیتی ہے۔ کبھی ’’کدو‘‘کو بددعائیں دے رہی ہوتی ہے کہ ’’پتہ نہیں یہ بدبخت کوفے سے جنم لے کر آیا ہے کہ اس کا دل ہی نہیں پسیجتا اور گلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ کبھی ’’ٹینڈے‘‘ کو کوسنے دے رہی ہوتی ہے کہ ’’بے ہنر‘‘ بہو کی طرح ذائقہ تو اپنے میکے ہی میں چھوڑ آیا ہے۔

ان سبزیوں کی افزائش تو شاید ذہانت کی کھادوں کی مرہون منت ہو، اگر دیگر سبزیوں کا ذکر کیا جائے تو ’’گوبھی‘‘ کو ’’بادی‘‘ جان کروہ لائق توجہ نہیں سمجھتی اور کبھی ’’بھنڈی‘‘ سے پالا پڑ جائے تو ’’لیڈی فنگر‘‘ سمجھ کر عداوت میں اسے جلا ہی ڈالتی ہے(خیر یہ تو محض تفتن طبع کے لئے تھا) لے دے کے ایک آلو ہی بچا ہے، جو ابھی تک ایسی بے تکی ذہانت سے محروم ہے اور ہمارے کچن کی شان ہے۔ کہنے کو تو ادرک، لہسن اور پیاز پر بھی خامہ فرسائی ہو سکتی ہے، مگر اختصار کی غرض سے ابھی یہ تذکرہ موخر کئے دیتے ہیں۔

مقویات اور ’’مشروبات‘‘ میں بھی یارلوگوں نے وہ گل کھلائے ہیں کہ عقل انسانی ونگ رہ جائے۔ چنے کی دال یا خود ’’چنا‘‘ تو لگتا ہے زمین پر اُگ ہی نہیں رہے، بلکہ کسی آہنی بھٹی میں تیار ہو رہے ہیں جو گلنے کا نام لیتے ہیں نہ جلنے کا۔ کوئی چبانا چاہے تو کسی مایوس عاشقِ سیاست کی طرح پکار اٹھتے ہیں کہ ’’لوہے کا چنا ہوں، کوئی چباکے دکھائے‘‘ ہم تو انگشت بدنداں ہیں کہ ایسے چنے کی تخلیق میں جو ذہانت استعمال ہو رہی ہے، وہ پرت کیسے کھولیں؟

چائے میں استعمال ہونے والی ’’بے چین ذہانت‘‘ کا ذکر اس لئے اختصار سے کریں گے کہ ہمارے ایک حاذق دوست (کرم فرما) کہیں آزردہ نہ ہو جائیں۔

ورنہ جیسی دُرگت بیچاری چائے کی بنائی جارہی ہے ویسی تو کسی تھکے ماندے سیاسی لیڈر کی اسمبلی تقریر میں بھی نہیں بنائی جاسکتی۔ لکڑی کا برادہ، درختوں کی چھالیں مسور کی دال کے چھلکے اور خدا جانے کون کون سی اشیاء، کالی ذہانت میں تحلیل کرکے جو ’’چائے ٹائپ‘‘ چیز، دلکش پیکنگ میں مارکیٹ میں سپلائی کی جارہی ہے، اس پر تو علیحدہ سے ’’ریسرچ‘‘ درکار ہے۔ جیسے ہر نیا دن، کسی نئے چینل کے ساتھ رنگ و روپ سے دمکتے بہروپ، نئی رعایا نئے بادشاہ نئے کیمرے، نئے عکس، نئے نظارے ، سب کچھ یوں مِکس ہو رہے ہیں کہ ہماری خوردونوش میں ملاوٹ بھی اپنی حدود عبور کر چکی ہے۔ نئی نئی ایجادات ہمارے کچن کی زینت بن رہی ہیں۔ پلاسٹک سے تیار کردہ سلانٹی، چاول، سویاں، انڈے تو آپ سوشل میڈیا پر دیکھ ہی چکے ہیں، آٰگے خدا جانے کیسی کیسی غذائیں ہمارے معدوں کو نئے زاویوں سے پرکھیں گی۔

قارئین کرام: فطرت کی تخلیق کردہ اشیا میں اب فقط ’’جمادات‘‘ بچی ہیں دیکھنا یہ باقی ہے کہ یہ ذہین قوم ’’جمادات‘‘ کو اپنی فطانت سے اشیائے خوردونوش میں کیسے شامل کرتی ہے؟ ویسے آپس کی بات ہے، چند جمادات کا ہمیں بھی علم ہے جو ہم عرصہ دراز سے نوش کئے جارہے ہیں۔ ان سے آپ بھی واقف ہیں ، کیا دوہراؤں، دعا کریں کہ خدا ہمارے ہاں کے نابغوں کو اپنی ’’ایجاداتِ خوردونوش‘‘ سمندر پار لے جانے کی بھی ہمت عطا کرے جہاں ایسی ذہانتیں ناپید ہو چکی ہیں۔

مزید : کالم