چین کیا سوچ رہا ہے؟

چین کیا سوچ رہا ہے؟
 چین کیا سوچ رہا ہے؟

  

دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایک متنازعہ عدالتی عمل کے ذریعے ہٹائے جانے کو نہ صرف پاکستان، بلکہ اس کے اہم ترین دوست ملک عوامی جمہوریہ چین میں بھی بہت تشویش سے دیکھا گیا ہے۔ فیصلہ آنے کے بعد سے میں نے چینی میڈیا ، خاص طور پر سرکاری میڈیا کو کافی فالو کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عوامی جمہوریہ چین میاں نواز شریف کو وزارتِ عظمی سے ہٹائے جانے پر مضطرب ہے، البتہ وہاں اس بات پر اطمینان ضرور ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو زبردستی روکا جاتا ہے تو میاں شہباز شریف کی صورت میں ان کا تسلسل برقرار رہے گا۔ ایک اور اہم چیز جو میں نے چینی میڈیا میں نوٹ کی وہ یہ کہ عوامی جمہوریہ چین نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کی کوئی امید ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کی حکمران جماعت کے سرکاری اخبارات کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس بات کی اہل نہیں ہے کہ وہ کاروبارِ مملکت چلا سکے۔ چینی حکومت، میڈیا اور رائے عامہ کے نزدیک اس وقت سی پیک بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور چونکہ چینی حکومت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ میں کام کر رہی ہے، اس لئے وہ ذہنی طور پر قطعاً اس بات کے لئے تیار نہیں کہ ایک چلتے ہوئے میکنزم کو توڑ کر اسے ڈسٹرب کیا جائے۔ اگرچہ چینی حکومت کے ترجمان نے عدالتی عمل کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ،لیکن ساتھ ہی امید بھی ظاہر کی کہ میاں نواز شریف دوبارہ وزارتِ عظمی پر فائز ہو جائیں گے۔

پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات پر چینی میڈیا نے کافی تبصرے کئے ہیں (خلافِ معمول)، جو پاک چین تعلقات اور سی پیک دونوں کے تناظر میں ہیں۔ یہ بات کافی غور طلب ہے کہ اسے پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دئیے جانے کے باوجود چین میں اس خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم کے فرائض سنبھالیں ۔ چینی میڈیا پر ہونے والے تبصروں میں زیادہ اہمیت میاں نواز شریف کی قیادت کو ہی دی جا رہی ہے۔ ان تبصروں کو پڑھتے ہوئے مجھے بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے سی پیک منصوبہ شروع ہونے میں ایک سال کی تاخیر ہو گئی تھی اور چینی صدر شی چن پنگ کا دورۂ اسلام آباد بھی ملتوی ہو گیا تھا جو بعد میں ایک سال بعد ممکن ہو سکا۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ چینی قیادت عمران خان کی اس حرکت کی وجہ سے ابھی تک ان سے ناراض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی صدر اڑھائی سال قبل جب پاکستان آئے اور انہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور اس خطاب کے بعد انہوں نے تمام پارٹیوں کے سربراہان سے مصافحہ کیا تھا تو باقی سب سے تو انہوں نے روایتی چینی جوش و خروش سے مصافحہ کیا، لیکن عمران خان سے سرسری سا ہاتھ ملاتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے اور اس دوران بھی ان کے چہرے پر خوشگوار تاثرات نہیں تھے، ظاہر ہے عمران خان کی وجہ سے سی پیک کے آغاز میں ایک سال کی تاخیر ہوئی تھی جو عوامی جمہوریہ چین اور پاکستان دونوں کے لئے انتہائی ناپسندیدہ تھا، کیونکہ سی پیک دونوں ملکوں کے لئے بے انتہا اہمیت کا حامل ہے۔

’’گلوبل ٹائمز‘‘ عوامی جمہوریہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے دو انگریزی اخبارات میں سے ایک ہے، دوسرا اخبار ’’پیپلز ڈیلی‘‘ ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ پیپلز ڈیلی زیادہ تر چینی عوام کے لئے ہے، جبکہ ’’گلوبل ٹائمز‘‘ کی اصل ٹارگٹ ریڈر شپ عالمی سطح کی ہے جس کا مقصد چینی حکومت اور حکمران پارٹی کی سوچ کو عالمی سطح پر پہنچانا ہے۔ دونوں اخبارات کی سرکولیشن کئی کئی ملین ہے۔’’گلوبل ٹائمز‘‘ کے 3 اگست کے ادارتی صفحات پر ’’نواز شریف کی برطرفی اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور‘‘ کے عنوان سے ایک انتہائی اہم مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون میں ’’گلوبل ٹائمز‘‘ اس بات پراطمینان ظاہر کرتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی پالیسیاں اور تسلسل جاری رہے گا چاہے، ملک کے وزیر اعظم میاں نواز شریف ہوں یا میاں شہباز شریف اور چینی حکومت مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔ ’’گلوبل ٹائمز‘‘ میاں شہباز شریف کے برق رفتاری سے کام کرنے کے سٹائل کی بھی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس میں ان کی موجودگی کے بعد سی پیک کے پراجیکٹس وقت سے پہلے مکمل ہو جائیں گے، کیونکہ وہ جس رفتار سے کام کرتے ہیں، اس سے اب تک کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ زیادہ تر پراجیکٹس کی تکمیل مقررہ وقت سے پہلے ہوئی۔’’گلوبل ٹائمز‘‘ کے مطابق چینی اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو نا جائز طور پر تبدیل نہیں ہونے دے گی، نہ ابھی اور نہ ہی 2018ء کے الیکشن کے بعد،کیونکہ چینی حکومت کے نزدیک میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف ہی سی پیک کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو سازش سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو چینی حکومت اس چیز کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔

چین کا اس انداز سے سوچنا ہماری سیاست میں ایک نیا اضافہ ہے، اس سے پہلے امریکہ بہادر اور سعودی عرب تو ہماری حکومتوں کے آنے جانے میں اثر انداز ہوتے رہے ہیں، لیکن عوامی جمہوریہ چین نے کبھی کوئی دخل اندازی نہیں کی۔ اسے یوں سمجھنا چاہئے کہ ماضی میں تو چین نے کبھی ایسا نہیں کیا، لیکن سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے وہ آئندہ اپنے آپ کو نہیں روک پائے گا۔ ’’پیپلز ڈیلی‘‘ نے بھی اپنی31 جولائی کی اشاعت میں شریف برادران پر ایک خصوصی مضمون میں لکھا کہ دونوں بھائیوں کے عوامی جمہوریہ چین سے خصوصی تعلقات ہیں اور چین جتنا بھروسہ ان دونوں پر کرتا ہے، اتنا پاکستان میں کسی اور شخصیت یا ادارے پر نہیں کرتا۔ ’’پیپلز ڈیلی‘‘ نے میاں شہباز شریف کے حالیہ برسوں میں عوامی جمہوریہ چین کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اس وقت چینی حکومت اور بڑی کمپنیوں کے بہت قریب ہیں اور یہ میاں شہباز شریف کی شخصیت ہے، جس کی وجہ سے چینی کمپنیاں اور حکومتی ادارے سب سے زیادہ سرمایہ کاری پاکستانی صوبہ پنجاب میں کرنا چاہتے ہیں۔ ’’پیپلز ڈیلی‘‘ کا خیال ہے کہ میاں شہباز شریف کے دور میں سی پیک اور ساتھ ہی پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار اور تیز ہو جائے گی۔ اس موقع پر’’پیپلز ڈیلی‘‘ نے میاں شہباز شریف کے ایک مضمون کا خصوصی طور پر ذکر کیا جو ’’پیپلز ڈیلی‘‘ میں 19 جنوری 2017ء کو۔۔۔ "Towards a stable global order" ۔۔۔کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں میاں شہباز شریف نے عالمی امن کو درپیش چیلنج اور ان کے حل پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ، انہوں نے خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کے مسائل کا احاطہ کیا اور پاکستان کے نقطہ نظر سے ان کے بہترین حل بتائے۔ میں نے ’’پیپلز ڈیلی‘‘ میں شائع ہونے والا یہ مضمون بار بار پڑھا ہے اور ہر بارمیرے دل میں ان کا قد کاٹھ پہلے سے مزید بلند ہوا۔ مجھے چینی دوستوں نے بتایا کہ میاں شہباز شریف کے مضمون کی چین میں اسی طرح پذیرائی کی گئی، جیسا ان کی بطور شخصیت اور پاکستانی لیڈر کی جاتی ہے۔

عوامی جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان بھائی بھائی ہیں، کون بڑا اور کون چھوٹا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،کیونکہ ان دونوں کی دوستی ہمالیہ سے بلند ، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ ویسے تو دنیا کے نقشے پر پاکستان 1947 اور عوامی جمہوریہ چین 1949ء میں ظہور پذیر ہوئے، لیکن ایک عالمی طاقت ہونے اور دنیا میں اپنے مقام کی وجہ سے چین ہی بڑا بھائی ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت بن چکا ہے اور اب اپنے ارد گرد کے ممالک کو ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ چینی حکومت، میڈیا اور عوام کیا سوچتے ہیں، اس کا بہترین اندازہ تو وہاں کے سرکاری میڈیا میں چھپنے والی خبروں سے ہو چکا ہے۔

سیانے کہتے ہیں کہ تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں ڈالنے چاہئیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اصل میں یہ ایک چینی کہاوت ہے، بہر حال یہ دنیا کی مشہور کہاوتوں میں سے ایک ہے۔ چینیوں نے اس کہاوت کے برعکس پاکستان کے معاملے میں اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈال رکھے ہیں اور اس ٹوکری کا نام ہے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف۔ حیرانی کی بات ہے کہ چین والے ایک بھی انڈا کسی دوسری ٹوکری میں ڈالنے کے لئے آمادہ نظر نہیں آتے، خاص طور پر عمران خان سے انہیں کوئی امید نہیں ہے۔ لگتا یوں ہے کہ آنے والے وقت میں چینی حکومت ہماری اسٹیبلشمنٹ پر اس حوالے سے کافی دباؤ ڈالے گی، جس کے نتیجے میں میاں نواز شریف کے خلاف ہونے والی غیر قانونی اور غیر اخلاقی سازشوں کا قلع قمع ہو جائے گا۔ اصولاً تو نوبت یہاں تک جانی ہی نہیں چاہئے تھی، لیکن کیا کیا جائے جب کچھ لوگوں کو سو جوتے اور سو پیاز دونوں چیزیں کھانے کا شوق ہو تو اس کے بغیر ان کی تسلی بھی نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ چین کیا سوچ رہا ہے؟۔۔۔ اور اس کا جواب ہے کہ چین سوچ نہیں رہا، بلکہ فیصلہ کر چکا ہے کہ سی پیک کی کامیاب تکمیل کے لئے وہ ہر صورت میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو اقتدار میں رکھے گا، اس ضمن میں سازشوں کے ماخذ کو پیغام پہلے ہی بھیجا جا چکا ہے۔

مزید : کالم