گرینڈ ڈائیلاگ۔۔۔ پارلیمینٹ بہترین فورم ہے ،لیکن؟

گرینڈ ڈائیلاگ۔۔۔ پارلیمینٹ بہترین فورم ہے ،لیکن؟

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمینٹ کے اندر اور باہر ایک گرینڈ ڈائیلاگ ہونا چاہئے، سچائی اور مصالحتی کمیشن پر تیار ہوں ایک نئے پولیٹیکل اور سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے، ستر سال میں کوئی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا،مُلک کی سمت کا تعین ستر سال میں بھی نہیں ہو سکا۔اِس کا جواب میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاست دانوں کو مل کر تلاش کرنا چاہئے۔ میرے مقاصد ذاتی نہیں، بلکہ مُلک اور قوم کے لئے ہیں وزارتِ عظمیٰ سے بالاتر ہو کر مُلک کی ادنیٰ سی خدمت کرنا چاہتا ہوں، مُلک کی بہتری کے لئے ہمیں اکٹھا ہونا ہو گا۔مَیں حالات کی خرابی نہیں،بلکہ تصحیح چاہتا ہوں۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اگر بحال بھی ہو گئے تو الیکشن سے قبل باقی ماندہ مدت کے لئے وزیراعظم نہیں بنیں گے۔دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئین کی دفعہ62 اور63 میں تبدیلی کے لئے تمام جماعتوں سے رابطہ کروں گا۔ اِس بات کی ضرورت ہے کہ ایوان62اور63 کا جائزہ لے کہ آئین کی یہ دفعہ کلیریکل غلطی پر بھی لاگو ہو جاتی ہے۔

نواز شریف جس گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز پیش کر رہے ہیں اس کا باضابطہ انعقاد تو معلوم نہیں ہو بھی پاتا ہے یا نہیں۔البتہ میڈیا اور اخبارات میں ایک مباحثہ ہر وقت چلتا رہتا ہے،بعض اوقات اس میں سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور اچھی تجاویز سامنے آتی ہیں،لیکن کچھ عرصے سے بعض ٹاک شوز محض الزام تراشیوں کا پلندہ بن کر رہ گئے ہیں،جو جس کے مُنہ میں آتا ہے کہے چلا جاتا ہے،جو الزام چاہے، جس کسی پر بھی لگا دیا جاتا ہے اس سے کوئی بھی محفوظ نہیں،بدقسمتی سے ایسے ایسے لوگ بھی اِس میدان میں گوہر افشانیاں کرنے کے لئے آ دھمکے ہیں، جن کا غور و فکر اور سوچ و بچار سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا،اُن کا ایجنڈا کچھ اور ہے اور اس سے پردہ اُس وقت اُٹھ جاتا ہے جب کسی فنی خرابی یا لاپروائی کی وجہ سے کوئی آف دی پروگرام گفتگو بھی سامنے آ جاتی ہے،بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا ریگولیٹری ادارہ بھی اس سلسلے میں کوئی موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے ایسے میں مجوزہ گرینڈ ڈائیلاگ میں مباحثے کا معیار کیا ہو گا اس کا اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے۔ایک سیاسی جماعت تو پہلے ہی کہہ رہی ہے کہ اب نواز شریف کو میثاق جمہوریت بھی یاد آ رہا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ بالا دست ادارے ہیں۔ اول الذکر کے ارکان کو ووٹر براہِ راست منتخب کرتے ہیں ایک ایک حلقے کا رُکن لاکھوں ووٹروں کا نمائندہ ہوتا ہے اِسی طرح سینیٹ کے ارکان کو صوبائی اسمبلیوں کے وہ منتخب رُکن چنتے ہیں، جنہیں ہزاروں ووٹروں نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہوتا ہے،لیکن یہ قابلِ احترام اور منتخب ارکان جب اسمبلی کے فورم پر آ کر کسی موضوع پر لب کشائی کرتے ہیں تو قطعاً نہیں لگتا کہ بولنے والے نے موضوع کی مناسبت سے کوئی مصدقہ معلومات حاصل کی ہیں یا اس معاملے پر بولنے سے پہلے کسی مطالعے وغیرہ کی ضرورت محسوس کی ہے،نتیجہ یہ ہے کہ غلط معلومات کی بنیاد پر غلط سلط تجزیئے شروع کر دیئے جاتے ہیں،جن میں زیادہ تر الزام تراشی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ موجودہ قومی اسمبلی کی چار سالہ مدت میں جو مباحثے مختلف موضوعات پر ہوئے ان میں انتہائی سطحی گفتگو ہوتی رہی، کورم کا مسئلہ تو اکثر درپیش ہوتا ہے، چند ارکان اسمبلی میں ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے اُنہیں باندھ کر بٹھایا گیا ہو اور وہ موقع ملتے ہی اس قید سے رہائی کے لئے تیار بیٹھے ہوں۔

یہ درست ہے کہ پارلیمان کے اندر احتجاج بھی ہوتے ہیں،اپوزیشن ارکان واک آؤٹ بھی کرتے ہیں، ایک دوسرے کو نشانہ تضحیک بھی بنایا جاتا ہے ارکانِ اسمبلی اپنی اپنی پارٹی کی سیاسی ضرورتوں کو مدِ نظر رکھ کر بات چیت کرتے ہیں جو بل منظوری کے لئے پیش ہوتے ہیں حکومت اگر اُنہیں منظور کرانا چاہتی ہو تو منظور ہو جاتے ہیں۔ارکانِ اسمبلی اِن بلوں کو پڑھنے کا تکلف بھی بہت کم کرتے ہیں۔اٹھارویں ترمیم کے لئے جو بھی مغز ماری ہوئی ایوان سے باہر ہوئی،کمیٹی نے جو سفارشات تیار کر لیں وہ منظور کر لی گئیں۔کسی رکن نے مسودہ پڑھا نہ اس میں کوئی ترمیم پیش کی، اب کہا جا رہا ہے کہ دفعہ62-63 کا غلط اطلاق کیا جا رہا ہے،لیکن جب اٹھارویں ترمیم پر غورو فکر ہو رہا تھا تو اِس بات کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا؟ممکن ہے کمیٹی کے اندر اس پر بھی غور ہوا ہو،لیکن اس کی کارروائی تو کبھی پبلک نہیں کی گئی،جس سے اندازہ ہو کہ اس پر کوئی غور ہوا تھا یا نہیں۔اٹھارہویں ترمیم کے بعض حصوں پر کھلے عام نکتہ چینی بھی ہو رہی ہے۔

قومی مسائل پر ہمارے ارکانِ اسمبلی غورو فکر اور سنجیدہ گفتگو سے کس حد تک الرجک ہیں اس کا اندازہ اس وقت بخوبی ہو گیا جب اپوزیشن نے پورے بجٹ سیشن کا ہی بائیکاٹ کر دیا وجہ یہ بتائی گئی کہ قائدِ حزب اختلاف نے یہ شرط لگا دی تھی کہ وہ اسی صورت مباحثے کا آغاز کریں گے جب اسے براہِ راست ٹی وی سے نشر کیا جائے گا، معلوم نہیں انہوں نے کون سی ایسی گوہر افشانی کرنا تھی جس کے لئے انہوں نے ’’براہِ راست‘‘ کی شرط عائد کر دی،حالانکہ آج تک انہوں نے اسمبلی کے اندر اور باہر جو کچھ بھی کہا سب کسی نہ کسی طرح لوگوں کے سامنے آ گیا، کچھ پوشیدہ نہیں رہ گیا اِس لئے بجٹ پر بحث بھی براہِ ر است نشر نہ ہوتی تو بھی قوم اس سے بعد میں مستفید ہو سکتی تھی،لیکن شاہ صاحب نے بائیکاٹ کر دیا نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کو ایسے بجٹ پر گزارا کرنا پڑا جو حکومت نے پیش کر دیا۔اگر شاہ صاحب کی تجاویز اس بجٹ میں شامل ہو جاتیں تو نہ جانے کیسی شاہکار دستاویز وجود میں آتی،افسوس ہم اس سے محروم ہی رہے،کیونکہ پھر نہ کوئی تجویز آئی اور نہ بجٹ میں کوئی ترمیم ہوئی، اور قوم کو سرکاری بجٹ ہی قبول کرنا پڑا۔ویسے یہ سوال تو اب بھی برمحل ہے کہ کیا ماضی میں کسی اپوزیشن لیڈر کی تقریر براہ راست ٹی وی سے نشر ہوئی؟

قومی اسمبلی میں روزمرہ کے موضوعات پر بھی جو مباحثے ہوتے ہیں ان میں بھی بحث کا معیار اتنا بلند نہیں ہوتا،گزشتہ روز تحریک انصاف کی رکن عائشہ گلا لئی نے اپنے مسئلے پر جو بات کی اُسے تحریک انصاف کے کسی رُکن نے نہیں سنا اور مسلسل ڈیسک بجاتے رہے۔یہ درست ہے کہ ڈیسک بجانا ہر رکن کا استحقاق ہے اور یہ شاید اسی لئے سامنے رکھے ہوتے ہیں کہ اِنہیں بجایا جائے،لیکن اگر کسی رکن کی بات کو سنجیدگی سے بھی سُن لیا جائے تو کیا مضائقہ ہے،عائشہ گلا لئی کو ایوان کے لئے اجنبی کہا گیا،حالانکہ وہ اسی طریقِ کار سے منتخب ہوئی ہیں جس طرح باقی خواتین ہوئی ہیں۔انہوں نے پارٹی چھوڑی ہے اسمبلی استعفے کا اعلان نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے ارکان نے تو2014ء میں سینکڑوں مرتبہ اپنے استعفوں کا اعلان کیا، کئی مہینے ایوان میں نہیں آئے۔پھر جب دِل چاہا تشریف لے آئے، تمام تنخواہیں اور دوسری مراعات قومی خزانے سے وصول کر لیں،کس کام کے عوض؟ یہ اُن گالیوں کا صلہ تھا جو دھرنے کے کنٹینر پر سے پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہوئے ارکان کو دی جا رہی تھیں اور چور ڈاکو سمیت نہ جانے کیا کیا کچھ کہا جا رہا تھا۔کیا یہ استعفا دینے والے ایوان کے لئے اجنبی نہ تھے؟

قومی اسمبلی کے فاضل ارکان سے ہم دستہ بستہ عرض کریں گے کہ انہیں ووٹروں نے محض ڈیسک بجانے واک آؤٹ کرنے یا اسمبلی سے باہر اسمبلی لگانے کے لئے ایوان میں نہیں بھیجا، انہیں چاہئے کہ وہ مُلک و قوم کو درپیش مسائل کا حل اپنی فہم و فراست کی روشنی میں پیش کریں،ہمارے خطے میں دشمن مُلک نے سازشوں کے ذریعے جو تانا بانا بُننا شروع کر رکھا ہے اس کا بھی ادراک ہونا چاہئے۔دہشت گردی نے ابھی تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا اِن حالات میں عوامی نمائندوں سے سنجیدہ بحث مباحثے کی امید ہے،جس پر عمل کر کے مُلک کو آگے بڑھایا جائے، جو کچھ اس وقت اسمبلی میں ہو رہا ہے وہ ارکانِ اسمبلی کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔نواز شریف اگر گرینڈ ڈائیلاگ چاہتے ہیں تو پہلے اس کے خدو خال سامنے لائیں اور پارلیمینٹ میں ایسی بحث شروع کرائیں،جس سے گرینڈ ڈائیلاگ کی راہ نکلتی ہو۔

مزید : اداریہ