بارودی ٹرک حادثہ: سخت ایکشن لینے کی ضرورت

بارودی ٹرک حادثہ: سخت ایکشن لینے کی ضرورت

لاہور میں سگیاں پل کے قریب آؤٹ فال روڈ پر کھڑا ہوا ٹرک بارود پھٹنے سے تباہ ہوگیا۔ اس واقعہ سے سیکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان تشویشناک بات ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ٹرک میں رکھے گئے بارود کے پھٹنے سے زیادہ تباہی اور اموات نہیں ہوئیں۔ جب بارود پھٹا تو ایک شخص جاں بحق اور 39افراد زخمی ہوئے۔ اگر ٹرک کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہوتا تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوسکتا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ ٹرک پارکنگ سٹینڈ میں دویاتین روز قبل کھڑا کیا گیا تھا۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ٹرک کے قریب سے گزرنے والوں کو بارود کی بومحسوس ہو رہی تھی لیکن کسی نے بھی اس کا نوٹس نہیں لیا۔ یہ دھماکا اس وقت ہوا،جب اگلے روز پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری لاہور آرہے تھے اور اس کے دو روز بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قافلے کی لاہور آمد متوقع تھی۔ موجودہ حالات میں دہشت گردی کے واقعات کسی بھی وقت اور کہیں بھی ہو رہے ہیں۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ بارود سے بھرا ہوا ٹرک ڈاکٹر طاہر القادری یا نواز شریف کی ریلیوں میں تخریب کاری کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ٹرک میں رکھے ہوئے بارود کو کسی مخصوص مقام پر پہنچانے کا پروگرام تھا چنانچہ ٹرک کو مناسب وقت پر منتقل کرنے کے لئے پارکنگ ایریا میں کھڑا کیا گیا۔ کسی وجہ سے بارود پھٹ گیا اور لاہور میں تباہی کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ لاہور میں دو ر اہم ہنماؤں کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی سخت ہونے کے باوجود مذکورہ ٹرک کی دورانِ سفر چیکنگ کا نہ ہونا اور پھر ایک ہی جگہ دو یا تین روز تک کھڑے ہونے اور ٹرک سے بارود کی بوآنے پر بھی کسی سیکیورٹی ایجنسی کے حرکت میں نہ آنے پر انتظامی، سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے بجا طور پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اگر چیکنگ میں تساہل اور غفلت مجرمانہ کا ارتکاب نہ ہوتا تو ٹرک سے بارود برآمد ہوتا، یوں تین دن تک نظر انداز نہ ہوتا۔ پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرک کا تین روز تک کسی چیکنگ کے بغیر پارکنگ ایریا میں کھڑے رہنا سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے۔ ان کا یہ بیان حقیقت پر مبنی قرار دیا جانا چاہئے کہ سرکاری حلقوں کی طرف سے کوتاہی کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس واقعہ کی انکوائری ہورہی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ جب انکوائری رپورٹ تیار ہو جائے تو اسے دبایا نہ جانے اس مجرمانہ کوتاہی کے ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن ہونا چاہئے۔

مزید : اداریہ