اس ظالم اور بے حس زوال سے کسی کو مفر نہیں (2)

اس ظالم اور بے حس زوال سے کسی کو مفر نہیں (2)

میں نے جواباَ اپنے بچپن کے سکول کے سربراہ شیخ اسلم صاحب کے دونوں بچوں سے جڑی اپنی بری یادوں کا شکریہ ادا کیا،پھر بتایا کہ نوائے وقت سے آتے ہوئے تو میں نے ایک لسٹ بنائی تھی اور اپنے آفس کے سٹاف اور دوستوں کاخاص طور پر اعظم یاد اور منظر وحید سے شیئر کی کہ میرے جانے کے بعد یہ اور یہ مجھے محبت سے یاد رکھیں گے اور یہ اور یہ فوراََ پارٹی بدل لیں گے،اعظم صاحب نے کہا سر آپ کس سہولت سے سوچ لیتے ہیں،آپ کو ان پر افسوس نہیں ہو گا ،آپ کا دل تو ضرور دکھے گا۔تب میں نے کہا تھا ،کچھ دل ایسے ہی ہوتے ہیں مطلبی اور بے فیض ، ایسا بننا اور ہونا ان کا اپنا انتخاب ہوتا ہے اور یہ ہمیشہ چڑھتے سورج کے ساتھ ہوتے ہیں ، بیچارے ہمیشہ سچی محبت اور تعلق کے مزے اور ذائقے سے ہی محروم رہتے ہیں یہ ان کے ماتھے پر لکھا ہوتا ہے آپ کو بس پڑھنا آنا چاہئے ورنہ دنوں افسردہ اور دکھی بیٹھے رہیں گے۔

پھر میں نے انہیں کراچی میں مقیم اپنے عزیز دوسٹ اور استادسلیم مغل کی آپ بیتی سنائی، جوکبھی کراچی ٹی وی میں پروڈیوسر ہوا کرتے تھے۔ جن دنوں انور مقصود کا مشہور پروگرام سلور جوبلی چل رہاتھا وہ بیرون شہرسے آنے والے مہمانوں کے لیے افسر مہمانداری بھی تھے، ایک روزماضی کی مقبول فلمی ہیروئن سورن لتا کو انہوں نے کراچی ایرپورٹ سے لیا ،سلیم مغل نے ان کو جو عزت اور احترام دیا وہ سورن لتاکی توقع سے کہیں زیادہ تھا، ہوٹل پہنچے تو سلیم نے جانے کی اجازت چاہی، مہمان نے میزبان کو واپسی کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا اپنے بوڑھے جھریوں بھرے ہاتھوں سے پہلے سلیم کاسرتھپتھپایا پھر ہاتھ۔ لمحے بھر بعد سر اُٹھایا تو چہرے پہ آنسوؤں کی لڑیاں قطار اندر قطار جاری تھیں۔ کہابچے!تو کیا جانے میں کون ہوں؟اب تو پاس سے گزرنے والا بھی کوئی نہیں رکتا، کوئی مڑ کر نہیں دیکھتا،حال بھی نہیں پوچھتا، ایک وہ زمانہ تھا میں پاکستان کی صف اول کی اداکارہ تھی ،انارکلی جاتی تو ٹریفک گھنٹوں رکی رہتی۔ وہ کتنی دیر اس بات پہ رکی اور روتی رہیں کہ کاش وہ لمحے رک جاتے وہ شہرت، وہ عزت باقی رہتی۔

میں نے تو یہ جانا ہے کہ لوگ نہیں وقت حاکم ہے یہ بدل جاتا ہے، بنانے والے نے اسے بدلنے کے لیے ہی بنایا ہے۔ خود اسے بنانے والے خالق اور مالک رب کاکہنا ہے میں اسے لوگوں کے درمیان بدلتا رہتاہوں’’تلک الایام نداوالہابین الناس‘‘ ہم جووقت کے سمندر کے کناروں پہ رہتے ہیں خود کتنی ہی بار ہم بھی ڈوبتے اور تیرتے ہیں۔ وقت نے یہ منظر بار ہادکھایا کہ جو لوگوں کی سچی محبت اور خیرخواہی سے محروم رہا وہ جلد یا بدیرہر خیر ،وقعت اور شہرت سے محروم ہو جاتا ہے ، لوگ ہی نہیں وقت بھی ان سے سروکار نہیں رکھتا۔ بہت برس ہوئے جنگ کراچی میں چھپی ایک تصویر کی جھلک یاد آئی ، اسے دیکھ کر دل دہل گیاتھا۔ یہ راولپنڈی کے ایک بک سٹور کی تصویر تھی جس میں ایک چھ فٹ سے بھی نکلتے قد والا آدمی اکیلا کھڑ ایک رسالے کے ورق الٹ رہاتھا اور اس کے پاس کھڑے لوگوں میں سے کسی نے پلٹ کر بھی اسے نہ دیکھا تھا ،نہ نوٹس لیا تھا، کیا اسے انتظار نہیں رہا ہوگا کہ لوگ اسے رک کر دیکھیں پلٹ کرکن اکھیوں سے گھوریں پہچانیں، ڈرتے ڈرتے اسے سلام کرنے آئیں، کبھی وہ بھی سربلندی شہرت اختیار واقتدار کاگھر نہیں گڑھ تھا،مرکز اور محور تھا، اس ملک کے طول وعرض میں اس کے نام سے منصب، عہدے، عزتیں ، مرتبے، تقسیم ہوتے اور واپس لیے جاتے تھے۔ وہ اکیلا آدمی فیلڈ مارشل ایوب خان تھا۔ جو دس سال سے بھی زیادہ پاکستان کے ہر سیاہ وسفید کامالک اور صدر رہاتھا۔ عہدے کی عظمت اور نام کی شہرت اپنی ہو یا اپنے سے وابستہ قریبی لوگوں کی ، یہ کبھی مستقل بڑائی کاباعث نہیں بنتی، ان کی یادوں اور باتوں سے زندگی کے جسم میں مستقل خون نہیں دوڑتا۔

جو بات مجھے سکول کے دنوں میں ایک ذرا سا جھٹکا اور صدمہ سہہ کر سمجھ آگئی تھی۔ مشربی صاحب باسٹھ سال کی عمر پاکر بھی اسے سمجھنے میں وقت لے رہے ہیں اور آنکھیں نم کئے بیٹھے ہیں۔ انہیں کیسے سمجھاؤں کہ صاحب ! بڑے ہوکر گھومتی کرسیوں والے خوبصورت دفتروں میں بیٹھنے اور بچپن میں درختوں پہ نام لکھنے سے وہ اپنے نہیں ہوجاتے۔ عہدوں ، ترقیوں کی ساری فضیلتیں ایک طرف ،دوسروں سے سچی محبت کی ایک فضیلت سب پر بھاری ہوجاتی ہے کہ محبت کرنے والے کو بادشاہ بنادیتی ہے۔ اس نعمت سے محروم وجوو ں کو بادشاہی سے محرومی عطاکرتی ہے،یقین نہ آئے تو اپنے آس پاس نگاہ دوڑا کر دیکھ لیں یہاں وہاں پڑے بہت سے محروم اور بے نشان لوگ مل جائیں گے،ان کی تعداد کم ہونے ہیں ہی نہیں آتی روز بروز بڑھے جاتی ہے، بڑھے ہی جاتی ہے ۔ کوئی ہی خوش قسمت ہو جو سنبھل جائے ،زوال مکمل ہونے سے قبل رک جائے ،اپنا طرز عمل اور انداز زندگی بدل لے اور اپنی مطلوبہ شہرت اور محبت کے ساتھ ہی زندگی مکمل کر پائے ورنہ اس ظالم اور بے حس زوال سے کسی کو مفر نہیں،یقین نہ آئے تو اپنے آس پاس نگاہ دوڑا کر دیکھ لیں۔ (ختم شد)

مزید : کالم