نواز شریف کی واپسی

نواز شریف کی واپسی
 نواز شریف کی واپسی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نواز شریف کی لاہور آمد کے بارے میں طرح طرح کے تبصرے سنائی دے رے ہیں ،پہلے جب نواز شریف کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بذریعہ موٹروے لاہور آئیں گے تو کہا گیا کہ وہ دراصل محفوظ راستے سے آنا چاہتے ہیں اور اُنہیں معلوم ہے کہ کسی دوسرے راستے سے جانے سے اُن کی مقبولیت کا بھرم کھل جائے گا۔۔۔ مگر جب نواز شریف نے جی ٹی روڈ سے آنے کا اعلان کیا تو کہا جا رہا ہے کہ وہ مُلک کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف کے مخالفین یا تو یہ چاہتے ہیں کہ وہ جہاز میں بیٹھ کر ’’جدہ‘‘ چلے جائیں یا پھر لال مسجد کے خطیب کی طرح ’’برقعہ پہن‘‘ کے آرام سے کسی ’’چنگ چی‘‘ میں بیٹھیں اور لاہور چلے جائیں، حالانکہ نواز شریف کو ایک آزاد شہری کی طرح مُلک بھر میں گھومنے پھرنے کا پورا حق حاصل ہے، وہ جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں اور عدالت نے فی الحال ان کے کہیں آنے جانے پر پابندی نہیں لگائی۔۔۔ تو پھر کسی بھی جماعت، رہنما یا شخص کو ان کی آزادی پر کوئی ’’حکم‘‘ نہیں لگانا چاہئے۔ نواز شریف کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عدالت کو بھی دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ الحمد للہ ادارے بہت مضبوط ہیں اور ادارے شیشے کے گلدان نہیں ہیں جو نواز شریف کے جی ٹی روڈ سے گزرتے ہوئے ٹوٹ جائیں گے،پھرکسی ادارے کو اس لئے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے، کیونکہ عمران خان جیسا نوجوان اداروں اور نواز شریف کے درمیان سینہ تان کے کھڑا ہے اور عمران خان نے کہا بھی ہے کہ نواز شریف کو اداروں تک پہنچنے کا موقع نہیں دیا جائے گا، یعنی نواز شریف کو اداروں تک پہنچنے سے پہلے عمران خان کا سامنا کرنا پڑے گا؟

نواز شریف ایک متحمل اور سمجھ دار شخص ہیں، انہوں نے ابھی تک کوئی ایسا جملہ نہیں کہا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ ’’اداروں‘‘ یا کسی ’’ادارے‘‘ کے خلاف مزاحمت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جہاں تک اداروں کے احترام کا تعلق ہے تو انہوں نے عدالت کے حکم کی تعمیل میں اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے اور نیب کے ساتھ بھی تعاون پر آمادہ نظر آتے ہیں۔انہوں نے اس وقت تک اپنی سیاسی ذمہ داریوں کو بھی اچھے طریقے سے انجام دیا ہے،اپنی جماعت کی بہترین نمائندگی کرتے ہوئے پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو وزیراعظم نامزد کر کے کامیاب بھی کروا دیا ہے،اب یہ ان کی اور ان کی جماعت کی مرضی ہے کہ وہ اپنے پارلیمانی حق کو کس طرح استعمال کرتی ہے، سو اس حوالے سے تو تنقید بلا جواز ہے کہ موجودہ وزیراعظم کتنے دِنوں کے لئے ہیں؟مثال کے طور پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب میر ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم نامزد کیا گیا تو جنرل پرویز مشرف سے لے کر چودھری شجاعت حسین تک سب نے کہا کہ ہم چھوٹے صوبوں کے اندر موجود احساسِ محرومی ختم کرنا چاہتے ہیں اور میر ظفر اللہ جمالی کو اسی جذبے کے تحت وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے،سو جب جنرل پرویز مشرف نے انہیں ’’باہر‘‘ نکالنے کا ارادہ باندھا تو چودھری شجاعت حسین جو پہلے چھوٹے صوبے کے وزیراعظم کے نام پر بہت کریڈٹ لیتے تھے، ظفر اللہ جمالی کو نکالنے والوں میں سب سے آگے نظر آئے اور مستقبل کے وزیراعظم کے لئے شوکت عزیز کے نام پر ’’تالیاں‘‘ بجانے لگے۔شوکت عزیز جو نہ تو مسلم لیگی تھے، اور نہ ہی سیاسی کارکن تھے ان کے نام پر مسلم لیگ کی قیادت کا اتفاق اس دور کا سب سے بڑا ’’لطیفہ‘‘ تھا اور پھر ان سے بڑا لطیفہ خود چودھری شجاعت کا ساٹھ دن کے لئے فخریہ انداز میں وزیراعظم بننا تھا۔ موصوف فرمایا کرتے تھے کہ ملک کی تاریخ میں وہ پہلے وزیراعظم ہیں جو اپنی مدت پوری کریں گے، پھر انہوں نے ساٹھ دن کے بعد شوکت عزیز کے لئے جگہ خالی کر دی۔۔۔ لیکن اب یہی چودھری شجاعت نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے موجودہ وزیراعظم کے45دِنوں پر طنز کرتے ہیں اور اسے ناپسندیدہ سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہیں۔اب آپ اندازہ کیجئے کہ جو سیاسی رہنما بذات خود اس طرح کی ’’سیاسی روایت‘‘ کا روح رواں تھا، وہ اب اسے تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے:

’’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘‘

نواز شریف نے پہلے اتوار کو آنا تھا،اب بدھ کو آئیں گے۔بدھ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ’’روز بدھ تے کم سُدھ‘‘،یعنی بدھ کے دن اُلٹے کام بھی سیدھے ہو جاتے ہیں اور نواز شریف کے لئے ’’بدھ سدھ‘‘ بھی ہو سکتا ہے اور ان کے خلاف چلنے والا ’’الٹا چکر‘‘ سیدھے رُخ پر بھی چل سکتا ہے۔۔۔ مگر کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف جہاں جہاں سے گزریں گے،اداروں کے خلاف باتیں کریں گے۔۔۔یہاں پر سوال اُٹھایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کون سے ایسے سوال اُٹھا سکتے ہیں،جس سے ادارے بدنام ہوں گے؟ نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد ابھی تک کوئی ایسی بات نہیں کی، جس سے اداروں کے خلاف ان کی طرف سے کوئی سازش نظر آتی ہو۔انہوں نے جو کچھ کہا ہے،وہ یہ ہے کہ میری عدالتی نااہلی کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے نہیں ہوئی ہے، بلکہ مجھے صرف اس لئے نااہل کیا گیا ہے کہ مَیں نے اپنے بیٹے کی کمپنی میں ملازم کے طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم حاصل تو نہیں کی، مگر مَیں حاصل کر سکتا تھا۔۔۔ اب اگر نواز شریف کے اس بیان کو دیکھا جائے تو کیا انہوں نے کوئی غلط بات کی ہے؟ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہی کہا ہے یہی بات اگر نواز شریف کہہ رہے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟ کیا وہ اپنی طرف سے یہ کہنا شروع کر دیں کہ عدالت نے انہیں اربوں روپے کی کرپشن میں نااہل کیا ہے؟

دُنیا میں اکثر لوگ اپنی کسی بھی خطا پر عدالت کے فیصلے کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں،مگر نواز شریف تو اپنے خلاف کئے گئے فیصلے کو سرعام عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں تو پھر اس میں کون سی برائی ہے؟ یقیناًمیاں محمد نواز شریف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو حقیقی صورتِ حال اور اپنے خلاف عدالت کے فیصلے سے آگاہ کریں اور انہیں بتائیں کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے،سرکاری اختیارات کے استعمال میں بھی وہ خطا وار نہیں۔۔۔ اگر وہ اپنے کارکنوں کے سامنے ایسی بات کرتے ہیں تو یہ کوئی ’’غیر قانونی‘‘ بات نہیں ہے۔دُنیا میں ہزاروں لوگ اپنے حق یا مخالفت میں آئے ہوئے فیصلوں سے اپنے خاندان و دوستوں کو آگاہ کرتے ہیں، پھر اس پر رائے بھی دیتے ہیں۔انصاف اوربے انصافی کے حوالے سے تبصرے بھی کرتے ہیں،مگر نواز شریف نے عدالت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی،انہوں نے کسی جج کا نام نہیں لیا۔۔۔البتہ بین الاقوامی اور قومی سطح پر کچھ ’’سازشوں‘‘ کا ذکر کیا ہے۔۔۔اور جب وہ ’’سازش‘‘ کی بات کرتے ہیں تو ان کا اشارہ کس ادارے کی طرف ہوتا ہے۔۔۔ یہ کوئی بین الاقوامی سازش بھی ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر ’’ پاناما‘‘ بذات خود ایک بہت بڑا ’’سکینڈل‘‘ ہو سکتا ہے جو دُنیا بھر میں کچھ لوگوں کو ’’بلیک میل‘‘ کرنے کے لئے سامنے لایا گیا ہو۔۔۔ اور آئندہ دو چار سال بعد یہ بات سامنے آئے کہ یہ ایک ’’بلیک میلنگ‘‘ کا دھندہ تھا۔۔۔ نواز شریف اگر یہی بات سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس پر طنز اور تنقید کیوں؟

مزید : کالم