پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت

پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت
 پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت

  

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وہ45دن میں45ماہ کا کام کریں گے۔اب شاید وہ دس ماہ کے لئے وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہیں،تاہم اِس وقت مُلک کی جو صورتِ حال ہے اُس میں نہیں لگتا کہ کوئی بھی بڑا کام ہو سکے۔ سیاسی سطح پرایک ایسی بے یقینی موجود ہے،جس کی شاید ماضی میں کوئی مثال نہیں ڈھونڈی جا سکتی۔ایک طرف مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے اور دوسری طرف وہ سڑکوں پر ہے۔سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد سے لاہور آنے کا فیصلہ برقرار رہتا ہے تو مُلک میں بے چینی اور ہلچل مزید کئی گنا بڑھ جائے گی۔گزرے ہوئے چار سال پر نظر ڈالیں تو اسی قسم کی صورتِ حال تقریباً ہر وقت موجود رہی ہے۔نواز شریف کا یہ کہنا کہ چار سال انہوں نے جس طرح گزارے ہیں وہی جانتے ہیں،اُن کی بے بسی اور بے چارگی کو ظاہر کرتا ہے۔اب ایسے میں کوئی کیا توقع کر سکتا ہے کہ مُلک میں عوام کے لئے حکومت کچھ کرتی۔جب حکمران اپنی مجبوری کا رونا رو رہے ہوں تو عوام کے رونے پر کون دھیان دے۔پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ یہاں سول حکمران سازشوں اور رکاوٹوں کا ڈھنڈورا تو پیٹتے رہتے ہیں،انہیں سامنے کبھی نہیں لاتے، عوام کو طفل تسلی دے کر خاموش ہو بیٹھتے ہیں ،اب بھی نواز شریف یہی کہہ رہے ہیں کہ سازش ہوئی ہے،لیکن اُس سازش کو سامنے نہیں لا رہے۔اب اس کے بعد کون سا موقع آئے گا جب وہ سازش کو بے نقاب کریں گے۔

مجھے تو نہیں لگتا کہ اس حکومت کے باقی ماندہ دس ماہ امن چین سے گزریں گے اور عوامی بھلائی کا کوئی کام ہو سکے گا، مجھے تو ہر طرف سیاسی انتشار اور بحران کی فضا نظر آ رہی ہے۔اس سے تو بہتر تھا نواز شریف فیصلے سے پہلے اسمبلی توڑ دیتے اور نئے انتخابات میں چلے جاتے۔ اب ایک طرف اُن کی نااہلی کا معاملہ ہے اور دوسری طرف نیب کیسوں کا جو عنقریب دائر ہونے جا رہے ہیں۔دوسری طرف اپوزیشن ہے جو اپنا دباؤ بڑھاتی چلی جا رہی ہے اور نیب ریفرنسوں کے بعد اُس میں مزید شدت آ جائے گی۔نواز شریف نے یہ کہہ دیا ہے کہ اگر نظرثانی اپیل کے نتیجے میں وہ بحال ہو گئے تو وزیراعظم نہیں بنیں گے،بلکہ یہی سیٹ اپ چلتا رہے گا۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے،مگر اس کا کیا کِیا جائے کہ اس کے ساتھ وہ اور اُن کے ساتھی سپریم کورٹ پر شدید تنقید کر رہے ہیں اور علی الاعلان کہا جا رہا ہے کہ ہم اس فیصلے کو نہیں مانتے جب آپ یہ فیصلہ ہی نہیں مانتے، تو نظرثانی اپیل کیوں دائر کر رہے ہیں؟پہلے بھی انہی کالموں میں بارہا کہا جا چکا ہے کہ آئینی اداروں پر تنقید کے کبھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے،خاص طور پر سپریم کورٹ کے خلاف، کہ جس کا فیصلہ کہیں اور چیلنج ہی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اُس فیصلے سے انحراف ممکن ہے،کوئی بھی مہم جوئی سوائے ہزیمت کے اور کچھ نہیں دے سکتی۔آپ پورا ملک بھی سڑکوں پر لے آئیں نااہلی کا فیصلہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔یہ کوئی سیاسی یا انتظامی فیصلہ تو ہے نہیں کہ جو شو آف پاور ہے تبدیل ہو سکتا ہو۔یہ تو عدالتی فیصلہ ہے جسے تبدیل کرانے کے لئے آئین میں طریقہ کار بھی وضع کر دیا گیا ہے۔

بحران سے نکلنے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک مضبوط وزیراعظم ہونے کا تاثر پیدا کریں اور پھر اپوزیشن و حکومت کے درمیان مسائل حل کرنے پر توجہ دیں، مگر بدقسمتی سے خود مسلم لیگی حلقوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اصل وزیراعظم نہیں،اصل وزیراعظم اب بھی نواز شریف ہیں۔اب کوئی سیانا یہ بتائے کہ دُنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ ایک اصل وزیراعظم ہو اور دوسرا کٹھ پتلی۔اس طرح سے امورِ مملکت و حکومت کیسے چلائے جا سکتے ہیں۔نواز شریف اگر ابھی سے پارٹی قائد کا منصب سنبھال لیں اور بحالی کی کوشش بھی جاری رکھیں، نیز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو فری ہینڈ دے دیں تو ایک طرف ترقیاتی کام بھی ہوں گے اور اپوزیشن کے اعتراضات بھی ختم ہو جائیں گے۔ شاہد خاقان عباسی اگر اپنی آزاد حیثیت کو منوا لیتے ہیں تو اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو ڈیڈ لاک موجود ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا،صحیح معنوں میں جمہوریت کے آگے بڑھنے کی توقعات پیدا ہوں گی۔اگر یہ نہیں کیا جاتا اور دو وزرائے اعظم والی صورتِ حال برقرار رہتی ہے تو رٹ آف گورنمنٹ ایک مذاق بن جائے گی۔نواز شریف اب جاتی عمرہ آ کر بیٹھ جائیں گے۔اگر شاہد خاقان عباسی نے ہر فیصلہ اُن سے پوچھ کر ہی کرنا ہے تو پھر قدم قدم پر مشکلات پیش آئیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر شاہد خاقان عباسی نئی حکومت کو گڈگورننس کی حامل بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کا فائدہ نہ صرف مسلم لیگ بلکہ شریف خاندان کو بھی پہنچے گا۔اس سے یہ تاثر ابھرے گا کہ مسلم لیگ(ن) صرف شریف خاندان کا نام نہیں،بلکہ ایک مستحکم سیاسی جماعت ہے،جسے آسانی کے ساتھ منظر سے ہٹانا ممکن نہیں، جیسے پہلے کہا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے جاتے ہی بکھر جائے گی، مگر ایسا نہیں ہوا، تاہم اب یہ کہا جا رہا ہے کہ پنجاب اور وفاق کی حکومت کے باعث مسلم لیگ(ن) بکھرنے سے بچی ہوئی ہے۔

موجودہ صورتِ حال سب سے خطرناک ہے۔یہ تاثر ہے کہ مسلم لیگ(ن) فوج اور عدلیہ سے تصادم کی راہ پر چل نکلی ہے اس تاثر کو نواز شریف کے اُن بیانات سے تقویت ملی ہے جو انہوں نے اپنی سزا کے حوالے سے دیئے ہیں اور فیصلے کو ایک سازش قرار دیا ہے۔اُن کا یہ کہنا کہ فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا،بس میرے خلاف ایک معمولی جواز بنا کر نافذ کر دیا گیا۔اُن کے اِس بیان سے ہر چیز واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کس کے خلاف اشارہ کر رہے ہیں۔ پھر اپنے اس موقف کو طاقتور بنانے کے لئے عوام کو حرکت میں لانا، جی ٹی روڈ کے راستے لاہور جانے کی کال دینا اور خواجہ سعد رفیق کا یہ کہنا کہ نواز شریف گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے بحال ہو چکے ہوں گے،ایک ایسی انارکی کا نقشہ کھینچتا ہے جس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔میاں نواز شریف بھی جانتے ہیں کہ اِن باتوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔یہ صرف عوام کی نظر میں سیاسی ساکھ بحال رکھنے کی کوشش ہے،لیکن عوام کو ایسی باتوں کا علم نہیں ہوتا،وہ تو صرف ظاہر کی باتیں ہی دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔اگر ایسی مہم جوئی سے آئینی اداروں کے بارے میں عوام کے اندر منفی تاثر پھیلتا ہے تو یہ یہ ملکی سلامتی کے حوالے سے انتہائی نقصان دہ بات ہو گی۔آج ہر ذہن میں یہی سوال ہے کہ نواز شریف کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں،حکومت تو آج بھی اُن کی اپنی ہے اور وزیراعظم سمیت پوری کابینہ انہوں نے خود بنائی ہے۔ پھر لامحالہ یہی تاثر اُبھرتا ہے کہ نواز شریف ریاستی اداروں کے خلاف مم جوئی پر نکلے ہیں، جو بڑی خطرناک بات ہے۔

پارلیمینٹ کی مضبوطی اور خود مختاری کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں،لیکن عملی طور پر کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ نواز شریف یہ تو کہتے ہیں کہ انہوں نے اقتدار میں چار سال بڑی مشکل میں گزارے،لیکن وہ خود بتائیں کہ انہوں نے ان چار برسوں میں پارلیمینٹ کو کتنی اہمیت دی،کتنی بار اجلاسوں میں آئے،پارلیمینٹ کو اپنی مشکلات کے حوالے سے کتنی مرتبہ اعتماد میں لیا، اس کے برعکس صورتِ حال تو یہی رہی کہ انہیں پارلیمینٹ میں لانے کے لئے قراردادیں منظور کی گئیں،کسی حکومتی فیصلے یا بین الاقوامی معاہدے پر پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہوا سی پیک اور این ایل جی جیسے بڑے معاہدے بھی پارلیمنٹ سے اوجھل رکھے گئے۔ نواز شریف نے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اجلاس میں ایک بار بھی ذکر نہیں کیا کہ ان کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے۔ جب آپ جمہوری حکومتوں کو بھی ون مین شو کے طور پر چلائیں گے تو آپ کا تنہا رہ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں،اب زمینی حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف نااہل ہو چکے ہیں اس کے لئے ریویو پٹیشن کا راستہ کھلا ہے،لیکن اگر اس فیصلے کی بنیاد پر معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف لے جایا جاتا ہے تو اس سے خدانخواستہ جمہوریت کی بساط بھی لپیٹی جا سکتی ہے،جو موجودہ داخلی و خارجی حالات کی وجہ سے مُلک کے لئے ایک تباہ کن صورتِ حال ہو گی۔آج کے حالات دیکھ کر مجھے الطاف حسین حالی کا ایک شعر رہ رہ کر یاد آ رہا ہے۔

یوں تو آیا ہے بھنور میں یہ سفینہ کئی بار

پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت

مزید : کالم