عائشہ گلا لئی ڈرامے سے اہم تر

عائشہ گلا لئی ڈرامے سے اہم تر
 عائشہ گلا لئی ڈرامے سے اہم تر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مجھے یقین سا ہے کہ عائشہ گلالئی کا کیس چند روز اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہے گا اور پھر سب کچھ بھلا دیا جائے گا۔ موصوفہ نے جو الزامات عمران خان پر لگائے ہیں وہ درست ہیں یا غلط اس بحث میں اُلجھنا فضول ہے۔ فریقین اپنی اپنی ڈگڈگی بجا رہے ہیں اور اس تماش گاہ میں ہر روز ایک نئی عائشہ شامل ہو رہی ہے۔

کسی کا نام عائشہ احد ہے تو کسی کو سیمل کہا جاتا ہے۔ اگر یہ بحث اسی طرح جاری رہی تو اس دریا کا بہاؤ رکے گا نہیں۔ مروُرِ ایام سے اردگرد کے معاون دریا اس میں شامل ہوتے جائیں گے اور پھر یہ سب مل کر ایک بڑے سندھ کی شکل اختیار کر لیں گے اور پھر سمندر میں جا گریں گے۔ آپ دیکھ لیں گے،آج نہیں تو کل اس سندھ نے آخر بحیرۂ عرب میں جا گرنا ہے۔

ہم آج کل آپس کی گفتگو میں اور میڈیا پر جو کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں وہ ہرگز کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں۔ کون قصور وار ہے اور کون بے قصور ہے اس کا فیصلہ بھی کبھی نہیں ہو سکتا۔ گلالئی کو کس نے کہا تھا کہ وہ چار سال تک زبان نہ کھولے ۔عائشہ احد کے سر پر کس نے کلہاڑا رکھ کر کہا تھا کہ وہ حمزہ شہباز سے ضرور شادی کرے اور سیمل بی بی کو کس راجہ بشارت نے جا کر ہاتھ جوڑے تھے کہ میرے حبالہ ء عقد میں تشریف لائیں۔ ہر مرد حضرت یوسف نہیں ہوتا کہ زلیخا کو مسترد کر دے۔ ہم سب گنہ گار لوگ ہیں۔ ہم دوسروں کے حالات سن کر کانوں تک ہاتھ لے جانے میں پیش پیش رہتے ہیں لیکن خود اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ کِم بار کر،نے میاں نوازشریف کے بارے میں اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے وہ یک طرفہ ہے اور یک طرفہ ہونے کا یہ کھیل صرف پاکستان ہی میں نہیں دنیا کے ہر ملک میں جہاں خواتین موجود ہیں، کھیلا جاتا ہے۔

مذہبی ٹھیکیدار اسلامی اخلاقیات کا بہت ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں لیکن وہ تسلیم کریں نہ کریں اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ زن و شو کے باہمی تعلقات میں جس اخلاقیات کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے، اس معیار پر پورا اترنے کے لئے چراغِ رخِ زیبالے کر بھی تلاش کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر ہو گی۔ اہلِ مغرب نے بہت اچھا مقولہ ایجاد کیا ہوا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ وہاں کوئی خاتون یہ ماتم نہیں کرتی کہ اس کے کتنے بوائے فرینڈز نے اس کے ساتھ بے وفائی کی اور نہ کوئی مرد یہ واویلا مچاتا ہے کہ اس کی پسند نے پہلے کتنے مردوں کی آغوش کی تپش محسوس کی تھی۔۔۔ اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس لئے اس میں مرد کو طلاق دینے اور عورت کو خلع لینے کا حق حاصل ہے۔ یہ قرانی احکامات ہیں اور مسلم عرب معاشرہ عہدِ نبویؐ سے لے کر آج تک انہی سماجی اور عائلی روایات و اقدار کا مقلد ہے۔ آپ مجھ سے شائد اتفاق کریں گے کہ جنگ اور سیاست دو مختلف چیزیں نہیں۔ جرمن جنرل کلازوٹز نے تو یہ مشہور مقولہ ایجاد کر دیا تھا کہ جنگ دراصل سیاست ہی کا تسلسل ہے اور اب یہ مقولہ دنیا بھر کی عسکری درسگاہوں میں ایک مدت سے تدریس کیا جا رہا ہے۔

دنیا کے تمام براعظموں میں مختلف اقوام نے مختلف زمانوں میں جنگ و جدل کے ادوار دیکھے ہیں۔ روزِ ازل سے جنگ اور سیاست کا یہ ’’کھیل‘‘ جاری ہے اور تاابد جاری رہے گا اس لئے اس پر زیادہ مغز ماری کی ضرورت نہیں۔البتہ جن امور پر اہلِ سیاست کو زیادہ مغز ماری کی ضرورت ہے وہ اور ہیں۔ نون لیگ اور سابق وزیراعظم کی جماعت کو آج جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ سٹرٹیجک اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ کسی جی ٹی روڈ پر لانگ مارچ سے حل نہیں ہوں گے۔ ان کی نسل اور اصل اور ہے۔۔۔۔ لیکن اب بھی پنجابی محاورے کے مطابق ’’زمین پر گرے بیروں کا کچھ نہیں گیا‘‘۔۔۔۔

سطور ذیل پر بھی ایک نظر ضرور ڈالئے۔۔۔ایک طرف عمران خان دعویدار ہیں کہ انہوں نے 48گھنٹوں کے نوٹس پر تحریک انصاف کے حامیوں کا ایک جم غفیر پریڈ گراؤنڈ میں جمع کرلیا تھا۔ دوسری طرف نوازشریف صاحب کی نون لیگ ہے جس کی سٹریٹ پاور کا مظاہرہ آج سے جی ٹی روڈ پر شروع ہو گا اور لاہور پر جا کر ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد شائد یہی کچھ ساری جی ٹی روڈ پر (از پنجاب تا سندھ) دہرایا جائے۔ اس سے نون لیگ کی عوامی مقبولیت کا مظاہرہ ضرور ہو گا لیکن نون لیگ کا منتہائے مقصود کیا ہے؟۔۔۔ کیا محض مظاہرہ ہے؟۔۔۔ کیا مخالفین (بالخصوص پی ٹی آئی) کو میدان سے باہر کرنا ہے؟۔۔۔ کیا 2018ء کے الیکشن میں لینڈ سلائٹڈ فتح حاصل کرنا ہے؟۔۔۔ کیا اس فتح کے بعد وہی کچھ بحال کرنا ہے جو 28جولائی 2017ء سے پہلے تھا؟۔۔۔

یہ سارے مقصودات (Objectives) اگر ہیں تو ان کے حصول کے دوران سب سے بڑا خطرہ ملک میں خانہ جنگی کا ہے۔ دنیا میں خانہ جنگیوں کی عصرِ حاضر کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ 19ویں صدی میں امریکہ کی خانہ جنگی (1860ء تا 1865ء) میں مقابلہ امریکہ کی شمالی اور جنوبی ریاستوں کے درمیان تھا۔ دونوں کی اپنی اپنی افواج تھیں جو چار برس تک برسرپیکار رہیں اور ہزاروں لاکھوں امریکی ہلاک اور زخمی ہوئے۔۔۔ لیکن پاکستان میں نہ تو پی ٹی آئی کی کوئی فوج ہے نہ نون لیگ کی۔ تو کیا اِن دونوں پارٹیوں کے جانثار زبانی جنگ لڑیں گے یا لاٹھیوں، پستولوں اور بندوقوں کا استعمال کریں گے؟

19ویں صدی کی امریکی خانہ جنگی کے بعد 20 ویں صدی کی چار خانہ جنگیاں بھی مشہور ہیں۔۔۔ روس کی خانہ جنگی، چین کی خانہ جنگی، سپین کی خانہ جنگی اور پاکستان کی خانہ جنگی۔۔۔ روس کی خانہ جنگی (1917ء تا 1922ء) لینن کے مسلح حامیوں اور زار روس کی فوج کے درمیان تھی۔ زار کی فوج نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دی اور انقلابیوں سے مل گئی اور سرخ انقلاب آ گیا جس کا خاتمہ 1991ء میں سقوطِ سوویت یونین پر ہوا۔۔۔ چین کی خانہ جنگی (1921ء تا 1950ء) ماؤ اور چیانگ کی افواج کے درمیان تھی جس میں ماؤ فتح یاب ہوئے۔لیکن کروڑوں چینی کام آئے۔۔۔ سپین کی خانہ جنگی (1936ء تا 1939ء) جنرل فرانکو اور مینوویل اذانا (Manual Azana) کے درمیان تھی جس میں فرانکو کامیاب ہوا۔۔۔۔ اور پاکستان کی خانہ جنگی (1971ء) تو ہمارے سامنے کی بات ہے جس میں ملک دونیم ہوا۔ لیکن ان تمام خانہ جنگیوں میں تمام مقابلے مسلح گروپوں کے مابین تھے جن کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں تھی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی، روسی، چینی، اسپینی اور پاکستانی خانہ جنگیوں میں دونوں فریق مسلح تھے لیکن ان سب میں سویلین اتلافات کی تعداد بھی ہوش ربا تھی۔

اب 2017ء کے پاکستان کی بات کریں تو قوم نے ماضی ء قریب میں بلوچستان، سوات اور فاٹا کی خانہ جنگیاں دیکھی ہیں۔ ان خانہ جنگیوں میں ایک فریق (دہشت گرد)اگرچہ شکست کھا گیا لیکن اس کی باقیات آج بھی نظروں سے اوجھل نہیں۔ بلوچستان میں بلوچستان نیشنل آرمی (BNA) کے عناصر ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں ’’اچھے دنوں‘‘ کی امیدیں لے کر بیٹھے ہیں۔ یہی حال فاٹا اور سوات کے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے پس ماندگان کا ہے۔ پنجاب میں بھی پنجابی طالبان کے علاوہ کئی دوسرے گروپ ہیں جن کے ناموں سے ہم سب واقف ہیں۔ یہ تمام گروپ بھی ’’سہانا مستقبل‘‘ آنکھوں میں بسائے منتظر ہیں کہ کب خانہ جنگی کی فضا بنے اور ان کو کھل کھیلنے کا موقع ملے۔

ان تمام گروپوں کی پشت پر بیرونی طاقتیں ہیں۔۔۔ ذرا سوچ کر بتایئے کہ ان تمام مسلح اور نیم مسلح گروپوں کے مقابلے میں ہمارے پاس کیا ہے؟۔۔۔ صرف اور صرف پاکستان کی مسلح افواج۔۔۔ لیکن ان افواج کو داخلی امن و امان کے علاوہ جو دوسرا بڑا چیلنج درپیش ہے وہ پاکستان کے جوہری اثاثے ہیں۔ قارئین کو شائد کم کم معلوم ہے کہ ان جوہری اثاثوں کی ’’بدولت‘‘ ہی ہم پر پے بہ پے غیر ملکی افواج کے دیدہ اور نادیدہ دستوں کی ’’نوازشات‘‘ ہوتی رہی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ اور یہی وہ خوفناک سازش یا خطرناک چیلنج ہے جن کی طرف شائد سابق وزیراعظم اشارہ کر چکے ہیں۔ البتہ یہ بات دوسری ہے کہ انہوں نے خود چار سال اقتدار میں رہ کر ان چیلنجوں سے قوم کو کماحقہ آگاہ نہیں کیا، ان کو سینے میں چھپائے رکھا اور قوم کو کبھی اعتماد میں نہیں لیا۔ اب اگر وہ ان عناصر کی نشاندہی کریں گے یا ان پر سے پردہ اٹھائیں گے تو گویا اپنی ہی اہلیتِ حکمرانی کے عدم استعمال کا ڈھنڈورہ پیٹیں گے یا ماتم کریں گے۔۔۔ ان کو چاہیے تھا کہ 12اکتوبر 1999ء کے تجربے سے سبق سیکھتے اور چار سال پہلے تیسری بار اقتدار میں آکر اس تجربے کے بنیادی کرداروں کو ایک نئی سوچ دیتے، ایک نئی روش پر ڈالتے اور ایک نئے دور کا آغاز کرتے!۔۔۔1998ء میں انہوں نے جوہری دھماکے ضرور کروائے لیکن دو عشروں کے بعد 2017ء میں ان بیش بہا جوہری اثاثوں کی حفاظت سے بے اعتنائی برتی۔۔۔ میری نظر میں ان کا کلیدی قصور یہی ہے!

ان اثاثوں کی حفاظت سے میری مراد اثاثوں کے محافظوں کی حفاظت ہے۔ وہ لوگ آپ کے رقیب نہیں، رفیق ہیں، حریف نہیں، حلیف ہیں۔ یہ سوچ اگر آپ کی پارٹی میں عام ہو جاتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ڈان لیکس جیسے تنازعے سر اٹھاتے۔ قوم کے ان محافظوں نے سویلین بالادستی سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا یا ہوا اس کو بھلا دینا چاہیے تھا۔ شائد آپ نے ایسا کیا بھی ہو لیکن یہ میری ذاتی سوچ ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ ان سطور میں، میں نے کئی بار لکھا ہے کہ ان محافظوں کی صورت اس اسپِ تازی کی سی ہے جس کی باگ آپ کے ہاتھ میں تھی۔ اس عربی گھوڑے کے سامنے جب تک چابک نہ لہرایا جائے یہ کبھی نہیں بدکتا۔ دوراندیش شہسوار چابک پھینک کر صرف پیار بھرا ہاتھ اس کی گردن پر پھیرتے ہیں تو یہ کبھی اڑیل ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس حقیقت کو ہمارے انا پرست اور مغرور جمہوری رہنما جتنی جلد سمجھ لیں گے، اتنا ہی ان کے حق میں اچھا ہو گا جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے حق میں اچھا ہوگا!

مزید : کالم