باب آزادی اور خونی لکیر

باب آزادی اور خونی لکیر
باب آزادی اور خونی لکیر

  

تحریر:ڈاکٹر رانا تنویر قاسم      

واہگہ بارڈر پاکستان زندہ باد اور اللہ اکبر کی صداؤں کے درمیان پرچم اتارنے کی تقریب ، روایتی جوش و جذبہ ، ہزاروں پاکستانی بچے، نوجوان بوڑھے اور خواتین جوق درجوق شرکت،پاکستان رینجرزکے شیردل جوانوں کے بوٹوں کی گھن گھرج اوروطن کی حفاظت کے جذبے سے معمور لہو گرماتی پریڈ ، لوگوں کا سپاہیوں کاحوصلہ بڑھانا، فضاء کا پاکستان زندہ باد اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور ’’ جیوے جیوے پاکستان‘‘  کے نعروں سے گونجنا،ملی نغموں اور قومی ترانوں پر لوگوں کا والہانہ رقص اور بھنگڑے ،نعرے بازی کا ماحول کو گرمائے رکھنا ،فلک شگاف نعروں کی گونج، جوش وجذبے سے جگمگاتے چہروں اورلہراتے پرچموں کے ساتھ واہگہ بارڈرپرہونے والی تقریب 1965 کی تاریخی فتح کی یادیں تازہ کررہی تھی ،  مگر تقریب کے دوران جوش دکھانے کے لئے زیادہ سے زیادہ طاقت سے پاؤں زمین پر مارنے کا مظاہرہ اس بار دیکھنے کو نہیں ملا۔ بتایا گیا ہے کہ پریڈ کے دوران غصے اور جوش کے اظہار میں کمی طے شدہ پالیسی ہے ، اطراف سے پریڈ میں حصہ لینے والے جوانوں کے نچلے جسم کے جوڑوں کو اور خاص طور پر گُھٹنے کے جوڑوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں سے بعض شدید نوعیت کے ہیں،  یہ اقدام دونوں ممالک کے ایسے عوام اور سیاحوں کے لئے مایوسی کا موجب بن سکتا ہے جو یہ تقریب دیکھنے کے لئے واہگہ بارڈر پر جمع ہوتے ہیں اور اپنے رینجرز کے جوانوں کا غصہ اور جوش وجذبہ دیکھ کر خود بھی اس جوش کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اس تقریب کے لئے خاص طور پر فوجیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے انہیں مونچھیں اور داڑھی رکھنے پر خصوصی الاؤنس دیا جاتا ہے۔واہگہ بارڈر کی تقریب خوبصورت ہے یا بدصورت ؟ یہ دونوں ملکوں کے حقیقی تیور ظاہر کرتی ہے ، مسئلہ اس تقریب کو برقرار رکھنے یا اسے ختم کرنے کا نہیں بلکہ تیور ختم کرنے کا ہے ، بھارت سرکار کو اپنے رویے سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کے تعلقات کی خواہاں ہے،  رویوں میں بہتری آئے گی تو واہگہ بارڈر کی تقریب کے طور اطوار بھی بدل جائیں گے، اصل خرابی نئی دہلی کی توسیع پسندانہ پالیسیاں ہیں ، اکھنڈ بھارت کے خواب سے جب تک بھارت باہر نہیں آئے گا اس وقت تک دوطرفہ تعلقات خوشگوار نہیں ہوسکتے ، حقیقت یہی ہے کہ بھارت کو سراب سے باہر نکل کر پاکستان کی سچائی کو تسلیم کرنا ہے ، جس دن اس نے یہ سچائی تسلیم کرلی اس روز واہگہ بارڈر کی تقریب کے تیور تبدیل ہو جائیں گے،  تقریب کو ختم کرنے سے تیور ختم نہیں ہوسکتے وجوہات کو ختم کرنا اور رویوں کو درست کرنا ہوگا۔

پاکستان کالمسٹ کلب کے چیئرمین جناب ایثار رانا کی سربراہی میں جب ہم واہگہ پہنچے تو رینجرز کے افسران نے ہمارا استقبال کیا اور بڑی تکریم کی ، جناب زبیح اللہ بلگن، محترمہ رابعہ رحمان، محترمہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق ،اور عزیزم انابغ علی بھی ہمراہ تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ایک طرف ایک ایشور، ایک رب اور ایک بھگوان کی باتیں اور ’’ بہارو پھول برساؤ ‘‘ کے گیت اور دوسری طرف دھرتی پہ قربان ہونے والے اپنے لہو سے وہ لکیر کھینچ گئے ہیں جس کی اساس یقین دلا رہی ہے کہ ہم ایک ’’ الگ قوم‘‘  اور ایک ’’الگ مذہب‘‘  کے ماننے والے ہیں، یہ لکیر دنوں کی سلامتی کی ضامن تھی۔ ہر دکھی دل کا سوال ہے کہ پھر کیسے یہ غیر فطری اور عام سی لکیریں مٹ جائیں؟  یہ تو ان لوگوں کی باتیں ہیں جنہوں نے آج تک ستر سال پہلے بنی اسلامی مملکت اور پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا اور ہم انہیں روزانہ سرحدوں پہ پرچم اتارنے کی تقریب میں اپنے ایک زندہ قوم ہونے کا احساس دلاتے ہیں ، روز انہ سرحدوں پہ دروازوں کے بند ہونے پر گونجتے جذبات سے بھرپور کلمہ طیبہ کے نعرے ہمارے دشمنوں کو بتاتے ہیں کہ اس تقسیم کا عنوان اسی کلمہ ء حق نے لکھا تھا،  ہمارے قومی ترانے کا ہر لفظ ہمیں ایک علیحدہ قوم کی شناخت دیتا ہے اور سینے پہ رکھا ہر ہاتھ سایہ ء خدائے ذوالجلال پہ جھک جاتا ہے ، جو بتاتا ہے کہ اس ملک پہ حکومت میرے رب کی ہے ، وہی حاکمِ اعلیٰ ہے اور قرآن و سنت ہمارا راستہ ہے ، جس نے دونوں ملکوں کے درمیان یہ لکیر کھینچی تھی۔

سیاسی، سماجی،ثقافتی اور صحافتی وفود کا تبادلہ اور دوستی کی پینگیں بڑھانے والے بتائیں گے کہ خاک و خون سے کھینچی ہوئی لکیر جو اپنی مسلمہ جغرافیائی حیثیت کے ساتھ ساتھ دلوں کے درمیان اپنے دو قومی نظریے کی اساس پر خون ِ دل سے روز بروز پختہ ہو تی جارہی ہے۔ہم پاکستانی امن کے داعی ہیں لیکن ہم جذبہء شہادت سے لبریز بھی ہیں اور ہر میلی آنکھ نکال بھی سکتے ہیں۔ ایک اچھے پڑوسی کی طرح رہو اور اکھنڈبھارت کے خواب اپنی آنکھوں سے نوچ لو ورنہ ہم نوچیں گے تو تمہارا مکروہ چہرہ ہی ننگا کر دیں گے۔قیام پاکستان کے وقت دی گئی قربانیوں کا کفارہ کون دے گا ؟ ان شہیدوں اور اپنے قائد سے کون بے وفائی کرے گا ؟ پاکستان کا ہر محبِ وطن شہری موت کو گلے لگائے گا لیکن خودمختار جئے گا۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ