شوگر ملز مافیا حکومت، عوام اور کاشتکاروں کو بلیک میل کر رہی ہے

شوگر ملز مافیا حکومت، عوام اور کاشتکاروں کو بلیک میل کر رہی ہے

اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ شوگر ملز مافیا حکومت، عوام اور گنے کے کاشتکاروں کو بلیک میل کر رہی ہے اسلئے انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ ایک طرف تو شوگر مل مالکان نے کاشتکاروں کے اربوں روپے دبائے ہوئے ہیں تو دوسری طرف حکومت کو ایکسپورٹ سبسڈی کیلئے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں چینی کی سپلائی روک دی گئی ہے جس سے نہ صرف قیمتیں بڑھ رہی ہیں بلکہ بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ شوگر مل مالکان کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کا مسلسل استحصال کیا جا رہا ہے جو انکے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ معاوضہ نہ ملنے پر کسانوں میں گنے کے بجائے دیگر متبادل فصلیں اگانے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو شوگر ملز کے علاوہ ملک کیلئے بڑا چھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔کاشتکاروں کو سرکاری ریٹ سے کم ادائیگیوں اور ان میں بھی غیر ضروری تاخیر، کم تولنے، آڈھیتیوں کے ہتھکنڈوں اور حکومت کی جانب سے سنجیدہ کاروائی نہ کرنے نے لاکھوں کاشتکاروں کو مایوس کر دیا ہے جس سے گنے کا زیر کاشت رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ کاشتکار اپنے وقت اور پیسے کا مزید زیاں برداشت نہیں کر سکتے ۔تاخیر سے ادائیگیاں اسلئے کی جاتی ہیں کہ کاشتکار مجبور ہو کر اپنی فصل شوگر ملوں کے ایجنٹوں کو اونے پونے فروخت کر دیں جو مقامی انتظامیہ کی ملکی بھگت کے بغیر ناممکن ہے۔

 

مزید : کامرس