وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو عہدے سے دستبردار ہونے کے لئے شدید دباؤ کا سامنا

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو عہدے سے دستبردار ہونے کے لئے شدید دباؤ کا سامنا

قطع نظر اس کے کہ عائشہ گلالئی کے الزامات حقیقت ہیں یا فسانہ وہ الزام تراشی کے پس پردہ پوشیدہ مقاصد حاصل کرسکتی ہے یا نہیں ،توجہ طلب بات یہ ہے کہ عائشہ گلالئی نے اپنی زندگی کے تین اہم پہلوؤں کو داؤ پر لگا دیا ہے عائشہ گلالئی اور اس کا والد یہ سب کچھ پلان کرتے وقت شاید یہ بات بھول گئے تھے کہ ان کا تعلق ایک ایسے پشتون قبیلے اور ایسے خطے سے ہے جہاں اس طرح کے الزامات کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی اگر کسی طرف سے اس طرح کا کوئی معمولی الزام بھی سامنے آ جائے تو اس کی تشہیر کرنے کی بجائے اپنے علاقے کی رسم و رواج کے مطابق انتہائی قدم اٹھایا جاتا ہے ،عائشہ گلالئی اپنے سگے بھائیوں کے علاوہ یقینی طور پر رشتہ دار اور قوم بھی رکھتی ہے آنے والے وقتوں میں کوئی بھی شخص اگر عائشہ گلالئی کے کسی رشتہ دار یا بھائیوں کو طعنہ دیتا ہے جسے مقامی زبان میں پیغور کہتے ہیں تو ایسی صورت میں قندیل بلوچ کی تاریخ دہرائے جانے کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عائشہ گلالئی کو اس بات کا بھی احساس ہو جائیگا کہ الزام کا ایشو کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے یا بعد میں جیسے ہی قصہ پارینہ بن جائے گا تو وہاں سے اس کے سیاسی کیرئیر کا آغاز شروع ہو جائیگا آج کم و بیش ہر پارٹی یا زیادہ تر پارٹیاں عائشہ کو شمولیت کی دعوت دے رہی ہیں لیکن آنے والے وقتوں میں یہی پارٹیاں اس سے گریز کرینگی اور یوں اس کی سیاست گو شہ گمنائی میں کھو جائے گی شہرت کی بلندیوں پر پہنچنا عائشہ گلالئی اور اس کے والد کی کمزوری کی حد تک خواہیش رہی ہے مگر ان کا یہ انداز سیاست ان کو واپس گمنامی کی طرف دھکیل دئے گا جس کے لئے وقت کا انتظار کرنا پڑے گا الزام تراشی کی اس سیاست سے مستقبل میں عائشہ گلالئی کی ازدواجی زندگی بھی مسائل اور مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے تاہم اس انداز سیاست سے عائشہ گلالئی اور اس کے والد کے لئے مستقل بنیادوں پر مغرب اور یورپ کے دروازئے کھلنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا اس بات کا بھی امکان بھی ہے کہ عائشہ گلالئی آنے والے چند مہنیوں میں بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرکے دوسری ملالہ بن جائے اور حسب روایت دختر پاکستان بن کر پاکستان کے حساس اور قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دے بہر حال فی الوقت بظاہر عائشہ گلالئی کا ستارہ عروج پر نظر آ رہا ہے مگر اس کے زوال کا آغاز ہونے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی اور یوں جس تیزی کے ساتھ اس نے عروج پایا اسی تیزی کے ساتھ اس کا سیاسی زوال ہونا یقینی نظر آ رہا ہے۔

دوسری طرف خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی اپنی ہی پارٹی کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر مبنی طرز حکومت کے الزامات ہیں زیادہ تر الزامات تحریک انصاف ہی کے اراکین اسمبلی نے عائد کئے ہیں تحریک انصاف کے بیشتر اراکین اسمبلی وزیر اعلیٰ سے ناراض ہیں اور عمران خان سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ صوبائی قیادت کو تبدیل کیا جائے اور مرکزی قیادت کی طرف سے بھی پرویز خٹک کو اپنا عہدہ چھوڑنے کی بات کی گئی مگر پرویز خٹک یہ مطالبہ تسلیم کرنے پر کسی طور پر بھی آمادہ نہیں ہیں صوبائی حکومت کے اندرونی اختلافات کو دیکھتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ کے امیر مقام بھی میدان میں آ گئے ہیں بعض معتبر اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن اپنی پارٹی کے عہدیدار کو اگلا وزیراعلیٰ بنوانا چاہتے ہیں جو کہ موصوف کے بھائی ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کو سنئیر وزیر کا عہدہ دینا چاہتے ہیں مگر مسلم لیگ سمیت اپوزیشن کی بیشتر پارٹیاں اس پر آمادہ نہیں ہیں اقتدار کی کشمکش جاری ہے اور روز روز نت نئے فارمولوں پر غور کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے ناراض ارکان بھی غیر معمولی طور پر متحرک ہو کر اپنا دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اس سارے کھیل میں جماعت اسلامی دورخی پالیسی اپناتے دکھائی دے رہی ہے ایک طرف عائشہ گلالئی کو اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے کر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ عائشہ گلالئی کے الزام حقیقت پر مبنی ہیں جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ بھی اس طرح چپکی ہوئی ہے جیسے کسی نے ایلفی کے ساتھ جوڑا ہو جماعت اسلامی کی ایک کمزوری خیبر بینک سکینڈل بھی ہے حال ہی میں بینک آف خیبر کے ایم ڈی کو عہدے سے ہٹائے جانے کی خبریں منظر عام پر آئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی نے خیبر بینک سکینڈل پر اپنے بعض مطالبات تسلیم کئے جانے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے اس طرح وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر اتحاد سے نکالی جانے والی قومی وطن پارٹی کے اراکین کو وزیراعلٰی ہاؤس مدعو کرکے ان کی بھی حمایت حاصل کر لی ہے اس بدلتی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے گذشتہ روز ایک جارحانہ موقف اختیار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ خود جوڑ توڑ کے بادشاہ ہیں اور وہ خود حکومیتں بنانے اور گرانے کے ماہر ہیں کسی اور کو جرات نہیں ہو سکتی کہ ان کی حکومت گرائے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی مائی کا لعل ان کی حکومت نہیں گرا سکتا ،وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا یہ دعوی ماضی کے تناظر میں درست سمجھا جاتا ہے کیونکہ 2013 کے انتخابات کے نتیجے میں اسد قیصر کو خیبر پختون خواہ کا وزیراعلیٰ بننا تھا اور یہ عہدہ انہی کا حق بنتا تھا مگر پرویز خٹک نے جوڑ توڑ کرکے عمران خان کو آمادہ کیا اور اسد قیصر کو دستبردار ہونے میں کامیاب ہو گئے اس وقت اور آج میں واضح فرق یہ ہے کہ اس وقت پرویز خٹک کی مخالفت نہ ہونے کے برابر تھی مگر آج پارٹی کے اندر نہ صرف انہیں مخالفت کا سامنا ہے بلکہ اپنے پارٹی اراکین کی طرف سے ان پر کرپشن کے سنگین الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں جو کہ تمام کے تمام اگر سچ نہیں ہو سکتے تو تمام کے تمام جھوٹ بھی نہیں ہو سکتے۔

مزید : ایڈیشن 1