سابق وزیر اعظم کی نااہلی، نئے وزیر اعظم اور کابینہ کی تشکیل ، اسمبلی مدت پوری کرے گی

سابق وزیر اعظم کی نااہلی، نئے وزیر اعظم اور کابینہ کی تشکیل ، اسمبلی مدت ...

ایک ’’اور‘‘ جمہوری وزیر اعظم کی نا اہلی کے بعد نئے وزیر اعظم کا انتخابی عمل بخیروخوبی سرانجام پا گیا یوں جمہوریت کے ’’حسن‘‘ کو چار چاند بھی لگ گئے اور یہ توقع بھی پوری ہونے کی امیدہوئی کہ پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور کی طرح مسلم لیگ (ن) کا یہ اقتدار بھی پانچ پارلیمانی سال مکمل کرے گا اب اس طرح جمہوریت کتنی مضبوط ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ میاں نواز شریف کی نا اہلی اور شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کی مسند پر پہنچنے کے عمل میں دونوں اپوزیشن نے ٹھیک جمہوری کردار ادا کیا اور اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ جمہوری عمل کو کسی بھی طور پر ’’ڈی ریل‘‘ نہیں ہونے دیں گے اب اس عمل میں بھی کئی سیاسی تجزیہ نگار کچھ سیاسی کمزوریاں اور کچھ برتریاں تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے کابینہ کی تشکیل کے بعد وہ تمام سازشی تھیوریاں بھی فی الحال ’’بند‘‘ ہو کیونکہ بھاری بھرکم کابینہ میں کئی سیاسی پنڈتوں کے منہ بھی بند ہوئے ہیں اور ن لیگ نے اپنے سیاسی پتے بھی بڑی صفائی سے کھیلے ہیں خصوصاً جنوبی پنجاب کو اس مرتبہ ایک صوبے جتنی وزارتیں دے دی گئی ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اب عام انتخابات قریب ہیں۔ اس مرتبہ اس خطے کے منجھے ہوئے سیاستدانوں کو 8 وزارتیں دی گئیں اور جن کو یہ وزارتیں ملیں ان میں سے کوئی بھی پہلی مرتبہ اسمبلی میں نہیں آیا بلکہ متعدد مربتہ اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اب اس خطے کے عوام کا ان سے مطالبہ ہونا چاہیے کہ وہ کم از کم اپنی ان اہم وزارتوں کے ذریعے ہی جو کچھ کر سکتے ہیں کم از کم وہ تو کر لیں جیسا کہ شجاع آباد سے تعلق رکھنے والے پرانے پارلیمنٹرین سید جاوید علی شاہ کو آبی وسائل کا وزیر بنایا گیا ہے اور انہیں یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اس خطے میں پانی کی قلت کا عالم کیا ہے اور کتنا پانی ضائع ہوتا ہے لہذا انہیں چاہیے کہ وہ فوراً کالا باغ ڈیم بنانے پر اپنے وزارتی وسائل استعمال کریں خصوصاً کوہ سلمان سے نکلنے والی رود کوہیوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر توجہ کریں تو اس علاقے کی قسمت یقیناًبدل جائے گی اس طرح ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے والے حافظ عبدالکریم کو مواصلات کی وزارت دی گئی ہے اس علاقے کے باسی ہونے کے ناتے انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس علاقے میں سڑکوں کی ابتر حالت کی وجہ سے کتنے حادثات ہوتے ہیں اور کتنی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں 70 سال گزرنے کے باوجود تین صوبوں کو پنجاب سے ملانے والی سڑک مظفر گڑھ تا ڈیرہ غازی خان اور ہیڈ پنجند ابھی تک سنگل ہے کم از کم یہ وزیر موصوف سڑکوں کی اپ گریڈیشن کا کام کر لیتے جس پر ان کا ذاتی کوئی خرچہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح بہاولپور سے انجینئر محمد بلیغ الرحمن کو اس مرتبہ تعلیم کا مکمل قلمدان سونپا گیا ہے وہ اس علاقے میں ضرورت کے مطابق نئی یونیورسٹیاں اور پہلے سے موجود یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کروا کر تعلیمی انقلاب لا سکتے ہیں اگر وہ باتوں پر زیادہ زور نہ دیں اور عملی کام کر لیں اسی طرح حاجی سکندر حیات بوسن کو پھر فوڈ سیکورٹی کا قلمدان دیا گیا ہے ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ وزیر نہیں بنے اس لئے توقعات فضول ہیں رحیم یار خان سے ارشد خان لغاری کو صنعت و پیداوار کا وزیر بنایا گیا وہ اس خطے میں پیداوار میں اضافے کے لئے صنعتوں کا جال بچھا سکتے ہیں مگر کیا وہ ایسا کر سکیں گے یہ ایک سوالیہ نشان ہے لودھراں سے عبدالرحمن خان کانجو کو اوور سیز پاکستانیز کا قلمدان سونپا گیا ہے دیکھئے وہ اوورسیز پاکستانیز کے لئے کیا کام کرتے ہیں کیونکہ صرف سعودی عرب نے ایک سے ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کو اپنے ملک سے بدر کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں اب یہ ان کا امتحان ہے کہ وہ ان معاملات کو کیسے لیتے ہیں ان کے ساتھ ریاض حسین پیرزادہ اویس لغاری کو بھی وزیر بنایا گیا ہے اب سرائیکی قوم پرستوں کو چاہیے کہ وہ ان وزیروں سے رابطہ کریں اور ان سے درخواست کریں کہ صوبہ تو جب بنے گا اس وقت دیکھیں گے اب ان کے جو اختیارات ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم اس علاقے کی کچھ ’’محرومیاں‘‘ تو کم کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر ان کا یہ واویلا کوئی توجہ نہیں پا سکے گا کہ یہ علاقہ ترقیاتی کاموں سے محروم ہے۔

دوسری طرف سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کچھ دن قبل ایک بھر پور پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ شاید یہ ان کی آخری پریس کانفرنس ہو لیکن ایک سیاستدان کب تک ملکی معاملات میں خاموش رہ سکتا ہے اس کا اندازہ ان کی پھر دوبارہ پریس کانفرنس سے ہوا کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پورے جمہوری نظام کی بیخ کنی کی جا رہی ہے عدلیہ سمیت تمام ادارے اگر پاکستان کی بنیادیں کھودنا شروع کر دیں تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا سپریم کورٹ کا جج نیب عدالت کی نگرانی کرے گا تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کیسے جا سکتا ہے؟ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہوتا کہ ایک عدالت کی نگرانی دوسری عدالت کرے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ عوام آئین اور قانون کی توہین برداشت نہیں کریں گے ۔

سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی جب پریس کانفرنس کے لئے ابدلی روڈ پر پہنچے تو تحریک انصاف کے کارکنوں نے بزرگ سیاستدان کے خلاف زبردست نعرے بازی شروع کر دی نازیبا الفاظ کہے۔ ان کارکنوں کی قیادت راؤ محمد آصف اظہر ہاشمی اور شہباز قریشی کر رہے تھے اس موقع پر جاوید ہاشمی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے منع کرنے کے باوجود ادھوری چھوڑ کر مظاہرین کے پاس چلے گئے انہوں نے پھر نعرے بازی شروع کر دی۔ مسلم لیگ ن ضلع ملتان کے صدر بلال بٹ نے اس موقع پر کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن مخدوم جاوید ہاشمی کے سامنے احتجاج کر کے ملتان میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو مسلم لیگ ن کے کارکن مخدوم شاہ محمود قریشی کو ملتان میں کسی جگہ پریس کانفرنس نہیں کرنے دیں گے ملتان پریس کلب کے سامنے مخدوم جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے کارکنوں کے احتجاج پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بلال بٹ نے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی واقعی بہادر آدمی ہیں، ہم جاوید ہاشمی کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1