میاں میر پنڈا پرمال کی سڑک ٹینڈر کے بغیر بنانے کا انکشاف

میاں میر پنڈا پرمال کی سڑک ٹینڈر کے بغیر بنانے کا انکشاف

لاہور(عدیل شجاع) ایل ڈی اے میں ٹھیکے کے بغیر من پسند ٹھیکیداروں سے ترقیاتی کام کرانے کا انکشاف ،افسران کی ملی بھگت سے طے شدہ طریقہ کار اور ٹینڈرنگ کے ایس او پیز کو پس پشت ڈالا جانے لگا، لنک روڈ میاں میر پنڈ اپر مال کا کام قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے دو ماہ پہلے ہی کروا دیا گیا،افسران کی ملی بھگت سے انتہائی ناقص کام کروایا گیا اہل علاقہ کی روزنامہ پاکستان سے گفتگو۔تفصیلات کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 21اگست کو ایک ٹینڈر جاری کیا جانا ہے جس کا قواعدو ضوابط کے مطابق کمپیٹیشن ہو گا اور پھر سب سے کامیاب کمپنی کو اس کا باقاعدہ ورک آرڈر جاری کرکے کام کرنے کا اجازت نامہ دیا جانا تھااور پھر اس ٹھیکہ کے نتیجہ میں لاہور لنک روڈ میاں میر پنڈ اپر مال کے روڈ کو دوبارہ تعمیر کیا جانا تھامگرایل ڈی اے کے بعض افسران کی مبینہ طور پر ملی بھگت سے ٹینڈر سے دو ماہ قبل ہی اس روڈ کا کام من پسند ٹھیکیدارسے کمیشن وصول کر کے کروا لیا گیا ۔ذرائع کے مطابق ٹھیکے سے دو ماہ پہلے ہی ترقیاتی کام کروانے کا کوئی قانون موجود نہیں ۔پاکستان سے بات کرتے ہوئے میاں میر پنڈ کے رہائشی بشیر احمد نے بتایا کہ اس روڈ کو بنے کم و بیش دو ماہ ہو چکے ہیں جبکہ اس کی تعمیر میں انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا گیا ہے۔عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ ٹھیکیدار کو بار بار کہنے کے باوجود اس سڑک کا لیول ٹھیک نہیں بنایا گیا اور یہاں بارشوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔غلام نبی نے بتایا کہ ایل ڈی اے افسرران نے ملی بھگت کرکے اور کمیشن وصول کر کے ناقص سڑک تعمیر کروائی ہے جس سے اہل علاقہ کو بارشی موسم میں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ابھی تک فٹ پاتھوں کا کام بھی مکمل نہیں کیا گیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1