جنرل (ر) پرویز مشرف کے بیانات، ملک میں پہلے جیسے حالات دیکھنے کی خواہش

جنرل (ر) پرویز مشرف کے بیانات، ملک میں پہلے جیسے حالات دیکھنے کی خواہش

آنے والے دنوں میں ملک کا سیاسی منظر نامہ کیسا ہو گا، اس پر سندھ کے سیاسی اور صحافتی حلقے ’’عطائی نظام‘‘ کے علمبردار سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل(ر) پرویز مشرف کے دو تازہ بیانات کے پس منظر میں بحث کر رہے ہیں ایک بیان میں وہ سندھ میں ’’مہاجر‘‘ کے نام پر سیاست کرنے والے دھڑوں کو اکٹھا ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں اور دوسرے بیان میں وہ ملک کی ترقی کو فوجی آمروں کے ادوار سے جوڑ رہے ہیں، جس سے لگتا ہے کہ وہ ایک بار پھر ملک میں وہی منظر دیکھنے کے متمنی ہیں۔ اس پر افسوس کے ساتھ اور کیا کہا جا سکتا ہے، معروف محقق، دانشور، شاعر خواجہ رضی حیدر کا یہ شعر حسب حال ہے۔

یہی ہے راز بظاہر یہی حقیقت ہے

نہیں ہے کوئی بھی انجام اس کہانی کا

کیسی بدقسمتی ہے کہ جو شخص سپریم کورٹ کے فل کورٹ بنچ سے دوبار ملک کا آئین توڑنے کے جرم کا مرتکب قرار پا کر آئین سے غداری کا ملزم ہے اور بغاوت کے مقدمہ میں ملک کی قانونی عدالتوں کا مفرور ہے۔وہ بیرون ملک غیر ملکی حکمرانوں کے دیئے ہوئے عطیہ سے خریدے ہوئے محلّات میں بیٹھ کر ماورائے آئین اقدام کی وکالت کر کے توہین عدالت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ جنرل(ر) پرویز مشرف کا یہ بیان زمینی حقائق کے بھی برعکس ہے اور تاریخی سچائی کے بھی خلاف ہے پاکستان برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی سو سالہ تاریخ ساز طویل صبر آزما سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں قائد اعظم کی قیادت میں سیاسی عمل کے ذریعہ وجود میں آیا تھا۔ اس کی بقا سلامتی، ترقی اور یکجہتی کا راز بھی آئین کے تابع سیاسی عمل اور سیاسی قیادتوں کی حکمرانی میں مضمر ہے ہماری تباہی، بربادی میں بنیادی کردار آئین سے انحراف کے طرز عمل نے ادا کیا ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر ہمیشہ عالمی طاقتوں کے سامنے قومی مفادات کو پس پشت ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ سیاست دان ان کے مقابلے میں ثابت قدم رہے تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے مثالیں تو کئی ہیں مگر یہاں ایک مثال ملک فیروز خان نون جیسے کمزور وزیراعظم کی پیش خدمت ہے 1957، 1958ء میں جب امریکہ نے پاکستان کو نظر انداز کرکے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی پالیسی اپنائی توبھارت کی طرف سے دریاؤں کے پانی کا رخ اپنے علاقے کی طرف موڑنے کی دھمکی کا وزیر اعظم فیروز خان نون کا ردعمل کتنا شدید تھا اس کا اندازہ پارلیمنٹ میں اس تقریر سے لگایا جا سکتاہے ۔

(واضح رہے کہ ابھی 1962ء کا سندھ طاس معاہدہ عمل میں نہیں آیا تھا)۔ وزیراعظم فیروز خان نون نے 8مارچ 1958ء کو پارلیمینٹ میں خطاب کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے جب یہ اعلان کیا کہ ہو سکتا ہے بھارتی خطرے کے پیش نظر پاکستان کو امریکہ سے اپنا تعلق ختم کرنا پڑے۔ ‘‘ وزیر اعظم فیروز خان نون نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ’’اگر ہمارے عوام کو اپنی آزادی بھارت کے ہاتھوں خطرے میں پڑتے دکھائی دی تو ہم تمام معاہدے توڑ کر ان لوگوں سے ہاتھ ملانے پر مجبور ہو جائیں گے جن کو ہم نے دوسروں کی خاطر اپنا دشمن بنا رکھا ہے اس سلسلے میں کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے‘‘۔

امریکی حکومت کے پیپرز گواہی دیتے ہیں کہ ابھی وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی پارلیمنٹ میں تقریر کی گونج ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ وائٹ ہاؤس میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ وائٹ ہاؤس نے پاکستان میں متعین اپنے سفیر کو پیغام دیا کہ جتنی جلد ممکن ہو وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت لے کر امریکہ کے حوالے سے ’’ان کے خدشات کودور کریں اور یقین دہانی کرائیں کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پاکستان کے مفادات کو قربان نہیں کیا جائے گا۔‘‘

بانی پاکستان حضرت قائداعظم ؒ اور تحریک پاکستان کی جدوجہد میں قائداعظم کے بعد صف اول میں آنے والے سب سے مقبول عام عوامی لیڈر ملک کے پہلے وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان سے لے کر 1958ء میں لگنے والے پہلے مارشل لاء تک 1947ء سے 1958ء تک اقتدار میں رہنے والے کسی وزیراعظم، ان کی کابینہ کے ارکان کے دامن پر قومی خزانے اور قومی وسائل کی لوٹ مار اور بدعنوانی کے الزام کا کوئی داغ تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ اس دور میں تو قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر کے صوابدیدی اختیارات کے استعمال کو بھی ’’خراب حکمرانی‘‘ کے زمرے میں تصور کیا جاتا تھا۔اس دور میں اگر کسی کے خلاف کارروائی عمل میں آئی تھی تو وہ قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنے اور صوابدیدی اختیارات کے تحت کسی کو رعایت دینے پر ہوئی تھی جبکہ 1958ء کے بعد سے جنرل(ر) پرویز مشرف سمیت کسی فوجی ڈکٹیٹر اور ان کی کابینہ کے ارکان میں کم ہی ایسے لوگ ملیں گے جن پر قومی خزانے قومی وسائل کی بندر بانٹ بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات نہ لگے ہوں۔ کاش 1958ء کے بعد منتخب ہو کر آنے والی سول حکومتیں بھی امانت و دیانت کی ان درخشندہ روایات کا پاس رکھتیں، جو وطن عزیز میں قائداعظمؒ کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت نے قائم کی تھیں۔ ملک کی عدالتوں کے خلاف مفرور سابق فوجی ڈکٹیٹر کی ہرزہ سرائی کے مضمرات اپنی جگہ جس کا عدالتوں سمیت ہر سطح پر نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ اس بیان کے آنے کے دو دن بعد ہی مسلح افواج کے سپہ سالار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ ’’بیان‘‘ آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی یقینی بنتا دیکھنے کے آرزو مندوں کے لئے اطمینان اور تسکین قلب کا موجب ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’فوج آئین اور قانون کی بالا دستی کے لئے تمام قومی اداروں سے مل کر کام کرتی رہے گی۔‘‘

اس کے بعد فوج کے خود ساختہ غیر ادارہ جاتی ترجمانوں کو آئین کی بساط لپیٹ کر ملک کو بچانے کے عطائی نظام کا نسخہ تجویز کرنے سے احتراز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس ’’عطائی نظام‘‘ والے نسخہ سے مریض کے شفا یاب ہونے کی توقع کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ماضی میں اس نسخہ سے مریض یا تو مفلوج ہوا ہے۔ یا سقوط ڈھاکہ کی شکل میں مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ یہ ملک سیاسی عمل اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔ اس کی بقا کی ضمانت ہی آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں ہے سیاسی جماعتوں کی مضبوطی اور سیاسی کلچر کے فروغ اور اس کی نشو ونما میں مضمر ہے جس کے بعد ہی اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل کرنے کی ریت ختم ہو سکے گی۔

اب ذرا ذکر کرتے ہیں جنرل (ر) پرویز مشرف صاحب کے اس بیان کا جس میں انہوں نے ’’مہاجر‘‘ کے نام پر سیاست کرنے والے تمام دھڑوں کو ایک ہونے کا مشورہ دیا ہے۔اکٹھے ہونے کا مشورہ جن دھڑوں کو دیا گیا ہے وہ کس حد تک ان کے مشورہ پر عمل کرتے ہیں اس کا اندازہ جلد ہی ہو جائے گا۔ فی الوقت تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں قائم کام کرنے والی ’’ایم کیو ایم پاکستان‘‘ نے اپنی مشکلات کی ’’مشکل کشائی‘‘ کے لئے ساری توقعات وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی سے لگا لی ہیں۔ دیکھئے سندھ میں وفاق کے نمائندے سندھ کے گورنر جناب زبیر عمر جناب وزیر اعظم سے ان وعدوں کو ایفا کرانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ جن کا ذکر ڈاکٹر فاروق ستار نے گورنر جناب زبیر عمر کا نام لے کر ان کے کردار کی تحسین کی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جناب زبیر عمر کے لئے یہ مناسب طرز عمل ہے؟وہ گورنر کا حلف اٹھانے سے قبل مسلم لیگ (ن) کا فعال حصہ تھے مگر گورنر کے آئینی منصب پر فائز ہونے کے بعد جماعتی سیاست سے کنارہ کش رہنا اس منصب پر رہنے کا آئینی تقاضہ ہے انہیں صدر مملکت جناب ممنون حسین کی طرح اس آئینی منصب کی تقدیس کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ وہ تو سیاست میں نو وارد تھے اور مسلم لیگ (ن) میں بھی جبکہ جناب صدر مملکت جناب ممنون حسین سیاست میں پانچ عشروں سے زیادہ عرصے سے تھے اور مسلم لیگ (ن) میں بھی تین عشرے سے تھے مگر جیسے ہی وہ صدر مملکت کے طور پر منتخب ہوئے ویسے ہی مسلم لیگ (ن) کے عہدے اور مسلم لیگ (ن) کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر کے جماعتی سیاست سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا اور چار سال سے اس پر عمل پیرا بھی ہیں جناب گورنر سندھ اپنے منصب کے آئینی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھیں گے توآئین شکن ’’عطائی نظام‘‘ کے خواہش مندوں کو یہ کہنے کا موقع ضرور دیں گے کہ جب گورنر سیاست کر رہا ہے تو دوسرے آئینی ادارے ’’خراب حکمرانی‘‘ کو ختم کرنے کے لئے اگر اپنی حدود سے تجاوز کر لیتے ہیں تو شکایت کیوں ہوتی ہے؟

جناب گورنر اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی جماعت سے بالا تر ہو کر بہت مفید کام کر سکتے ہیں انکا بنیادی کام تو صوبہ کی حکومت اور صوبہ کے عوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے جو جماعتی سیاست کی نذر ہو رہی ہے اس کا ادراک جناب گورنر کو کرنا چاہئے اور جناب وزیر اعظم کو بھی کرنا ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1