سابق وزیر اعظم کے استقبال کی تیاریاں عروج پر، لاہور سج گیا

سابق وزیر اعظم کے استقبال کی تیاریاں عروج پر، لاہور سج گیا

حبس آلود گرم موسم میں یہاں سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھ گیا ہے، ایک تو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب ہونے جارہا ہے، اس پر خود محمد نواز شریف آج اسلام آباد سے لاہور کے لئے روانہ ہورہے ہیں ان کی آمد ایک قافلے کی صورت میں جی،ٹی، روڈ کے راستے ہوگی ان کے استقبال کی بہت بھرپور تیاریاں کی گئی ہیں، لاہور کو بینروں اور وہ فلیکسز سے سجایا اور بھردیا گیا ہے سابق وزیر اعظم کی تصویروں والے ان فلیکس اور بینروں پر خوبصورت نعرے لکھے ہوئے ہیں، وہ بہر حال دو یاتیں دن میں اپنا سفر مکمل کریں گے اور یہاں مزار برعلی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ پر حاضری دیں گے اور عوام سے مخاطب بھی ہوں گے۔

ان کی آمد سے پہلے ہی پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری لاہور پہنچ گئے، عوامی تحریک کے کارکنوں اور منہاج القرآن کے چاہنے والوں نے ان کا پرجوش اور پر تپاک خیر مقدم کیا ہے وہ گزشتہ روز لاہور آئے ہوائی اڈے پر استقبال کرنے والوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے یہاں ناصر باغ میں جلسہ عام سے بھی خطاب کیا اور داتا گنج بخشؒ کے مزار پر حاضری دی ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بات کی اور مسلم لیگ(ن) کے علاوہ شریف خاندان پر بھی کڑی تنقید کی۔ ان کے خطاب کا مرکزی نقطہ سانحہ ماڈل ٹاؤن تھا اور وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں اور اس کا اظہار بھی کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کا قصاص لیا جائے گا انہوں نے اس سانحہ کے لئے قائم تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ شائع کرنے کا بھی مطالبہ کیا انہوں نے پھر سے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف اور وزیرقانون رانا ثناء اللہ کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ چلانے پر زور دیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری جو کینیڈا میں مستقل طور پر سکونت پذیر اور وہاں کے شہری ہیں وقفے وقفے سے پاکستان آتے اور کچھ وہلچل پیدا کرکے پھر واپس چلے جاتے ہیں، اس بار ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پھر سے کوشش کریں گے کہ حزب اختلاف سے متعلق سیاسی جماعتیں متحد ہو جائیں، اس سے پہلے بھی ایسی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی، ان کا ایک سوال یہ بھی تھا کہ سابق وزیر اعظم عدالت عظمیٰ کے حکم سے نااہل ہوئے، اب وہ احتجاج کررہے اور جلوس بناکر لاہور اپنے گھر آ رہے ہیں، وہ یہ تو بتائیں کہ یہ احتجاج کس کے خلاف ہے اور کیا وہ اس طرح پھر سے وزیر اعظم ہو جائیں گے؟

لاہور میں ان دنوں سابق وزیر اعظم کی خالی نشست120۔ این۔ اے کے ضمنی انتخاب کا بھی شور ہے اس نشست پر پاکستان تحریک انصاف نے سابقہ امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشدہی کو اتارا ہے اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم بھی شروع کردی وہ گھر گھر جاکر پمفلٹ تقسیم کررہی ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد نے شکائت کی ہے کہ اس حلقہ سے مسلم لیگ(ن) کے کارکن ان کی انتخابی مہم میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اور ان کے کارکنوں کو دھمکایا اور ڈرایا جارہا ہے، مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اس کی تردید کی جارہی ہے۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اس نشست کے لئے ابتدائی فیصلہ کے مطابق وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف امیدوار تھے اور فیصلہ ہوا تھا کہ وہ انتخاب جیت کر وفاق میں وزیر اعظم کا حلف لیں گے تاہم اب جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا اور اب کوئی اور مسلم لیگی امیدوار ہوگا، وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف بدستور پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہیں گے کہ بڑے صوبے کو خوبی سے سنبھالا ہوا ہے، اس سلسلے میں باتیں بہت کی جارہی ہیں اور کچھ اختلافات کی بھی اطلاعات ہیں تاہم دونوں بھائیوں میں مثالی تعاون واضح نظر آتا ہے، 10سے12جولائی تک کاغذات نامزدگی داخل ہوں گے تو واضح ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کس کو امیدوار نامزد کرتی ہے۔

ادھر پیپلز پارٹی کی طرف سے ابتدائی طور پر زبیر کاردار کا نام لیا گیا تھا کہ حلقے میں ان کی برادری ہے، تاہم تاحال فیصلہ نہیں ہوا، اب اور بھی نام لئے جارہے ہیں ایک نام فیصل میر کا بھی ہے، یہ بھی کاغذات نامزدگی کے بعد ہی طے ہوگا، البتہ بیگم ناہید خان عباسی نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی (ورکرز) کی طرف سے پرانی کارکن ساجدہ میر کو نامزد کیا ہے جو کاغذات داخل کرائیں گی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن(پرانی سبزی منڈی) کے بعد پیر کی شب آؤٹ فال روڈ پر دھماکہ ہوگیا اور لاہور پھر سے خون میں نہاگیا، سگیاں پل کے قریب سڑک کنارے ایک ٹرک تین روز سے کھڑا تھا جس میں فروٹ لدا ہوا بتایا گیا ، پیر کی شب کو اس میں دھماکہ ہوگیا اور اس کی وجہ سے ایک ہوسٹل کی چھت اور دو مکان بھی گرگئے چالیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تاحال ایک فرد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی ہے، دھماکہ ٹرک میں موجود دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا ہے، جس مقام پر ٹرک کھڑا تھا اور دھماکہ ہوا یہ اس رنگ روڈ(بند روڈ) سے چند میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے ٹریفک گزرتی ہے، یہ بھی پر ہجوم جگہ ہے ، سابق وزیر اعظم نواز شریف موٹروے سے آتے تو ان کا قافلہ بابو صابو انٹر چینج سے بند روڈ پر آکر داتا دربار جانے کے لئے ادھر ہی سے گزرتا، پولیس اور حساس ادارے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات میں مصروف ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1