حوثیوں نے 2014ء میں یمنی صدر کو قتل کرنے کی سازش کی تھی،حکومت

حوثیوں نے 2014ء میں یمنی صدر کو قتل کرنے کی سازش کی تھی،حکومت

صنعاء(این این آئی)یمن میں حوثی باغیوں کے ایک وزیر نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت صنعا میں ستمبر 2014ء میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کے قتل کی شہ دی تھی۔ اس وقت حوثیوں نے صدر ہادی کوان کے گھر پر ہی محصور کردیا تھا مگر وہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق حوثیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت غیر تسلیم شدہ مخلوط حکومت میں کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کے وزیر نے انکشاف کیا کہ انھوں نے حوثی کمانڈر صالح الصماد کو صدر منصور ہادی کو قتل کرنے کی ہدایت کی تھی۔انھوں نے صدر ہادی کے قتل یا انھیں زندہ پکڑنے کا حکم دیا تھا اور پھر انھیں گھر پر نظر بند کردیا گیا تھا۔حسن زید نے کہا کہ میرے سامنے تصویر بڑی واضح تھی کہ ان (صدر ہادی) کی روانگی تباہ کن ثابت ہوگی اور اب یہی کچھ ہورہا ہے۔انھیں ان کے فیس بْک کے صفحے پر ایک صاحب نے ’’حوثی ملیشیا کا عظیم لکھاری ‘‘ قرار دیا ہے۔حوثی وزیر نے مزید کہا کہ انھوں نے ہادی کے استعفیٰ دینے کے بعد صالح صماد سے یہ کہا تھا کہ عبد ربہ کو گھر سے نہ نکلنے دیا جائے اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ اگر تم انھیں قتل کرسکتے ہو تو کردو یا پھرگرفتار کر لو کیونکہ ان کا گھر سے فرار ایک بغاوت اور تباہی سمجھا جائے گا۔ حوثی وزیر نے جب اپنے کمانڈر کو یہ ہدایت کی تھی تو اس وقت ملیشیا اور صدر ہادی کے محافظوں کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔یمنی صحافیوں کی ایک تنظیم ( جرنلسٹ سینڈیکیٹ) کے ایک رکن نبیل الاسیدی نے اس بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حسن زید کی حیثیت ایک بے شرم قاتل کے سوا کچھ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ حسن زید نے صحافیوں اور اغوا کیے گئے سیاسی قیدیوں کو ان مقامات پر قید کرنے کی ہدایت کی تھی جہاں عرب اتحاد کے لڑاکا طیارے بالعموم فضائی بمباری کرتے تھے۔

مزید : عالمی منظر