چلو چلو جی ٹی روڈ چلو

چلو چلو جی ٹی روڈ چلو
چلو چلو جی ٹی روڈ چلو

  

بودی پہلوا ن نے نعرہ لگایا، چلو چلو جی ٹی روڈ چلو، بھولا ہنسا اور بولا، تم مسلم لیگ نون والے پہلے ہی جی ٹی روڈ کی پارٹی کے طور پر مشہور ہو، اب پھر جی ٹی روڈ،بودی پہلوان نے بھولے کی بات کا برا نہیں منایا، مسلم لیگ نون والوں نے بہت عرصے سے بہت ساری بری باتوں کا برا منانا چھوڑ دیا ہے،جواب دیا، جی ٹی روڈ تو پاکستان کا دل ہے، اس کی شہ رگ ہے ،جو جی ٹی روڈ کا دشمن ہے وہ پاکستان کا دوست کیسے ہو سکتا ہے، جی ٹی روڈ پر وہ شہر ہیں جہاں کے باپ اپنے بیٹوں کو سب سے زیادہ مادر وطن پر قربان ہونے کے لئے بھیجتے ہیں، ہمیں ان کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں تو ان کی سیاسی فراست پر کیسے ہو سکتا ہے۔ جی ٹی روڈ کی سیاسی فراست ہی ملک بھر کی سیاسی ٹریفک کو کنٹرول کرتی ہے، جو فیصلہ جی ٹی روڈ کا ہوتا ہے وہ پورے پاکستان کا ہوتا ہے مگر اس کے باوجود مسلم لیگ نون کو جی ٹی روڈ کی پارٹی کیسے کہا جاسکتا ہے کہ کیا جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کے زہریلے پروپیگنڈے کے باوجود وہاں کے رہنے والوں نے پیپلزپارٹی ، قاف لیگ اور تحریک انصاف کی بجائے مسلم لیگ نون کا انتخاب نہیں کیا، بعض حلقے تو ایسے ہیں جہاں ان تینوں جماعتوں کے ووٹوں کو جمع بھی کر لیا جائے تو وہ مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی کے ووٹوں کے برابر نہیں پہنچتے ۔

بھولا نہیں مانا، بولا ، تم ایک نااہل وزیراعظم اور مجرم سیاستدان کی حمایت کر رہے ہو، یہ اداروں کی عزت اور حرمت کے خلاف ہے، تمہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے اور ایک نااہل مجرم کو تنہا چھوڑ دینا چاہئے۔ بودی پہلوان کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کا جیالا ہوا کرتا تھا، اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے، روہانسا ہواکے بولا، بھولے کیا میں اپنی عدالتوں کا وہ فیصلہ بھی مان لوں جس کے تحت ایشیا کے سب سے بڑے سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی، تم انصاف کی بات کرتے ہوتو کیا ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انصاف کیا گیا تھا، کیا جسٹس منیر سے لے کر ارشاد حسن خان تک نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کئے، آج بھی بغض نواز میں مبتلا مٹھی بھروکلا اور جہلاکے سوا کوئی اس فیصلے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، توہین عدالت اپنی جگہ پر سنگین جرم ہے مگرعدالتوں کی جتنی توہین ہماری تاریخ کے بعض فیصلوں نے کی ہے اتنی توہین کا کوئی دوسرا تصور بھی نہیں کر سکتا، تم نے عاصمہ جہانگیر کی گفتگو سنی ہے، کیا اس کا مسلم لیگ نون سے کوئی تعلق ہے،اس کی زندگی تو اینٹی نواز نعرے لگاتے ہوئے گزری ہے، دائیں اور بائیں بازو کی تفریق ختم ہو چکی مگر اس کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف اور عاصمہ جہانگیر کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر یہاں وہ فرق ختم ہو کے رہ گیا ہے۔ تم نے رضا ربانی کی کوئٹہ میں تقریر سنی ہے ، اس کے سیاسی اور جمہوری خیالات کے احترام سے کس طرح چوکا جا سکتا ہے۔ تمہیں جاوید ہاشمی سے بہت سارے اختلافات ہوں گے، وہ تم بھولوں اور تم بھولے اس کی توقعات پر پورے نہیں اترے، سوال یہ ہے کہ وہ جس منصوبے کا بار بار انکشاف کر رہا ہے، اس پر عدالت اسے طلب کیوں نہیں کرتی؟ کیوں جاوید ہاشمی سے سوال جواب نہیں ہوتے، وہ توفوجی عدالت کے سامنے بھی پیش ہونے کے لئے تیار ہے۔

بھولا پھر نہیں مانا، بولا، بودی پہلوان تمہارے لیڈر نواز شریف پر کرپشن ثابت ہو گئی ہے، بودی پہلوان نے اس مرتبہ قہقہہ لگایا، جواب دیا، بھولے اگر نواز شریف پر مے فئیر فلیٹوں کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی ثابت بھی کر دی جاتی تو میں نواز شریف کے ساتھ ہوتا۔ ہمارے ملک میں بار بار لگنے والے مارشل لاوں نے تمام دولت مندوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی دولت ملک سے باہر رکھیں، چاہے وہ کسی دوسرے ملک میں سرمایہ کاری کریں یا ان کے بنکوں میں چھپا دیں مگر یہاں تو کرپشن ثابت ہی نہیں ہوئی، تاریخ کی متنازعہ ترین تحقیقاتی ٹیم بھی کرپشن کے ثبوت نہیں ڈھونڈ سکی، یہ کام پرویز مشرف بھی اپنے پورے دور میں نہیں کر سکا تھا، اب معاملہ نیب کورٹ کو بھیج دیا گیا ہے، اور ہاں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک رائے رکھنے والے بڑے جج کو کسی مقدمے میں نگران بنا دیا گیا ہے لہذا نیب کورٹ کا جج کیا فیصلہ کر ے گا اس بارے سب کو پہلے سے علم ہے۔ میاں نوا ز شریف کو ٹیکنیکل بنیادوں پر نااہل کیا گیا ہے اور اس طرح کی غلطیوں پر تو کلرک تک ملازمت سے محروم نہیں کئے جاتے۔ اگر نواز شریف پر کرپشن ثابت کر دی جاتی تو عین ممکن تھا کہ مسلم لیگ نون کے دس میں ایک ، دو ووٹر کنفیوژ ہوجاتے مگر اب یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ افراد ناگزیر نہیں ہوتے مگر افراد اہم ضرور ہوتے ہیں، افراد اپنے مقام اور کردار سے علامت بنتے ہیں، یہ علامت اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی، سب سے زیادہ ووٹ لینے والے نواز شریف اس وقت عوامی حاکمیت کی علامت ہیں ۔

بھولے نے شائد بابر اعوان کی پریس کانفرنس بھی سنی تھی، تنک کر بولا، اب جی ٹی روڈ پر ڈراما ر چایا جائے گا، لوگوں کو تنگ کیا جائے گا، یہاں امن و امان کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے کہ ایک روز پہلے ہی لاہور کے حلقہ این اے ایک سو بیس میں ٹرک میں دھماکہ ہوا ہے، بودی پہلوان نے بھولے کو ایسے دیکھا جیسے کسی ذہنی مریض کو دیکھتے ہیں، جواب دیا، جب عمران خان نے جشن آزادی مناتے ہوئے لوگوں کو تنگ کرتے ہوئے اپنے آزادی مارچ کا آغاز کیا تھا اور سوا سو دنوں تک اسلام آباد میں ڈیرا لگائے رکھا تھا تو اس وقت یہ دلیل کہا ں تھی۔ اب کبھی عمران خان دھمکا رہے ہیں ، کبھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے اور کبھی طاہر القادری کی طرف سے گیڈر بھبھکیاں دی جا رہی ہیں، دھماکے کی بودی دلیل خود بھولوں کے گلے پڑ سکتی ہے اور بہت سارے سوال پوچھے جا سکتے ہیں ۔یوں بھی مسلم لیگ نون جی ٹی روڈ کی پارٹی ہے تو وہ کون سا قانون ہے جس کے تحت اسے جی ٹی روڈ پر اپنے حامیوں سے رابطے سے کیسے روکا جا سکتا ہے، کیا عدالت عمران خان کے سازشی مارچ کو روک پائی تھی؟

بھولا، بودی پہلوان کو زچ کرنا چاہتا تھا مگر کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا، پھر اسے عمران خان کی پریس کانفرنس یاد آئی، بولا، کیا تم سمجھتے ہو کہ جی ٹی روڈ پر طاقت کے مظاہرے سے نیب اور عدالت کو ڈرایا جا سکے گا، ایک نیا این آر او کیا جا سکے گا، میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ واپس ہوجائے گا، بودی پہلوان نے سرد آہ بھری اور کہا، نہیں، میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ فی الحال ممکن نہیں ہے مگر یہ سب کچھ تو بارہ اکتوبر ننانوے کو لگنے والے مارشل لاء کے بعد بھی ممکن نظر نہیں آتا تھا، اس وقت کا آمر میاں نواز شریف کو عدالت سے اس سے بھی کمزور مقدمے میں موت کی سزا دلانا چاہتا تھا جیسابودا مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بنایا گیا تھا ، میاں نواز شریف کو جلاوطن بھی کر دیا گیا تھا مگر پھر وہی ہوا جو منظور خدا تھا، نواز شریف وطن واپس آئے تو اگلے ہی انتخابات میں ان کی چھپن فیصد پاکستان پر براہ راست حکومت قائم ہو گئی، اگلے عام انتخابات میں وہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے اور یہ سیاسی جدوجہد سے ہی ممکن ہوا۔ اس دور سے پہلے صرف پاکستان کچھ شہروں کے کچھ مخصوص علاقے ہی ترقی، خوشحالی اور جدت کی علامت ہوا کرتے تھے، صرف وہاں کی سڑکیں ہی ہموار، ہسپتال بہترین اور تعلیمی ادارے شاندار ہوا کرتے تھے مگر اب یہ سب عوام کو بھی ملنے لگا ہے، اب لاہور شہر کی سڑکیں لاہور کینٹ سے بہتر ہیں، اب پنجاب کے غریب عوام کے لئے دانش سکول ہیں، اب یہاں کی حکومت ڈینگی کو ایسے مار بھگاتی ہے جس طرح بڑے سے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھی نہیں بھگا سکے۔ اب ہمارے پاس بھی موٹر ویز آ رہی ہیں، اب ہمارے شہروں میں بھی لوڈ شیڈنگ دم توڑ رہی ہے اور اگر جمہوریت برقرار رہی تو انشاء اللہ بہت ایک شاندار پاکستان ہمارے سامنے ہوگا۔ دہشت گردی پہلے کی نسبت اسی سے نوے فیصد کم ہوئی ہے۔میں نواز شریف کے لئے جی ٹی روڈ نہیں جا رہا بلکہ اپنے بچوں کو ایک بہتر پاکستان دینے کے لئے جی ٹی روڈ جا رہا ہوں، تم بھی میرے ساتھ چلو، ترقی کی قوتوں کے ہم سفر بنو، راہ میں روڑے اٹکانے والوں کے نہیں۔

مزید : کالم