وزیر اعظم کا آرٹیکل 62ون ایف میں ترمیم کیلئے سیاسی جماعتوں کیساتھ مشاورت کا فیصلہ

وزیر اعظم کا آرٹیکل 62ون ایف میں ترمیم کیلئے سیاسی جماعتوں کیساتھ مشاورت کا ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن،آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آئین کے آرٹیکل 62ون ایف میں ترمیم کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لیڈر کو سکیورٹی خدشات ہوتے ہیں ، سیاست میں حالات کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے ۔سفارش کا مقابلہ سیاست اور عوامی خدمت سے ہوتا ہے، نواز شریف کو رخصت کرنے پنجاب ہاؤس جاؤں گا۔ خواجہ آصف بہترین وزیر خارجہ ثابت ہوں گے۔ دنیا سے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ کچھ ایسے عناصر ہیں جو ملک کی ترقی نہیں چاہتے، ملک کو نقصان پہنچانے والے معاملے کو سازش ہی کہیں گے، سیاسی جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی بھی ضرورت ہے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزارت عظمیٰ بڑی ذمہ داری ہے یہ پارٹی کا فیصلہ ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں ۔ 29تاریخ کو پارٹی کے اجلاس میں میرے نام کی تجویز نواز شریف نے دی ۔ جس پر سب سے اتفاق کیا۔ نواز شریف میرے اور پارٹی لیڈر ہیں۔ وہی وزیراعظم ہیں مجھے جتنا عرصہ پارٹی کہے گی وزیراعظم رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحیح طرح معاملات کو چلانا ہے تو کابینہ بڑی ہونی چاہئے۔ آئین میں 49وزراء کی گنجائش ہے۔ وزراء میں کمی کا تاثر غلط ہے۔ ایک وزیر کا خرچہ3لاکھ سے بھی کم ہے اورفیصلے اربوں روپے کے کرنا ہوتے ہیں حالانکہ بات اخراجات کی نہیں بلکہ ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار چند منٹوں میں حکومت گئی اور 24گھنٹے میں نئے وزیراعظم کا فیصلہ ہوا کسی کوووٹ دینے کیلئے منتیں نہیں کی گئیں۔ یہ سیاسی نظام اور جمہوریت کی مچیورٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا سیاست میں 30سالہ تجربہ تھا اور ان کے بین الاقوامی دنیا سے تعلقات تھے ان کی موجودگی میں وزیر خارجہ کی ضرورت نہ تھی میرا اتنا تجربہ نہیں خواجہ آصف کی شخصیت کو سمجھتے ہوئے کہتا ہوں وہ کامیاب وزیر خارجہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر ملک سے تعلقات کو بہتر کرنا ہے چین کے ساتھ جو تعلقات ہیں اس کی کوئی مثال نہیں جبکہ روس اور امریکہ سے تعلقات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے تعلقات کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری ہے اور اس میں بھی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پٹرولیم کو انرجی میں ضم کر کے ایک ہی وزارت بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری نثار علی خان کیساتھ30سال سے تعلقات ہیں ۔ انہوں نے میرے نام پر سب سے پہلے تائید کی اور کہا کہ وہ اعلان کر چکے ہیں کہ کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے لیکن جہاں ان کی ضرورت ہوئی وہ موجود ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قطر سے ایل این جی منصوبے پر الزامات پرانے ہیں جبکہ انرجی کے مسئلے کا کوئی دوسرا حل نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ قطر سے ٹھیکہ دنیا کے لانگ ٹرم کنٹریکٹس میں سب سے کم قیمت پر ہے۔ جسے دنیا نے بھی تسلیم کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے نیب کو خود خط لکھا ہے کہ ایل این جی منصوبے پر کسی افسر کو تنگ نہ کریں میں خود اس کا ذمہ دار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ جب میں سیاست میں آیا تو میرے اثاثے کئی گناہ زیادہ تھے آج بہت کم ہیں اوریہ حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کا کام محنت طلب ہے جس کے بعد آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور سکون کی نیند اپنے ہی گھر میں آتی ہے۔ اس لئے وزیراعظم ہاؤس کی بجائے اپنے گھر میں رہنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے شروع کئے گئے کاموں کو آگے بڑھانا ہماری ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف احتجاج پر نہیں گھر جا رہے ہیں۔ وہ میرے لیڈر ہیں جب وہ چلیں گے تو پنجاب ہاؤس جاؤں گا۔ اس کے بعد جو وہ کہیں گے ویسا ہی کروں گا کیونکہ انہیں بھی وزارت عظمیٰ کی مصروفیات کا علم ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سکیورٹی خدشات ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انہیں حل کرنا ہوتا ہے سیاست میں رہتا ہے تو ان حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سازشوں کا مقابلہ سیاست اور عوامی خدمت سے ہوتا ہے جو جتنا بڑا لیڈر ہوتا ہے اتنے ہی سکیورٹی خدشات ہوتے ہیں جبکہ تنقید کرنے والے اپنی حکومتوں کا ایک کارنامہ بتا دیں ۔ انہوں نے کہا کہ سازش وزیراعظم کو کرسی سے ہٹانے کی تھی جو آج کرسی پر نہیں رہے ایسی سازش ملک کے خلاف سازش ہی ہوتی ہے جس معاملے سے ملک کا نقصان ہو اسے سازش ہی کہیں گے۔ ملک کے اندر اور باہر ایسے عناصر ہیں جو ملک کی ترقی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کی طرح کا ایک اور معاہدہ میثاق معیشت ہونا چاہئے اور اس کے لئے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے کیونکہ گالی گلوچ کی سیاست کو لوگ پسند نہیں کرتے جبکہ سیاست پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنا لیڈر کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کریں گے۔ اور جس آئینی ترمیم کی ضرورت ہو اس پر غور کریں گے۔ آئین کے آرٹیکل 62ون ایف پر ابہام ہے۔ اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ا نہوں نے کہا کہ نومبر2017ء کے بعد ملک میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ نومبر میں پھر بات ہو گی۔ اس وقت کچھ آپریشنل معاملات ہیں جبکہ بجلی کے منصوبوں میں خواجہ آصف نے بہت محنت کی اور توانائی کے مسئلے کو حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلحہ لائسنس کے خاتمے کی رائے میری ذاتی تھی اوراب بھی کہتا ہوں کہ عام آدمی کے پاس آٹومیٹک اسلحہ کا لائسنس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ امریکہ جیسے ملک میں بھی آٹومیٹک اسلحے کے لائسنس کی اجازت نہیں ہے اور اس لعنت کے خاتمے کیلئے پارلیمینٹ سے بات کروں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے احکامات پر عمل کرنا حکومت کا کام ہے وزیر اعظم کی نا اہلی کا حکم فوراً تسلیم کیا گیا اور اگر مشرف کے خلاف عدالت کا کوئی حکم ہے تو اس پر بھی عمل ہو گا۔قبل ازیں توانائی کے شعبے سے متعلق اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پانی کا تحفظ حکومت اور عوام کیلئے اہم ہے اور پانی کے وسائل سے متعلق امور کے حل کیلئے علیحدہ وزارت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی اور پٹرولیم ڈویژنز تھرمل پاور کے استعمال کم کرنے کیلئے روڈ میپ تشکیل د ینے کیساتھ ساتھ تھر کے کوئلے کے ذخائر کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ٍوزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ توانائی اور پٹرولیم ڈویژنزقدرتی گیس اور مقامی کوئلے سے توانائی کی پیداوار پر توجہ دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے متوازن وسائل استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور روشن پاکستان کا قیام ہمارا عزم ہے لہٰذاپانی ذخیرہ کرنے کیلئے منصوبہ بندی تیز کی جائے۔ اس موقع پر توانائی اور پٹرولیم کے سیکرٹریز نے توانائی منصوبوں اور لوڈمینجمنٹ پلان پر بریفنگ دی۔

شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (آئی این پی،آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آپریشن رد الفساد اور خیبر 4 میں مسلح افواج کا کردار قابل تحسین ہے،سکیورٹی فورسز نے مادر وطن سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دی ہیں جو پوری قوم کیلئے قابل فخر ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک فوج کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے انسداد دہشت گردی میں مسلح افواج کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ردالفساد اور خیبر فور میں مسلح افواج کا کردار قابل تحسین ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں پوری قوم کیلئے قابل فخر ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے مادر وطن سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دیں۔ دریں اثناء وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی ملاقات کی، ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم/ملاقاتیں

مزید : صفحہ اول