سکیورٹی اداروں کا کلیئرنس سے انکار ، نواز شریف کی آج لاہور روانگی ، زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے ، نیت قضا نہیں ہو گی : سابق وزیر اعظم

سکیورٹی اداروں کا کلیئرنس سے انکار ، نواز شریف کی آج لاہور روانگی ، زندگی ...

اسلام آباد ،لاہور(آن لائن) سابق وزیراعظم نوازشریف (آج)بدھ کوبذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور روانہ ہونگے،سکیورٹی اداروں نے کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا،وفاقی وزارت داخلہ اور حساس اداروں کی نوازشریف سے موٹر وے کا راستہ استعمال کرنے کی درخواست، اسلام آباد اورجی روڈ کے روٹ پر خیرمقدمی بینرآویزاں، لاہور میں ہیلی کیم اورڈرون کیمرے چھوڑنے پرپابندی ہوگی جبکہ سرچ آپریشن کے دوران 20مشکوک افراد گرفتارکرلیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی کے موقع پر راولپنڈی آمد اور عوام کی جانب سے استقبال کے شیڈول کو حتمی شکل دے دی اس موقع پر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کیلئے 16کنٹرول روم اور چار ہیلی پیڈ قائم کردئیے ہیں جبکہ سیکورٹی کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کے تحت نوازشریف کے براستہ فیض آباد راولپنڈی داخلے سے قبل بم ڈسپوزل سکواڈ ،سراغ رساں کتوں اور سکینرز کے ذریعے جلوس کے تمام راستوں کی سکینگ کی جائے گی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی لاہور روانگی پر سیاسی طاقت کے بھرپور مظاہرہ کیلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم قافلے کی صورت میں بدھ کی صبح 9بجے پنجاب ہاؤس سے ڈی چوک جائینگے، لیگی کارواں بلیو ایریا، زیرو پوائنٹ سے ہوتا فیض آباد پہنچے گا۔ فیض آباد سے نواز شریف مری روڈ سے راولپنڈی میں داخل ہونگے، لیگی قافلہ مری روڈ سے گزرتا ہوا راولپنڈی کچہری اور پھر روات جائیگا، روات سے نواز شریف ساتھیوں اور کارکنوں کے ساتھ لاہور جائیں گے۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی سے روانگی کے بعد نوازشریف کا جلوس پہلا قیام جہلم میں کرے گا جہاں امکان ہے کہ نوازشریف مقامی ایم این اے کے گھر پڑاؤ کرینگے نوازشریف کی قیادت میں جلوس کے موقع پر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی سروس1122کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جس کے تحت ریسکیو 1122کی 16 گاڑیاں 33ایمبولینس 3فائر بریگیڈ اور 150سے زائد ریسکیو رجلوس کے ہمراہ ہونگے ذرائع کے مطابق کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 4ہیلی پیڈ قائم کردئیے گئے ہیں جس کیلئے راولپنڈی کے چار بڑے تعلیمی اداروں کو سٹینڈ بائے کردیا گیا ہے اسی طرح راولپنڈی کے تینوں بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں ،نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو ڈیوٹی پر موجود رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی ریلی کو جلد منزل پر پہنچانے کی کوشش کی جائیگی جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں سے ریلی کے راستے میں گڑبڑ نہ کرنے کی یقین دہانی لی جائیگی اورجی ٹی روڈ پر واقع پی ٹی آئی کے دفاتر کو بند رکھا جائیگا۔ادھر محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق سکیورٹی کلیئرنس کے بعد نواز شریف کو گاڑی سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی، ذرائع کے مطابق نوازشریف کو بلٹ پروف گاڑی میں لاہور لایا جائیگا، وہ لاہور آمد کے بعد داتا دربار پر حاضری دیں گے اور اہم خطاب بھی کریں گے۔ مال روڈ سمیت مختلف شاہراہوں پر قیادت کی تصاویر والے ہورڈنگز، خیر مقدمی بینرز اور فلیکسز بھی آویزاں کر دیے گئے ہیں۔صوبائی محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے ریلی کے راستوں پر پولیس کے مسلح اہلکار اور نشانہ باز چھتوں پرتعینات ہوں گے،سیکورٹی خدشات کے پیش نظر فضامیں ہیلی کیم، ڈرونزکیمرے اورغبارے چھوڑے پر پابندی عائد کردی گئی، سیکریٹری داخلہ پنجاب کی جانب سے ریلی کی آمد کے موقع پر دفعہ144کا نفاذ ہوگا،نوازشریف کی لاہورآمد سے قبل لاہور میں پولیس نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 20مشکوک افرادکو حراست میں لے لیا۔دوسری جانب وفاقی وزارت داخلہ اور قومی سلامتی کے خفیہ اداروں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جانے کو سیکورٹی رسک قرار دیدیا اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ موٹر وے کا راستہ ہی استعمال کریں ۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پنجاب ہاؤ س اسلام آباد میں نوازشریف سے ملاقات کی جس کے دوران لاہور روانگی کے شیڈول پر مزید غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق احسن اقبال نے وفاقی ایجنسیوں کی جانب سے جی ٹی روڈ کی سیکورٹی رپورٹ نوازشریف کو پیش کی، ذرائع کا کہنا ہے وفاقی ایجنسیوں نے سابق وزیر اعظم کو جی ٹی روڈ پر سفر نہ کرنے کی تجویز دیتے ہوئے خبردار کیا کہ شرپسند عناصر سابق وزیر اعظم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تاہم نواز شریف نے رپورٹ مسترد کر دی، نواز شریف بضد ہیں کہ وہ جی ٹی روڈ کا روٹ ہی استعمال کریں گے جس کی وجہ سکیورٹی اداروں کو ان کی حفاظت کے لیے غیر معمولی انتظامات کرنا ہونگے۔

لاہور روانگی

اسلام آباد(آن لائن)زندگی اورموت اللہ کے اختیار ہے ،نیت کرلی ہے قضانہیں ہوگی،سابق وزیراعظم نے جی ٹی روڈپرنہ جانے کے مشورہ پرشہبازشریف ،چوہدری نثاراوراحسن اقبال کو کوراجواب دیدیاہے ۔منگل کوسابق وزیراعظم نوازشریف کوجب مشورہ دیاگیاکہ جی ٹی روڈکے ذریعے جانے سے دہشت گردی کاخطرہ ہوسکتاہے تواس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جونیت کرلوں پھرقضانہیں کرتا۔زندگی اورموت اللہ کے اختیار ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے گھر بھیج دیا گیا،یہ حالات اور یہ فیصلہ بہت کچھ بتا رہا ہے لیکن کبھی نہیں چاہوں گا کہ انتشار پھیلے۔کیا عوام کے ووٹ کو اسی طرح دھتکارا جاتا رہے گا؟ وزیر اعظم کو ذلیل و رسوا نہیں کرنا چاہئے، پاکستان کے 18وزرائے اعظم میں سے کوئی بھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا ، یوسف رضا گیلانی کا معاملہ نااہلی تک نہیں جانا چاہیے تھا، اپنی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں لیکن اس سے اختلاف بھی ہے، مشرف کو ہم نے باہر نہیں بھیجا ، مشرف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ عدالتوں نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ریفرنسز نیب کو بھیجے گئے ہیں اور پہلی مرتبہ نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا ہے، جج صاحب اپنی مرضی کا ٹرائل کروا کر فیصلہ دلوائیں گے،فیصلے کے بعد اپیل بھی ان ہی جج صاحب کے پاس جائے گی۔منگل کے روز پنجاب ہاوس اسلام آباد میں غیر ملکی میڈیا اور کارکنوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ملک کی قیام سے اب تک 18وزرائے اعظم گزرے لیکن ایک کو بھی آئینی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی۔ملک میں جمہوریت اور پالیسیوں کا تسلسل نہ رہا تو پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یوسف رضا گیلانی کا معاملہ نااہلی تک نہیں جانا چاہیے تھا۔ اپنی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں لیکن اس سے اختلاف بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے پہلی مرتبہ صدر نے نکالا، دوسری مرتبہ ڈکٹیٹر نے ہائی جیکر بنا دیا اور تیسری مرتبہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر عدلیہ نے مجھے نکال دیا۔ اب نیب میں پہلی مرتبہ نجی کاروبار کا ریفرنس تیار کیا جارہا ہے۔معاملہ آج کا نہیں، میرے اسکول کے دور کا ہے۔1973 میں میرے والد نے بیرون ملک جاکر سرمایہ کاری کی۔انہوں نے کہا کہ مجھے لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ جے آئی ٹی میں نہ جائیں، وزیراعظم کے دفتر کے وقار پر سمجھوتہ نہ کریں،میں نے کہا کہ پیچھے ہٹا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے۔ ایک سوال پرسابق وزیر اعظم نے کہا کہ پرویز مشرف کو ملک سے بھیجنے کا فیصلہ ہمارا نہیں عدلیہ کا تھا،انہوں نے کہا کہ مشرف کو ہم نے باہر نہیں بھیجا ، مشرف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ عدالتوں نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ریفرنسز نیب کو بھیجے گئے ہیں اور پہلی مرتبہ نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا ہے، جج صاحب اپنی مرضی کا ٹرائل کروا کر فیصلہ دلوائیں گے،فیصلے کے بعد اپیل بھی ان ہی جج صاحب کے پاس جائے گی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ خطے کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ ان تمام سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے ہوں گے، جمہوری تسلسل کے بغیر پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا، پاکستان میں لولی لنگڑی جمہوریت نہیں ہونی چاہیے، آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے، جو کچھ پاکستان میں ہوتا ہے وہ پوری دنیا میں نہیں ہوتا، خطے کا امن افغانستان میں امن سے منسلک ہے،18وزرائے اعظم میں سے کوئی بھی اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔

مزید : صفحہ اول