سعودی نوجوان نے ’’تیل کے ڈرموں‘‘کو فرنیچر میں تبدیل کر دیا

سعودی نوجوان نے ’’تیل کے ڈرموں‘‘کو فرنیچر میں تبدیل کر دیا
سعودی نوجوان نے ’’تیل کے ڈرموں‘‘کو فرنیچر میں تبدیل کر دیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک)عربی کے ایک محاورے کا مفہوم ہے کہ "کبھی کوئی نقصان فائدہ مند بھی ثابت ہو جاتا ہے"۔ یہ بات الخرج سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ نوجوان علی محمد پر صادق آتی ہے۔ تعمیرات اور بھاری ساز و سامان کے سیکٹر میں مندی کے بعد علی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے پاس باقی رہ جانے والی چیزوں سے کس طرح فائدہ اٹھائے اور ان کو اس طرح سے دوبارہ استعمال میں لائے جو ماحولیات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت نہ ہو۔علی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اْس کے پاس تیل کے ڈرموں کا انبار لگا ہوا تھا جن میں موجود تیل اْس کے سابقہ کام میں استعمال ہوتا تھا۔ علی کا کہنا ہے کہ "میں خالی ڈرموں کو اسکریپ کے طور پر فی عدد 5 ریال میں فروخت کر رہا تھا مگر اس سے حاصل ہونے والی کْل رقم 1000 ہزار ریال سے زیادہ نہیں بنتی۔ لہذا میرے ذہن میں خیال آیا کہ ان ڈرموں کو خوب صورت فرنیچر کی شکل دے دی جائے۔ میں نے اس کے نمونے تیار کیے اور اس خیال کو کامیاب پایا"۔علی نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت تجرباتی طور پر سامنے آئی ہے ۔

اور اس نے پانچ مختلف شکلوں میں 10 عدد فرنیچر کی اشیاء تیار کی ہیں۔ ان میں کیفیٹیریا میں بیٹھنے کا فرنیچر خاص طور پر شامل ہے۔اس ہونہار سعودی نوجوان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے منصوبے میں دو امور کوالٹی اور جمالیاتی صورت پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ ان منفرد مصنوعات پر بیرونی عوامل مثلا دْھوپ ، بارش اور زنگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ ایسے طریقے سے تیار کی گئیں ہیں کہ انہیں استعمال کرنے والا بآسانی منتقل بھی کر سکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4