عدالیہ نے پاکستان کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہر ادارے کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا : چیف جسٹس

عدالیہ نے پاکستان کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہر ...

کوئٹہ (آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کوکمزور کرنے کی سازش ہے‘ عدلیہ نے پاکستان نے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ادارے کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا‘ پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے اگر ہم نے اس طرح سازش کو کامیاب ہونے دیا تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کچھ نہیں دے پائیں گے‘ عدالتوں کی سکیورٹی کیلئے وزارت داخلہ سے رابطے میں ہیں‘ زندگی انمول ہے اس لئے زندگی کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ منگل کو بلوچستان بار کونسل کے زیر اہتمام سانحہ کوئٹہ کی پہلی برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زندگی انسان کے لئے سب سے انمول تحفہ ہے۔ سانحہ کوئٹہ میں شہید وکلاء ایک جذبہ پیدا کرگئے ہیں۔ شہداء نے قربانی دے کر ایک مثال رقم کی ہے۔ جانے والوں کو بھول نہیں سکتے ماتم کیا ہوتا ہے زندگی میں پہلی بار 8اگست کو دیکھا۔ جو چلے جاتے ہیں وہ بھلائے نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی اﷲ کا بڑا تحفہ ہے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں سانحہ کوئٹہ کی مذمت کرسکوں یا تعزیت کرسکوں۔ بار اور بنچ ایک جسم کے دو حصے ہیں وکیل بننے کے لئے بڑا وقت لگتا ہے بلوچستان بار کو اپنی نظر میں مفلوج پارہا ہوں۔ ڈگری حاصل کرنے سے وکالت نہیں آتی وکیل بننے کے لئے تجربہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے اگر ہم نے اس سازش کو کامیاب ہونے دیا تو ہم آنے والی نسل کو کچھ نہیں دے پائیں گے۔ کوئٹہ کا واقعہ میری برادری کے ساتھ پیش آیا لیکن یہ واقعہ اکیلا نہیں ہے یہ پاکستان قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ساری قوم کو ہمت سے لڑنی ہے۔ ہر آدمی نے اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تخلیق دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی۔ سرسید نے اخذ کیا کہ مسلمان تعلیم میں کمی کی وجہ سے پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نہیں چاہتا کہ پاکستان خوشحال ہو دہشت گردی کے محرکات لمبی بحث ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ہر ادارے کو حصہ ڈالنا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کورٹس کی سکیورٹی کو ماڈرن لائنز پر استوار کرنا آج وقت کی ضرورت ہے عدالتوں کی سکیورٹی کیلئے وزارت داخلہ سے رابطے میں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ خوش آئند ہے کہ دہشت گردی میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ بلوچستان میں سانحے کے شہداء اور اہل خانہ سے متعلق مسائل ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ جانے والے آ نہیں سکتے لیکن اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے ہونگے کوینکہ ہر انسان کی زندگی ضروری ہے انسان کی زندگی کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول