سانحہ ماڈل ٹاؤن : ایف آئی آراور استغاثہ میں متعدد تضادات کا انکشاف

سانحہ ماڈل ٹاؤن : ایف آئی آراور استغاثہ میں متعدد تضادات کا انکشاف

لاہور(کامران مغل)سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیرسماعت ادارہ منہاج القرآن کے ڈائریکٹر ایڈمن محمد جواد حامد کی طرف سے دائر استغاثہ اور ان کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کئی تضادات سامنے آئے ہیں ۔جون 2014ء میں وقوعہ کے فوراً بعد ایس ایچ او تھانہ فیصل ٹاؤن کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ادارہ منہاج القرآن کے کارکنوں سمیت59لوگوں کو ملزم نامزد کیا گیا اور ان میں سے 52موقع پر گرفتا رہوئے تاہم ادارہ منہاج القرآن نے اس ایف آئی آر کو ماننے سے انکا رکردیا اور لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے ۔لاہور ہائی کورٹ کے حکم پرادارہ منہاج القرآن کے ڈائریکٹرایڈمن محمد جواد حامد کی مدعیت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری ایف آر درج کی گئی جس میں 24افراد کو نامزد کیا گیا اور مقتولین کی تعداد8بتائی گئی جبکہ 15مارچ 2016ء کو محمد جواد حامد نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں استغاثہ دائر کردیا جس میں مقتولین کی تعداد 10بتائی گئی جبکہ 139لوگوں کو ملزم نامزد کردیا گیا ۔اسی طرح جواد حامد نے ایف آئی آر میں چشم دید گواہوں کی تعداد 57بیان کی جبکہ استغاثہ میں یہ تعداد 127کر دی گئی ،اسی طرح ایف آئی آر میں زخمی افراد کی تعداد53جبکہ استغاثہ میں یہ تعداد 66ظاہر کی گئی ۔استغاثہ میں میاں محمد نوازشریف ،میاں شہباز شریف ،رانا ثنا ء اللہ ،خواجہ آصف ،خواجہ سعد رفیق ،چودھری نثار ،پرویز رشیداور عابد شیر علی کو اعانت مجرمانہ کا مرتکب قرار دیا گیا تاہم ابھی تک عدالت میں ایسا کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا جس نے ان لوگوں کو کوئی سازش تیار کرتے ہوئے دیکھا ہو ۔محمد جواد حامد کی طرف سے عدالت میں کوئی کال ڈیٹا بھی پیش نہیں کیا گیا ۔علاوہ ازیں اس حوالے سے درخواست گزار الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نشر اور شائع ہونے والی خبروں کا ریکارڈ پیش کرنے میں بھی ناکام رہا ہے ۔صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں 16جون 2014ء کو ہونے والے اجلاس کا ذکر تو استغاثہ میں موجود ہے لیکن اس اجلاس کا ایجنڈا تاحال عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا۔میاں محمدنوازشریف اور میاں شہبازشریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے کسی سیاسی راہنماکا میڈیا پرآنے والاکوئی ایسا بیان بھی مستغیث عدالت میں پیش نہیں کرسکا جس سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے کوئی اشارہ ملتا ہو۔منہاج القرآن کے ڈائریکٹرایڈمن محمد جواد حامد نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کے انکوائری ٹربیونل کی رپورٹ بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں طلب کرنے کی درخواست کی تھی جو مسترد کردی گئی ۔بعدازاں جواد حامد نے اس بابت لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو لاہور ہائی کورٹ نے بھی 5دسمبر2016ء کو ان کی درخواست مسترد کردی تھی ۔علاوہ ازیں اعلیٰ عدالتیں متعدد مقدمات میں قرار دے چکی ہیں کہ انکوائری ٹربیونل یا انکوائری کمشن کی رپورٹ کو عدالتوں میں شہادت کے طورپر پیش نہیں کیا جاسکتا ۔اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں قرار دیا جاچکا ہے کہ اگر استغاثہ میں کسی کو ہراساں کرنے اور انتقام کا کوئی امکان ہوتو متعلقہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بے گناہ شخص طویل عرصہ تک قانون کے پچیدہ عمل کی آزمائش کا شکار نہ ہو ۔اعلیٰ عدالتیں یہ بھی قرار دے چکی ہیں کہ غیرسنجیدہ اور پریشان کن استغاثہ کو آغاز ہی سے دفن کیا جانا ضروری ہے ۔جوادحامد نے وقوعہ کے ایک سال 9ماہ بعد استغاثہ دائر کیا اس بابت اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی ایسی نظائر موجود ہیں کہ یہ تاخیر ایک طرف صداقت اور سچائی میں شکوک وشبہات پیدا کرتی ہے جبکہ دوسری طرف جھوٹ گھڑنے کا امکان پیدا ہوتا ہے ۔انسداد دہشت گردی عدالت نے میاں محمد نوازشریف اور میاں شہباز شریف سمیت ایسے مدعا علیہان کو تاحال طلب نہیں کیا ہے جن پر استغاثہ میں سازش مجرمانہ کا الزام ہے ،اس کی وجہ یہ سامنے آتی ہے کہ اعلیٰ عدالتیں حکم جاری کرچکی ہیں کہ جہاں پر تاخیر کی کوئی معقول وجہ نہ ہو اور پیش کردہ مواد ناکافی ہو تو عدالت ملزموں کے خلاف سمن جاری نہ کرنے میں حق بجانب ہوگی ۔علاوہ ازیں یہ بات بھی استغاثہ کی کمزوری کی نشاندہی کر رہی ہے کہ علامہ طاہرالقادری سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت پاکستان میں موجود نہیں تھیجبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر استغاثہ میں انکے قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

مزید : صفحہ اول