ٹیکسوں کے بوجھ نے رئیل اسٹیٹ کاروبار کی کمر توڑ کر رکھ دی ، رفیق حسرت

ٹیکسوں کے بوجھ نے رئیل اسٹیٹ کاروبار کی کمر توڑ کر رکھ دی ، رفیق حسرت

لاہور(اپنے نمائندے سے) لاہور پریس کلب میں فیڈریشن آل پاکستان رئیل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر میجر ریٹائرڈ رفیق حسرت نے دیگر عہداداران محمد آصف ،شفقت بندیشہ اور محمد طاہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ،ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں کے بوجھ نے رئیل اسٹیٹ کاروبار کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے گزشتہ سال حکومت کی جانب سے عائد کئے جانے والے ٹیکسز کو خوش دلی سے قبول کیا گیا تھا حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ مالی سال میں اس شعبے کو ریلیف فراہم کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ،میجر ریٹائرڈ رفیق حسرت نے کہا کہ ٹیکسوں کی شرح کم ہونے سے کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے اور اورسیز پاکستانی ملک میں زیادہ سرمایہ کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کے باعث حکومت ریونیو میں نمایاں کمی آرہی ہے لہذا آئندہ تین سال کے لئے رئیل اسٹیٹ پر عائد ٹیکسز کو مجمند کیا جائے شفقت بندیشہ نے کہا کہ امید ہے حکومت ہمارے مسائل حل کرے گی،ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان معاشی مسائل اور بدحالی کا شکار ہو کر دفتر بند کررہے ہیں ٹیکس آئندہ تین سال کے لئے منجمند کر دیئے جائیں تو رئیل اسٹیٹ کا شعبہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکے گا ،پراپرٹی بزنس سے وابستہ افراد کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے فیدریشن آ ف رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لا یا گیا ہے اسلام آباد میں سات اگست کو ہونے والے اجلاس میں عہداداروں کا انتخاب کیا گیا ،ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر میجر ریٹائرڈ محمد رفیق حسرت کو فیڈریشن کا صدر منتخب کیا گیا ہے ،سنیئر نائب صدر ارشد (اسلام آباد )،اسلم دلاور (پشاور)،محمد فیضان (بلوچستان)اور بشیر میمن (سندھ )کا بھی انتخاب کیا گیا لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر ریٹائرڈ رفیق حسرت نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ڈی سی اور فی مربع فٹ ریٹس میں اضافہ کر دیا ہے ،ایف بی آر بھی ریٹ بڑھانے کی تیاری کررہا ہے اس اضافی بوجھ کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اگر کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں روزانہ 100فائلز ٹرانسفر ہوتی تھیں تو اب 25رہ گئیں ہیں نئے لوگ پراپرٹی بزنس میں نہیں آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میں اہم کردار رکھنے والا یہ شعبہ مسلسل زوال کی جانب گامزن ہے حکام کو احساس کرنا چاہئے کہ ٹیکس پالیسی کی وجہ سے حکومتی ریونیو نمایاں کمی آئی ہے ٹیکسوں کی شرح کم ہونے سے کاروبار میں 75فیصد اضافہ ہوتا ،سرمایہ گردش میں رہتا ،خرید و فروخت ہی نہیں ہوگی تو حکومت کو محاصل کہاں سے حاصل ہو ں گے۔

مزید : صفحہ آخر