لسانیت، صوبائیت ختم کر کے اتحاد کی فضا پیدا کریں گے،سیف اللہ خالد

لسانیت، صوبائیت ختم کر کے اتحاد کی فضا پیدا کریں گے،سیف اللہ خالد

لاہور( ایجو کیشن رپورٹر ) ملی مسلم لیگ پاکستان کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا ہے کہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر علاقائیت، لسانیت اور صوبائیت ختم کر کے ملک میں اتحاد کی فضا پیدا کریں گے۔ہم نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے‘ کے تحت نوجوان نسل کی تربیت کرنا چاہتے ہیں۔ ملی مسلم لیگ کا بنیادی ڈھانچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔پارٹی دستو ر کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ملی مسلم لیگ ملک میں عمومی سیاست سے ہٹ کر عوامی خدمت اور اخلاقیات کی سیاست کرے گی۔حکمرانوں و سیاستدانوں نے جدوجہد آزادی کشمیر کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ملی مسلم لیگ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کیخلاف جاری سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے پاکستانی قوم کے تعاون سے بھرپور کردارادا کیا جائے گا ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’ملی مسلم لیگ‘‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا مقصد پاکستان کوحقیقی معنوں میں ایک اسلامی، رفاہی وفلاحی ملک بنانا اور وطن عزیز کو درپیش مسائل کا حل بہتر انداز میں تلاش کرنا ہے۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت سے تخریب کاری و دہشت گردی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اتحادو یگانگت کا ماحول نہیں ہے اور دشمن وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت ایک خلا کی کیفیت ہے جسے پر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین میں کتاب وسنت کو بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہے لیکن دیکھا جائے تو پاکستان میں آج اس کی عملی شکل نظر نہیں آتی۔سود کی شکل میں اللہ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے آئین میں یہ بات طے ہے کہ اس ملک کے منتخب نمائندے، حکمران اور سیاستدان صادق اور امین ہونے چاہئیں مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاستدانوں کی جانب سے اپنی اصلاح کی بجائے آئین کی دفعہ 62، 63کو ہی سرے سے ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔یعنی اقتدار پر قابض بعض لوگ کرپشن کو قانونی حیثیت دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہم آئین پاکستان کی روشنی میں اس ملک کو لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا اور پسے ہوئے طبقات کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر