پاکستان کرپشن کیخلاف جنوبی ایشیا میں رول ماڈل سمجھا جاتا ہے،،چیئرمین نیب

پاکستان کرپشن کیخلاف جنوبی ایشیا میں رول ماڈل سمجھا جاتا ہے،،چیئرمین نیب

اسلام آباد (صباح نیوز)چیئرمین نیب قمرالز مان چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کرپشن کے خلاف اپنی کوششوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں ایک رول ماڈل سمجھا جاتا ہے، چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی صدارت میں ملک میں ٹرانسپرنسی رپورٹ کا جائزہ لینے کے حوالے سے نیب ہیڈکوارٹر میں اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی کوششوں سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی 9 پوائنٹس بہتری ملک کے لئے ایک اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرپشن کے خلاف اپنی کوششوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں ایک رول ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں 2013ء کے بعد کرپشن کے خلاف نیب کی موجودہ انتظامیہ کے اقدامات کی وجہ سے بدعنوانی میں کمی آئی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے علاوہ دوسرے اہم اداروں نے بھی پاکستان میں کرپشن کی کمی کا اعتراف کیا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ہمارا ادارہ پاکستان کو کرپشن سے پاک ملک بنانے کے لئے پرعزم ہے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے عوام میں آگاہی مہم اور انسداد بدعنوانی قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے آگے بڑھا جا رہا ہے۔ نیب کو اپنے اوپر موجود بوجھ کا اندازہ ہے جس کی وجہ سے موثر انداز میں 10 ماہ کی مدت کے اندر کیسوں کو نمٹایا جا رہا ہے۔ وائٹ کالر کرائمز کے کیسوں کی تفتیش ایک چیلنج ہے۔ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام بھی بنایا ہے تاکہ سینئر سپروائزری آفیسرز کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ نیب سمجھتا ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجز کے اندر طلبا کو کرپشن کی خرابیوں سے آگاہی دے کر موثر انداز میں اس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں 42 ہزار سے زائد کریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز (سی بی ایس) قائم کی جا چکی ہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ 2017ء کے آخر تک 50 ہزار سی بی ایس قائم کی جائیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کے ریجنل دفاتر ہمارا اصل ہتھیار ہیں جو نیب کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمام آفیسرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور شفاف انداز سے ادا کریں۔

مزید : صفحہ آخر